ڈاکٹر نائیک اسلامی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں
ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب سے ایک سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا تھا۔ لیکن ملازمت کی مصروفیت کی وجہ سے ان کا کوئی بھی سیشن اٹینڈ نہ کر سکا۔ سوال (دنیا کا کوئی بھی مذہب برائی کی تبلیغ نہیں کرتا۔ جبکہ اسلامی معاشروں نے برائیوں میں تمام دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے تو پھر اسلام کو سچا اور آفاقی مذہب کیوں مانا جائے ) ۔
آپ تمام پرانے مذاہب یا عیسائیت، ہندو ازم، مسلمانوں کے آئین قرآن مجید، تورات، زبور یا بدھ مت تک کا مطالعہ کریں تو آپ کو کسی بھی مذہب کے پیشوا برائی کی تبلیغ کرتے ہوئے نظر نہیں آئیں گے۔ چوری، زنا، ڈاکا، جسم فروشی کی کسی بھی مذہب میں اجازت نہیں ہے۔ جبکہ مسلم معاشروں میں برائی زیادہ پائی جاتی ہے۔ مسلم معاشروں میں برائی کی شرح باقی معاشروں کے مذاہب کی نسبت زیادہ ہے۔ وجہ کیا ہے؟
ہمارے علمائے کرام کو وجہ کا تو نہیں پتا لیکن اس کا جواب وہ یہ دیتے ہیں کہ اسلام کی اچھائیوں کو یورپ اور دوسرے مذاہب نے اپنا لیا ہے۔ قرآن کی تعلیمات کو اپنا لیا ہے اور وہ ترقی کر رہے ہیں۔ یہ ایک نہایت بودی دلیل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے کبھی دوسرے مذاہب کی تعلیمات کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔ اگر کبھی مطالعہ کیا بھی ہے تو صرف اس نظریے کے ساتھ کہ ان کو نیچا دکھایا جا سکے۔ دنیا کے تمام مذاہب اچھائی کی تبلیغ کرتے ہیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اسلامی سکالرز اور علماء کرام اسلام کو سب سے اعلیٰ، ارفع اور خدائی مذہب قرار دیتے ہیں۔ تو پھر یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں کہ برائیاں سب سے زیادہ کیوں ہیں، ترقی کی رفتار سب سے کم کیوں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسلامی معاشرے ترقی کی رفتار میں دنیا سے پیچھے کیوں ہے۔ پہلے اوپر عرض کیا ہے کہ یورپین معاشروں میں برائیوں کا تناسب بنسبت اسلامی معاشروں کے بہت کم ہے اور ان کی اخلاقیات کا تو معیار نہایت ہی اعلیٰ ہے۔
میرے نزدیک اس کا سادہ سا جواب اسلامی معاشروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے لوگ ہیں۔ اسلامی معاشروں کے سکالرز، اور علمائے کرام نے اسلامی معاشروں کی ترقی کو ساکت کیا ہوا ہے۔ مگر کیسے؟ میں مقامی علماء کرام کی بات نہیں کر رہا۔ ایسے اسلامی سکالرز اور پڑھے لکھے علمائے کرام جن کا انٹرنیشنل لیول پر نام ہے انہوں نے اجتہاد کا راستہ بند کیا ہوا ہے اور چودہ سو سال پرانے نظام کی لکیر پیٹ رہے ہیں۔ کیا اسلام نے اجتہاد کا راستہ بند کیا ہوا ہے؟ معاشرے کو جدید خطوط پر چلانے سے منع کیا ہوا ہے؟ اس کا سادہ سا جواب تو ہے نہیں۔ تو پھر سوچیے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک جیسے لوگ عورت کے بارے میں اتنے دقیانوس کیسے ہو سکتے ہیں؟ ڈاکٹر صاحب نے خود تو اجتہاد کے ذریعے پینٹ شرٹ زیب تن کر لی۔ جب کہ وہ باقی اسلامی معاشرے کو اس میں شامل نہیں کرنا چاہتے۔ پرنٹنگ پریس سے لے کر لاؤڈ سپیکر تک کی ایجادات کو دیکھ لیں علمائے کرام نے وہ واویلا مچایا کہ جس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ کیا آج کے دور میں عورت کی شمولیت کے بغیر دنیا میں ترقی کی جا سکتی ہے؟ جبکہ ڈاکٹر صاحب خود ایک عورت کو انٹرویو تو دے رہے ہیں مگر اسی کے سامنے بیٹھ کے لغو گفتگو فرما رہے ہیں۔ اب یہاں ڈاکٹر صاحب کی اپنی کریڈیبلٹی کیا رہ جاتی ہے کہ انہیں کچھ ہو رہا تھا یا وہ بیمار ہیں۔ یہاں پھر بھی عورت سبقت لے گئی۔ ایسی گفتگو کے باوجود انٹرویو جاری رکھا ورنہ فریحہ ادریس صاحبہ کو چاہیے تھا کہ ڈاکٹر صاحب کو انگلی پکڑ کر پروگرام سے چلتا کرتی۔
ڈاکٹر صاحب جو آپ کام کر رہے ہیں مذاہب کے تقابل کا اس کا دنیا کو کوئی فائدہ نہیں۔ مقابلہ ہمیشہ دو برابر کے حریفوں میں ہوتا ہے جبکہ اسلام تو پچھلے تمام مذاہب کو کالعدم قرار دیتے ہوئے "بیشک اللہ تعالٰی کے نزدیک دین اسلام ہی ہے” کی تبلیغ کر رہا ہے تو پھر تقابل کیسا؟ کیا یہ تقابل محض وقت کا ضیاع نہیں؟ آپ کا یہ تمام کام تبلیغ، تحقیق، تقابل، جم غفیر میں تقریر آپ کی موت کے ساتھ ہی سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ اسلام کو جدید خطوط پر چلانے کا عزم کر لیں۔ اجتہاد کے ذریعے سائنس اور ٹیکنالوجی کی راہ ہموار کریں۔ دقیانوسی خیالات اور نظریات سے پیچھا چھڑا لیں تو یقین جانیے آپ کا نام رہتی دنیا تک رہے گا۔ اللہ تعالی نے آپ کو تمام وسائل سے نوازا ہے آپ کے پاس فیم ہے، کراؤڈ ہے، پلیٹ فارم ہے۔ آپ بجائے کہ انسانیت کی فلاح بہبود اور ترقی کے لیے کام کریں۔ آپ تقابل تقابل کھیل رہے ہیں اور اپنی تجوریاں بھرتے جا رہے ہیں۔ کیا اسلام کا مقصد صرف دوسرے مذاہب کو جھوٹا ثابت کرنا ہے؟ اس وقت اسلامی معاشروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ اجتہاد کا نہ ہونا ہے جبکہ اسلام نے اس کی اجازت دی ہوئی ہے۔
آپ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیوں دعوت اسلامی، جماعت اسلامی اور دوسری تمام اسلامی تنظیموں کے نظریات کا جائزہ لیں۔ موجودہ اسلامی سکالرز، علمائے کرام کی نظریات کو پرکھ لیں (چند ایک کو چھوڑ کر ) تو آپ پر یہ یہ بات عیاں ہوگی کہ یہ اسلام کو جدید خطوط پر چلانا ہی نہیں چاہتے۔ جب کہ آج کی اس گلوبل دنیا میں آپ دنیا سے کٹ کر جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کو چھوڑ کر عورت کو گھر بٹھا کر پابندیاں لگا کر ترقی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر آپ عوام کو ایک بہتر معیار زندگی نہیں دیتے آپ لاکھ تبلیغ اور اسلامی اجتماعات کرتے رہیں آپ برائیوں کو نہیں روک سکتے۔


