کیا آپ ریموٹ کنٹرول سے چلتے ہیں
دنیاوی معاملات میں جب کوئی شخص ہمارے پاس معلومات لے کر آتا ہے تو ہم اس کی تصدیق طلب کرتے ہیں ان معلومات کے کھرا ہونے کی جانچ کرتے ہیں لیکن جب معلومات کا تعلق دین سے متعلق ہو کیا ہم ان معلومات کی صحت کی جانچ کرتے ہیں؟ یا سنی سنائی بات پر نسل در نسل عمل کرتے ہیں۔ سچائی کو دریافت کرنے کا ہمارا معیار دوہرا اور منافقانہ کیوں ہے؟
ہمارے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ان سے غیر تصدیق شدہ بات بھی کوئی کرے تو یہ کنفرم نہیں کرتے۔ لوگ مقلد ذہن والے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بزرگوں نے جو باتیں لکھی ہیں ان کی ہمارے بڑوں نے بھی تصدیق طلب نہیں کی یہ مان کر کہ وہ ہمارے بزرگ تھے بلکہ جانی مانی برگزیدہ ہستیاں تھیں اس لیے انہوں نے جو بھی واقعات بیان کیے یا لکھے وہ سچ ہی ہو گا اور سچ کے علاوہ کچھ نہیں ہو گا۔ مرید ٹائپ کا تقلیدی ذہن یہ بات مان ہی نہیں سکتا کہ بزرگوں نے دینی معاملات میں ڈنڈی ماری ہوگی۔ واقعات کی تزئین و آرائش کے سلسلہ میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہوں گے۔
بات یہ ہے کہ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ہمارے لوگ بچگانہ ذہن رکھتے ہیں یا سادہ لوح ہیں۔ آپ ان کے کاروباری معاملات دیکھیں۔ ان میں یہ لوگ بڑے چالاک ہیں۔ ان پڑھ سے ان پڑھ آدمی بھی کاروباری اور دنیاوی معاملات میں بڑا چوکنا اور تیز و طرار ہوتا ہے۔ یہ حساب و کتاب میں اپنے ساتھ ہونے والی ہیرا پھیری کو فوراً پہچان جاتے ہیں۔ اور غلطی کی نشاندہی کر دیتے ہیں۔ یہ لوگ اس وقت مار کھا جاتے ہیں۔ جب ان سے دین کے نام پر جھوٹ بولا جاتا ہے۔ اور ان کو ناقابل یقین کہانیاں سنائی جاتی ہیں۔ ان معاملات میں یہ ذرا بھی بحث نہیں کرتے۔ اس موقع پر ان سے جو مرضی بڑے سے بڑا جھوٹ بولا جائے۔ یہ بلا چون و چرا مان لیتے ہیں۔ بس ایک شرط لازم ہے۔ کہ جھوٹ کی سند برگزیدہ بابے کے مسلک تک پہنچائی جائے۔ سیدھی سی بات ہے۔ اپنے مسلک کا جھوٹ سچ سب مستند اور سچا ہے۔ جبکہ مخالف کا سچ بھی ناقابل قبول ہے۔
مسلکی اختلافات جس قدر گہرے ہوں گے۔ اس قدر اگلے کا مسلک جھوٹا نظر آئے گا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جھوٹ اور سچ کو پہچاننے کا ایک موثر ذریعہ خدا داد عقل ہے جو ہمارے پاس ہے ہی اس مقصد کے لیے کہ ہم اس ٹول کو استعمال کرتے ہوئے سچ اور جھوٹ کو الگ کریں۔ مگر کیا کریں کہ اس کے ساتھ ہمارے بابے ہمیں یہ بھی سکھا گئے ہیں کہ خبردار عقل استعمال نہیں کرنی۔ کیونکہ عقل تو بھٹکاتی ہے۔ تو تو میں میں اور تکرار کراتی ہے۔ بحث و مباحثہ کو فروغ دیتی ہے اور اختلافات کے نتیجے میں نئی راہیں دریافت ہوتی ہیں۔ جبکہ ہمیں بحث و تکرار اور اختلاف کی نئی راہوں پر چلنے سے بچنا ہے کیونکہ اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر اختلاف کی نئی دریافت کردہ راہوں پر چلنا گمراہی ہے۔ اور گمراہوں کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے۔
اس موقع پر آ کر بابے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ آپس میں اختلاف کرنے کی پہلی اینٹ تو انہوں نے خود رکھی۔ جب انہوں نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا اور ہر ایک نے اپنے مسلک کی بنیاد رکھی۔ تو کیا ان کے وضع کردہ اصول کے مطابق وہ گمراہ ہیں؟ اور ان کا آخری ٹھکانہ دوزخ ہے۔ عوام الناس نے کبھی اپنے بابے سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کی کہ اختلاف کرنا اگر گمراہی ہے اور گمراہ کا ٹھکانہ دوزخ ہے تو ہم بھی کسی دوزخی بابے کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں چلیں گے۔ اگر عوام میں دینی معاملات میں بھی دنیاوی معاملات کی طرح دماغ لڑانے کا حوصلہ ہوتا تو یقین کریں دین کے نام پر آج تہتر فرقے نہ پنپتے بابوں کے یہ سارے خود ساختہ فرقے اپنے رحم مادر میں ہی مر جاتے۔ بابوں نے فرقوں کے پودے اگائے۔ عوام نے ان پودوں کو پانی دیا آج ہر وہ پودا ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اور یہ درخت وہ پھل دے رہا ہے جس کو سونگھ کر ہی عقل سن ہو جاتی ہے اور اچھا خاصا بندہ بہت پہلے مرے ہوئے بابے کے ریموٹ کنٹرول سے چلنے لگتا ہے۔
آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ مصنوعی ذہانت لوگوں کی قدم بہ قدم رہنمائی کر رہی ہے۔ گوگل پر آپ کے ہر سوال کا تشفی بخش جواب موجود ہے۔ آپ کو کوئی بھی ڈاؤٹ ہو۔ کوئی بھی مسئلہ پوچھنا ہو۔ آپ ایک کلک کریں۔ گوگل اپ کے پاس ہزارہا جوابات سمیت حاضر ہو گا۔ کسی بھی شخص کے جھوٹ اور سچ کو پرکھنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے بہتر کوئی ٹول نہیں۔ اس معاملے میں بابا تو شے ہی کوئی نہیں۔ بس گوگل کی فراہم کردہ معلومات کو ہضم کرنے کے لیے آپ کا کشادہ ذہن ہونا ضروری ہے۔ ورنہ ماضی کی روش پر چلنے کی پالیسی اپناتے ہوئے میں نہ مانو کی گردان کر کے آپ کچھ بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ اور یقین کریں معلومات کے سمندر میں غوطہ لگا کر بھی آپ سوکھے کے سوکھے ہی رہیں گے۔


