تیزی سے ترقی کرتی دنیا میں ہم پیچھے کیوں ہیں؟


ایک مشہور مقولہ ہے کہ ”نظام کو نہیں چہروں کو بدلنا ہو گا“ تو اس تیز ترین دور میں ہم پاکستانی بالخصوص پشتون بیلٹ پیچھے کیوں ہے اس ٹیکنالوجی کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے دور میں ہم ابھی بھی ان باتوں میں لگے ہوئے ہیں جس سے ترقی یافتہ ممالک صدیوں پہلے نکل گئے تھے۔ اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہماری سوسائٹی ترقی یافتہ کیا ترقی کی صحیح راہ پر بھی گامزن نہیں ہے سب سے پہلے تو اس قوم کو کلاشنکوف کی بجائے قلم اور کتاب ہاتھ میں دی جائے

ترقی ممالک کی ترقی کا راز تعلیم و تربیت ہنر ہے یورپی اپنی ڈارک ایجز سے نکل کر تعلیم کی طرف آ گئے۔ انہوں نے اپنی قوم کو اپنے بچوں کو قلم دیا، اس کو جنگ سے دور رکھا بچوں کو علم و ہنر کی طرف راغب کر دیا اور اس میں ان کی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور اب یورپ کے نتائج اپ کے سامنے ہیں۔

لیکن کمال کی بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم تو ہے لیکن وہ معیار نہیں اور وہ نظام نہیں۔ نصاب جدید دور کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔ تو دوسری جانب ملک میں تعلیم پر خرچ ہونے والا بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ یورپ اور دیگر ممالک ضرورت کے مطابق بجٹ تعلیم اور تحقیق پر خرچ کرتے ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک ہندوستان نے بھی گزشتہ پانچ برس سے تعلیمی بجٹ میں چار گناہ اضافہ کیا ہے۔ جبکہ ہماری ملک میں تعلیمی بجٹ 2007 کی سطح پر ہے۔

2024۔ 2025 کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے وفاقی حکومت نے صرف 93 ارب روپے مختص کیے تھے۔ جو کل بجٹ کا 5۔ 6 ٪ ہے۔ 2017 سے اب تک تعلیمی بجٹ کم ہو رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے 2024۔ 2025 کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن ( HEC) کے ریکرنٹ بجٹ کے علاوہ تعلیم کے لیے صرف 25۔ 7 بلین مختص کیے تھے۔ روزنامہ نوائے وقت کے مطابق یہ رقم کیمبرج یونیورسٹی کے بورڈ کی فیس کے برابر ہے جو پاکستانی طلبا سے او لیول کی امتحانی فیس کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ تعلیم پر خرچ کرنا طلباء کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا اور ان کو سہولیات دینا اس ملک کی ترقی کے لیے اہم ہے۔

دوسری بڑی وجہ اس خطے میں مرد اور عورت میں تفریق کرنا مرد کو افضل سمجھنا اور عورت کو صرف ایک شے تک محدود رکھنا ہماری زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اگر موازنہ کیا جائے تو ترقی یافتہ ممالک تو مرد اور عورت کو برابر کے حقوق دیتے ہیں تعلیم کے حوالے سے ہنر کے حوالے سے وہ لوگ یہ تفریق نہیں کرتے جبکہ اس خطے میں اور خصوصاً پشتون قوم اس میں غیرت تلاش کرتے ہیں۔

ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب ”تاریخ اور عورت“ میں لکھتے ہیں کہ اگر جنگ مرد کی علامت ہے تو امن پسندی کو عورت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی لکھتے ہیں کہ عورت زرخیزی کی علامت ہے لیکن یہاں پر سوچ فکر پر صدیوں سے کام ہوا ہے اور ان لوگوں کی سوچ کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ عورت ہوگی تو صرف گھر کی یا لحد (قبر) کی اس میں بعض پرتشدد ذہن رکھنے والے لوگوں کے ساتھ ریاست کی پالیسی بھی شامل ہے۔ اس میں انتہا پسند گروہوں کے ساتھ چند سیاسی اور سماجی جماعتیں اور علاقائی مشران اس قسم کی سوچ کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ ایک معاشرے میں عورت تعلیم یافتہ نہ ہو تو وہ کس طرح بچے کی تربیت کرے گی، کس طرح ایک خاندان یا ایک معاشرہ ترقی کرے گا۔ بجائے اس کے کہ ہم عورت کو گھر تک محدود رکھیں ان کو اعلیٰ تعلیم دیں اور ان کو اور ان کے جائز حقوق دیں۔ ریاست بھی اس چیز پر خاموش ہے کیونکہ نہ تو کوئی خاص یونیورسٹی موجود ہے نہ کالجز اور نہ سکول۔ تو وہاں پر پھر Simone de Beauvoir یا Katherine Johnson جیسی عورتیں پیدا نہیں ہوں گی بلکہ اس طرح کی عورت پیدا ہوگی جو ریاست چاہتا ہے جو اس معاشرے کا فرد چاہتا ہے۔ کیونکہ تعلیم ایک زیور ہے اور اس زیور سے قوم ترقی کر سکتی ہے اگر عورت کو اس میدان میں نہیں لایا گیا تو ہماری ترقی انتہائی مشکل ہے اس سوچ سے نکلنا ہو گا جو ہمارے خطے میں پروموٹ کی گئی ہے اور تاحال جاری ہے۔

ایک اور وجہ معاشی عدم استحکام اور غربت ہے ترقی یافتہ ممالک اپنے عوام کو مواقع اور وسائل فراہم کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں غربت اور بے روزگاری کی بلند شرح ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دیتی ہے۔ اس کے لیے سنجیدگی کے ساتھ بہتر اقدامات کرنا ہوں گے۔ کرپشن کا خاتمہ کرنا ہو گا، میرٹ کی بنیادوں پر نوکریاں اور خصوصی طور پر تجربہ کار پالیسی میکر جو حالات کو جانتے ہوں کہ کس طرح ہم اس سے نکل سکتے ہیں اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔

اگر ہمیں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہونا ہے تو ہمیں ان مسائل کا گہرائی سے جائزہ لینا ہو گا اور اصلاحات کی ضرورت کو سمجھنا ہو گا۔ تعلیم، سائنسی تحقیق، سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات اور معاشی رویوں میں تبدیلی کے بغیر ہم ترقی کی دوڑ میں کبھی آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔

Facebook Comments HS