کیا سوال اُٹھانے والوں کے ساتھ ڈاکٹر ذاکر نائیک کا رویہ درست ہے؟ (حصہ اول)
عالمی شہرت یافتہ تقابل اَدیان کے ماہر سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک اِن دنوں حکومت پاکستان کے مہمان کے طور پر پاکستان کے مختلف شہروں میں اجتماعات سے خطاب کے ساتھ ساتھ سوال و جواب کے سیشنز بھی کر چکے ہیں۔ اُن کے کریڈٹ پر لاکھوں لوگوں کو مسلمان کرنے جیسے عظیم کام ہیں جو از خود کسی بھی انسان کے ایک بڑے اسلامی سکالر ہونے کا ثبوت ہیں۔ وہ دنیا کے مختلف ممالک میں ایسے اجتماعات اور سوال و جواب کے سیشنز کر چکے ہیں اور اپنی غیر معمولی یادداشت کی وجہ سے بھی شہرت رکھتے ہیں کہ وہ نہ صرف اسلامی کُتب بلکہ دیگر مذاہب کی کتابوں کی آیات اور سورتوں کے زبانی حوالے پیش کرتے نظر آتے ہیں جو کہ ہم جیسے عام انسانوں کے لیے ایک ناقابلِ یقین ٹیلنٹ ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی بطور ایک عظیم اسلامی سکالر پہچان کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا، لیکن جب میرے جیسے عام مسلمان نے اُن کو پہلی بار تفصیل سے سُنا تو اُن کی بہت سی باتوں اور رویوں نے بُری طرح مایوس کیا کیوں کہ میں ایک اتنے بڑے سکالر سے اِس طرح کی باتوں کی توقع نہیں کر رہا تھا جو ہم اپنے گلی محلے کے مولوی حضرات سے سُنتے ہیں لیکن اِن باتوں کو اس لیے اِگنور کر دیتے ہیں کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے یہاں پڑھے لکھے اور منطقی اعتبار سے مدلل گفتگو کرنے والے علماء کا بحران ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے پاکستان وزٹ کے دوران اُن کی بہت سی باتوں پر مجھے دِلی افسوس ہوا جن میں سے کچھ ایک واقعات بیان کرنے کی کوشش کروں گا اور اپنے دُکھ کی وجہ بھی بتاؤں گا۔
پہلا واقع جس نے مجھے مایوس کیا وہ تھا کہ جب گورنر ہاؤس کراچی میں ایک پلوشہ نامی خاتون نے سوال کیا کہ میرا تعلق لکی مروت سے ہے وہ بہت اسلامی معاشرہ ہے اور ہمارے علاقے میں لوگ باقاعدگی سے نماز پڑھتے ہیں، خواتین پردے کا اہتمام کرتی ہیں اور بلا ضرورت گھر سے باہر نہیں نکلتیں، لوگوں کا سوشل کنڈکٹ بہت مذہبی ہے، وہاں پر تبلیغی اجتماعات بھی ہوتے ہیں لیکن اس سب کے باوجود وہاں پر سود، پیڈوفیلیا (بچوں سے جنسی زیادتی) ، زنا اور نشہ جیسی بُرائیاں جڑ پا چکی ہیں تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ وہاں پر ایسی برائیاں کیوں عام ہو رہی ہیں اور ہمارے علماء کرام اِن برائیوں کے خاتمے کے لیے آواز کیوں نہیں اُٹھاتے؟
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے جواب دیا کہ آپ کے سوال میں تکرار ہے، ایک طرف آپ کہتی ہیں کہ میرا معاشرہ اسلامی ہے، پھر کہتی ہیں وہاں پیڈوفیلیا عام ہے۔ اِس پر جب خاتون نے اپنے سوال کی وضاحت کرنا چاہی تو اُسے باقاعدہ ڈانٹتے ہوئے چُپ کروا دیا کہ آپ کا سوال ختم ہو چکا ہے اب میرا جواب سُنیے اور اِسی بات پر مُصِر رہے کہ آپ کے سوال کا پہلا حصہ غلط ہے یا دُوسرا حصہ کیوں کہ اسلامی معاشرے میں پیڈوفیلیا ہو ہی نہیں سکتا۔ کون سی اسلامی کتاب میں لکھا ہے کہ پیڈوفیلیا جائز ہے؟ کس آیت اور کس سورۃ میں لکھا ہے؟ آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ کے سوال کا پہلا یا دوسرا حصہ غلط ہے، آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ میرا معاشرہ سمجھتا ہے کہ وہ اسلامی ہے، تو پھر مانوں گا، اسی لیے کسی پر الزام لگانے سے پہلے دس بار سوچو، اگر یہ آپ اللہ کے دربار میں سوال کریں گی تو آپ تو پھنس جائیں گی میری بہن، آپ کو اس بات پر معافی مانگنا چاہیے کہ آپ کا سوال غلط ہے۔ اِس پر جب خاتون نے اپنے سوال کی وضاحت کرنا چاہی کہ یہی تو میرا سوال ہے کہ بظاہر اسلامی نظر آنے والے لوگ ایسے گناہوں میں کیوں ملوث ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے انہیں تُرش انداز میں ٹوک کر کہا کہ آپ کو قبول کرنا پڑے گا کہ آپ کا سوال غلط ہے، اگر آپ قبول نہیں کریں گی تو میرا جواب یہیں پر ختم۔ اِس پر جب خاتون نے کہا کہ ٹھیک ہے میں مانتی ہوں کہ میرے سوال کی نوعیت غلط ہے تو اُس کو ایک بار پھر ٹوکتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ نوعیت غلط نہیں، سوال غلط ہے، آپ غلط ہیں، آپ اپنے معاشرے پر الزام لگا رہی ہیں کہ معاشرہ اسلامی ہے اور پیڈوفیلیا بھی ہے، اِس میں سے ایک ہی ٹھیک ہو سکتا ہے، یا اسلامی معاشرہ ہو سکتا ہے، یا معاشرے میں پیڈوفیلیا ہو سکتا ہے۔ آپ کو ایسی بات کرنے سے پہلے تحقیق کرنی چاہیے پھر کوئی بات دہرانی چاہیے، آپ تو ایسے کہہ کر اسلام پر تہمت لگا رہی ہیں اور معافی مانگنے کو بھی تیار نہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی یہ ویڈیو دیکھنے کہ بعد پہلا تاثر یہی آتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب شاید اُس خاتون کا سوال سمجھے ہی نہیں۔ سوال یہ تھا کہ بظاہر مذہبی نظر آنے والے لوگ، جو بنیادی اسلامی عبادات پر باقاعدگی سے عمل پیرا بھی ہیں اُن میں ایسی سنگین برائیاں کیوں پائی جاتی ہیں؟ ، یعنی ڈاکٹر صاحب سوال میں جس تضاد کی بات کر کے سِرے سے سوال کو ہی غلط ثابت کرنے میں لگ گئے، اصل میں تو سوال ہی یہی تھا کہ ایسے لوگوں کے عمل میں تضاد کیوں ہے؟ کہ بظاہر وہ بہت اسلامی نظر آتے ہیں لیکن اِس کے ساتھ ساتھ وہ گناہ کبیرا میں بھی ملوث ہیں، تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اِس کی وجوہات کیا ہیں اور ہمارے علماء اِس مسئلے پر بات کیوں نہیں کرتے؟ لیکن اسِ سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے جس طرح سوال کرنے والی خاتون کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا اور اُس سے بار بار معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے اُس کی تذلیل کی، میرے لیے بہت ہی افسوس کا باعث بنا۔ ایک عالمی سطح کے داعی جو کہ خود سوال و جواب کی نشست کے لیے اجتماع کر رہا ہے، کیا اُس کو سوال کرنے والے کے ساتھ اسِ طرح کا رویہ زیب دیتا ہے؟
ڈاکٹر صاحب کی اِس بات سے بالکل اختلاف نہیں کہ وہ معاشرہ اسلامی کہلا ہی نہیں سکتا جہاں ایسی برائیاں پائی جاتی ہوں، تو ڈاکٹر صاحب اُس خاتون کو صرف اِتنا کہہ دیتے کہ بیٹا آپ کو چاہیے کہ آپ یہ کہیں کہ میرا معاشرہ بظاہر بہت اسلامی ہے لیکن اُس میں یہ برائیاں پائی جاتی ہیں اور اِس کے بعد ڈاکٹر صاحب بجائے اِسکے کہ خاتون سے سوال پوچھنے پر معافی کا مطالبہ کرتے اور اُسے گستاخی اسلام کا مجرم قرار دیتے، اِس بات کا جواب دے دیتے کہ ایسے ظاہری اسلامی معاشرے میں گھناؤنے جرائم کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں اور علماء کی اِس بارے خاموشی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے تو بہت خوشی ہوتی۔
یا اگر ڈاکٹر صاحب کے پاس اِن جرائم کی کوئی وجوہات نہیں تھیں تو صاف صاف یہ بھی کہہ دیتے کہ پاکستانی معاشرے میں یہ برائیاں کیوں ہیں اِس پر فی الحال میں کوئی جواب نہیں دے سکتا کیوں کہ میں اِس معاشرے سے اچھی طرح واقف نہیں ہوں، تو بھی مجھے کوئی اعتراض نہ ہوتا کیونکہ دنیا میں کوئی بھی عقلِ کُل نہیں ہے اور کسی کے پاس بھی ہر بات کا جواب نہیں ہو سکتا۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے اُس سوال کرنے والی خاتون کے ساتھ رویے نے مجھے بُری طرح مایوس کیا کہ یا تو آپ کو سوال سمجھ نہیں آیا، یا پھر سوال سمجھنے کے باوجود آپ نے اُس خاتون کو جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا۔ ہر دو صورت میں یہ رویہ میرے لیے تکلیف دہ ہے کیوں کہ یہ بات کسی بھی داعی، عالم دین یا سکالر کو زیب نہیں دیتی۔
لکھنے بیٹھا تو ایک واقع ہی کافی طول پکڑ گیا، ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے پاکستان میں ہونے والے اجتماعات کے اگلے واقعات جن کی وجہ سے مجھے بطور ایک عام مسلمان افسوس ہوا اُن کو اپنی آئندہ تحریروں میں بیان کرنے کی کوشش کروں گا۔ یقینی طور پر بہت سے لوگ میری باتوں سے اختلاف کریں گے اور کچھ اتفاق بھی کریں گے، لیکن یہاں ایک بات واضح کرنا چاہوں گا کہ میں ڈاکٹر صاحب کے علم پر سوال نہیں کر رہا اور نہ ہی اُن کی اسلام کے لیے خدمات پر کوئی شک ہے، بلکہ مجھے اُن کے چند اجتماعات میں رویے نے دُکھ پہنچایا ہے جو بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔


