ڈاکٹر امجد ثاقب کا اخوت


حال ہی میں کوٹ ادو میں ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کے ادارے اخوت کی اک میٹنگ اٹینڈ کرنے کا موقع ملا۔ میرے ساتھ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے دو دو امتحانات پاس کر کے آنے والے مستقبل کے دو افسران بھی ساتھ تھے۔ اسد شاہ نامی نوجوان نے تفصیل اور دلچسپ پیرائے میں اخوت کی پالیسی ان کے منصوبہ جات ان کی گزشتہ کارکردگی کے متعلق بریف کیا۔ میرے ساتھ مستقبل کے افسران بھی اخوت اور اس کے ویژن سے متاثر نظر آئے۔ صرف کوٹ ادو میں 46 کروڑ روپے امداد کی مد میں دیے جا چکے ہیں۔ 86 کے قریب خاندان جو کرائے کے مکانوں میں رہتے تھے آج اپنے مکانات میں رہتے ہیں۔ سینکڑوں لوگوں کو کاروبار کر کے دیا ہے۔

یہ سب شاید پڑھنے میں عام سا اور میکانکی لگے مگر اس کو ایسے دیکھیں کہ کوٹ ادو میں اس وقت درجن بھر مائیکرو فنانس بینکس قرضے فراہم کر رہے ہیں۔ ان قرضوں کے لیے سب سے پہلے فائل بنتی ہے جس کے لیے کمیشن طلب کیا جاتا ہے پھر گارنٹی میں زیور مکان یا پلاٹ کے پیپرز مانگے جاتے ہیں۔ 60 ہزار دے کر اسی ہزار سے لے کر لاکھ روپے واپس لیتے ہیں اور ان 60 ہزار کے لیے بھی بارہ بارہ چیکس پہ سائن کرا کے لیتے ہیں۔ سود در سود لینے والے ان بینکس نے شہریوں پہ مقدمات تک درج کرائے ہیں۔

جبکہ اخوت اس سب کے برعکس کوئی زیور مکان یا پلاٹ کی گارنٹی نہیں لیتا یہ شخصی ضمانت پہ دو دو لاکھ تک دے دیتا ہے۔ یہ قرض حسنہ ہے اس پہ کوئی سود نہیں لیا جاتا۔ کوٹ ادو میں اخوت کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بہن بھائیوں کے متعلق علم ہے جو معیاری تعلیم کے ساتھ معیاری رہائش اور معیاری کھانے اور لباس تک مفت حاصل کر رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں اک کردار ڈاکٹر یونس ہیں جو حسینہ واجد کے بعد اب ملک کے کرتا دھرتا ہے انہوں نے اخوت کی طرز کے بینک کا قیام کیا تھا۔ وہ بینک بھی سروس چارجز کے نام پہ کچھ فیصد انٹرسٹ یا سود لیتا ہے لیکن پھر بھی ان کو نوبل پرائز دے دیا گیا جبکہ یہاں اک روپیہ سود نہیں لیا جاتا پھر بھی نہ پرائز کی تمنا ہے نہ شہرت کی طلب۔

جہاں مائکرو فنانس بینک میں فائل بنانے اور قرض کی منظوری کے لیے کمیشن وغیرہ کا چلن عام ہے اخوت کا عملہ اک روپے کا بھی روادار نہیں۔ اخوت کے عملے کے متعلق کچھ شکایات سنی تھیں کہ بھلے یہ پیسے رشوت یا کمیشن نہ لیتے ہوں مگر ان کا رویہ عوام یا قرض خواہوں کے ساتھ مناسب نہیں ہوتا۔ لہجے میں اکھڑپن اور نخوت ہوتا ہے خود کو اعلیٰ و ارفع سمجھ کر سائلین کو محکوم تصور کرتے ہیں۔

لیکن اسد شاہ اور ظفر گورمانی جیسے عملے کو دیکھ سن کر یہ بدگمانی بھی زائل ہوتی گئی۔ اگر مہنگائی کے اس دور میں بھی اگر آپ دینے والا ہاتھ بننے کی پوزیشن میں ہیں تو اپنے صدقات خیرات اخوت میں جمع کرائیں۔ کیونکہ یہ بھوکے کو مچھلی دینے کی بجائے مچھلی پکڑنے کا کانٹا فراہم کرنے پہ یقین رکھتے ہیں۔

یہ قوم کو بھکاری بنانے کی بجائے خودداری کی طرف مائل کر رہے ہیں۔ میرے ساتھ اک مکینک دوست تھے ان کا کہنا تھا کہ ان پیسوں میں اک عجیب سی برکت ہے 2010 میں پچیس ہزار روپے اخوت سے ادھار لے کر سڑک کنارے کام شروع کیا تھا ان پیسوں کی برکت سے آج ورکشاپ کے مالک ہیں۔

میں اس تحریر کے توسط سے ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے بھی درخواست کروں گا کہ سر آپ نے کرپشن کے حوالے سے بدنام اک ملک میں ایسا مالیاتی ادارہ کھڑا کیا ہے جس کے نہ صرف اپر منیجمنٹ بلکہ نچلے عملے تک کرپشن فری ہونے کی گارنٹی دی جا سکتی ہے۔ مگر اخلاق کے حوالے سے جو شکایات ہیں ان پہ بھی خصوصی توجہ دیں۔ اگر کوئی سائل معلومات لینے آئے یا درخواست دینے سب سے عزت اور برابری کی سطح پہ بات کی جانی چاہیے۔

ڈاکٹر یونس کا مالیاتی بینک ہو یا پھر مائیکرو فنانس کے ادارے یہ سود انٹرسٹ یا سروس چارجز کی مد میں پیسے لیتے ہیں ان میں نہ صرف ملازمین کو موٹی تنخواہیں دیتے ہیں بلکہ اداروں کے آفسز میں بھی تمام تر جدید سہولیات فراہم کی جاتی ہیں

گھومنے والی کرسیاں ائر کنڈیشنڈ آفس کافی مشینیں واٹر ڈسپنسر جیسی عیاشیوں پہ پیسے خرچ کیے جاتے ہیں۔ میں انہیں سہولیات یا ضروریات کی بجائے عیاشی قرار دے رہا ہوں کیونکہ اخوت ان سہولیات کے بغیر کامیابی سے کام کر کے دکھا رہا ہے۔ فرنیچر کی بجائے ایک قالین اور گاؤ تکیے اے سی کی بجائے ائر کولر واٹر ڈسپنسر کی بجائے واٹر کولر رکھ کے بہترین انداز میں کام چلا رہے ہیں جس کا کریڈٹ لامحالہ اخوت کے عملے کو دیا جانا چاہیے۔

کل ملا کر بات یہ ہے کہ اخوت جیسے ادارے اور ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے کردار ہمارے معاشرے کا اجلا چہرہ ہیں ہمیں ان پہ فخر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا ساتھ دینا چاہیے اخوت دس روپے سے لے کر دس لاکھ تک دینے والے مخیر حضرات کو ایک سی اہمیت اور عزت دیتا ہے۔

Facebook Comments HS