انجینئر وقار کی واٹر کٹ، ماحولیاتی آلودگی میں ہماری سنجیدگی اور کاربن کریڈٹ (2)


ترقی یافتہ ممالک گرین ہاؤس گیسوں (بالخصوص کاربن ڈائی آکسائیڈ) ، جلانے کے لئے لکڑی، کوئلہ، زمینی تیل اور قدرتی گیس سے 2010 سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے 2015 میں ایک بار پھر پیرس معاہدہ بھی کیا۔ جس میں ہر سنجیدہ ملک نے اپنے لئے زیرو کاربن کا ہدف دوبارہ مقرر کر لیا۔ امریکہ اور یورپی ممالک تو 2050 کو اپنے لئے زیرو کاربن کا ہدف قرار دیتے ہیں جب کہ چین نے 2060 اور انڈیا نے 2070 کے لئے صفر کاربن کا عہد کیا ہے۔

یوں سمجھ لیں یورپی ممالک اور امریکہ میں 2050 کے بعد پٹرول، ڈیزل اور قدرتی گیس کا استعمال کرنا ”شاید“ جرم (یا کم از کم بہت مشکل) ہو جائے گا۔ چوں کہ یہ میری فیلڈ نہیں اس لئے مجھے علم نہیں کہ پاکستان اس سنجیدہ معاملے میں کہاں کھڑا ہے؟ لیکن یہ بات یقینی ہے کہ پاکستانی عوام کی اس معاملہ میں سنجیدگی صرف کاغذ پر موجود ہے۔

زیرو کاربن کا مطلب ہے کہ ہم کوئی ایسی شے استعمال نہیں کریں گے اور نہ ایسا کوئی کام کریں گے جس سے فضاء میں کاربن کی گیسیں (بالخصوص ڈائی آکسائیڈ) خارج ہو۔ یعنی کوئلہ، قدرتی گیس اور زمین سے نکلے تیل کو استعمال نہیں کریں گے۔

بجلی کے پلانٹ، بڑے بڑے اسٹیل یا سیمنٹ کی بھٹیاں، ہوائی اور بحری جہاز، کھانا پکانے کے لئے چولہے یہ سب لکڑی (کوئلہ) ، قدرتی گیس یا پٹرول کے بغیر چلیں گے۔ اور کسی ایسی چیز کو ان کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا جو زیرو کاربن کی شرط پر پورا اترتا ہو۔

چوں کہ زیرو کاربن پر جانا کچھ کمپنیوں کے لئے اس وقت ناممکن تھا (مثلاً ہوائی یا بحری جہاز) تو ان کے لئے ایک اور راستہ نکالا گیا جسے ”کاربن نیوٹرل“ کہا گیا۔ یعنی اگر کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو بھی رہی ہو تو یا تو اس کو ٹریپ کیا جائے۔ اس کے اثرات کو کم کیا جائے اور یا ماحول کو بہتر بنانے کے لئے دوسرے ایسے کام کیے جائیں جن کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کم پیدا ہو یا اس کے اثرات زائل ہوجائیں۔ بالخصوص درخت، پودے لگا کر، آبی حیات کی بحالی میں مدد دے کر یا جانوروں کے فضلے سے گیس کو حاصل کر کے۔

ان ممالک نے جو زیرو کاربن کو مذاق نہیں سمجھتے اور اس معاملے میں بہت حساس ہیں ان ہوں نے ہر ادارے یا کمپنی جو گرین ہاؤس گیسیں خارج کر رہی تھی بالخصوص کاربن ڈائی آکسائیڈ، اس کا حساب لگایا اور ایک ٹن (ایک ہزار کلو گرام) کاربن ڈائی آکسائیڈ سالانہ کو معیار مقرر کرتے ہوئے اسے ایک ”کاربن کریڈٹ“ قرار دیا۔

اب ان کمپنیوں کو کہا گیا کہ یا تو آپ صفر کاربن پر چلے جائیں وگرنہ ”کاربن نیوٹرل“ فنڈ میں جرمانہ دیں اور یا پھر ”اسی ملک“ یا دنیا بھر میں کہیں بھی کسی ایسے کام یا کمپنی کو فنڈ کریں جو صفر کاربن یا کاربن کے استعمال کو کم کرنے کے لئے کام کر رہی ہو۔ یوں اگر وہ کمپنی خود چار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتی ہے یعنی چار کاربن کریڈٹ تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس اثر کو کسی اور سے معاہدہ کر کے صفر کر لے جو چار ٹن کم کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کر رہا ہو گا یا اضافی درخت، پودوں، آبی حیات یا بہتر چولہوں کی مدد سے کاربن کریڈٹ حاصل کر رہا ہو گا۔ یہ دوسری کمپنی یا ادارے کے لئے ایک طرح سے سرمایہ کاری ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اسٹاک ایکسچینج، میٹل ایکسچینج، کموڈیٹی ایکسچینج، فارن کرنسی اور کرپٹو ایکسچینج کی طرح کاربن کریڈٹ ایکسچینج بھی کام کر رہی ہیں۔ جہاں کاربن کریڈٹ کو ٹریڈ کیا جاسکتا ہے۔ (انہیں ایمیشن ٹریڈنگ سسٹم یا ای ٹی ایس کہا جاتا ہے )۔

ہمارے مفتیان کے بارے میں علم نہیں کہ وہ کاربن کریڈٹ کو کیا کہتے ہیں کیوں کہ ہر نئی چیز ان کے لئے حرام ہوتی ہے۔

بات تو ہائیڈروجن سے شروع ہوئی تھی لیکن یاد رہے کہ ہر کاربن نیوٹرل پراجیکٹ کی قیمت الگ ہے۔ سماجی طور پر جن پراجیکٹس کو سب سے زیادہ کاربن کریڈٹ فنڈ ملتے ہیں وہ بائیو گیس پراجیکٹس ہیں یعنی جانوروں کے گوبر اور دوسرے نامیاتی کوڑے (کچن ویسٹ، درخت کے پتے اور چھلکے وغیرہ) کی مدد سے گیس کا حصول۔ اس سے کتنا کمایا جاسکتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی عام سے گوبر گیس کے پلانٹ میں پانچ ٹن (پانچ ہزار کلو گرام) فضلہ استعمال کیا جائے تو صرف بین الاقوامی کمپنیوں سے کاربن کریڈٹ کے زمرے میں پچاس سے نوے لاکھ پاکستانی روپے سالانہ حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اور جو گیس پیدا ہوگی اس کی فروخت سے جو رقم ملے گی وہ اضافی۔ لیکن ہم جتنے دو نمبر ہیں ہم پر یقین کون کرے گا۔

بائیو گیس سے متعلق ہم ایک بات میں بہت کمزور یا لا علم ہیں کہ یہ گیس اب جمع کر کے فروخت بھی کی جا سکتی ہے اور بوسٹر پمپ لگا کر اچھے خاصے فاصلے یا اونچائی تک بھی پہنچائی جا سکتی ہے۔ اور ہم اسے پیدا نہ کر کے محض بے وقوفی کر رہے ہیں۔ بائیو گیس پلانٹ استعمال کرنے والے نہ صرف گیس پیدا کرتے ہیں بلکہ بچ جانے والا تلچھٹ بھی ان کے لئے سونا ہوتا ہے اور زبردست نامیاتی کھاد کے طور پر زراعت سے وابستہ شعبے کو مہنگے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔

بجائے ہم عرب ممالک کو تیل یا ایل این جی کے لئے ڈالر بھیجیں اور ہمارے کسان یوریا کھاد کے لئے رل رہے ہوں۔ کیا بہتر ہو اگر دیہات اور شہر میں موجود ڈیری فارم بائیو گیس کا بھرپور استعمال کریں اور بلین نہ سہی سو پچاس ملین ڈالر ہی اگر اس مد میں بچا لیں۔ اسٹیٹ بنک، سولر پینل کی طرح گوبر گیس پلانٹ کی تنصیب کے لئے سستے قرض دے اور ان سے متعلق جو تھوڑی بہت مشینری یا چیزیں درکار ہیں ان کی امپورٹ یا پیداوار پر حکومت ٹیکس میں رعایت دے۔ جو نوکریاں پیدا ہوں گی وہ اس کے علاوہ ہیں۔ اس سے نہ صرف فارن ایکسچینج بچے گا بلکہ کاربن کریڈٹ سے ہونے والی اضافی آمدنی اس کے سوا ہوگی۔ یاد رہے پاکستان میں قدرتی گیس ہر گھر کو مہیا نہیں اور لوگوں کی اکثریت ابھی بھی کھانا پکانے کے لئے لکڑی، کوئلہ یا مٹی کے تیل پر انحصار کرتی ہے۔ اگر ہم انہیں بائیو گیس فراہم کر دیں تو لکڑی، کوئلہ اور مٹی کے تیل کے استعمال میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔ لوگوں کو سستی توانائی ملے گی جو صاحب خانہ کے لئے بچت کا سبب بھی بنے گی اور ماحول کو بہتر کرنے کے علاوہ خاتون خانہ کی صحت کے لئے بھی نقصان دہ نہیں ہوگی۔

فنانس میرا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ہم روتے رہتے ہیں لیکن سوچیں، 300 گھروں کی کوئی کالونی یا اپارٹمنٹس جب پلان کیے جاتے ہیں۔ ہر گھر کئی کروڑ ادا کرتا ہے۔ اگر ہر مکین سے محض ایک دفعہ ایک لاکھ روپے اضافی لے کر 100 بھینسیں خرید لی جائیں (دودھ دینے والی اچھی بھینس تین سے چار لاکھ میں اور ان کا بچھڑا پچاس سے نوے ہزار روپے میں مل جاتا ہے )۔ کالونی کا ایک کونا ان کے لئے مختص کر دیا جائے جہاں سے ان تمام گھروں کو مفت خالص دودھ زندگی بھر فراہم ہوتا رہے۔ دس بیس لوگوں کی نوکریاں الگ۔ باڑے سے منسلک محض آدھا کنال پر ایک بائیو گیس کا پلانٹ لگا لیں تو اتنی گیس پیدا ہو جائے گی جو ان 300 گھروں کو مفت گیس سارا سال کھانا پکانے کے لئے فراہم ہوتی رہے۔ بچ جانے والا دودھ، گیس اور نامیاتی کھاد سے ہونے والی کمائی اس کے علاوہ ہے۔ جس سے کالونی کے متعدد کام مفت ہوسکتے ہیں۔ دو طرفہ کنویں کھود لئے جائیں جن سے سولر سسٹم کی مدد سے پانی نکالا بھی جاسکتا ہے اور بارش میں چھان کر ذخیرہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور ہاں اضافی گیس کو جنریٹر میں استعمال کر کے رات کو بجلی بنانے کے علاوہ ہائیڈروجن میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اور کاربن کریڈٹ کی کمائی اس کے علاوہ۔ اسی کالونی میں محض ایک کنال یا اس سے بھی کم جگہ پر بلامبالغہ ہزار درخت کا جنگل ”میاواکی“ طریقے سے اگا کر اس کالونی کے لوگوں کو بہتر آکسیجن فراہم کرنے کے علاوہ سستی سبزی، پھل، جانوروں کے لئے مفت چارہ فراہم کرنے کے علاوہ ہزاروں پرندوں کو ٹھکانہ بھی فراہم کیا جاسکتا ہے۔ پرندے جن کی چہچہاہٹ کے لئے ہمارے کان ترستے جا رہے ہیں۔ ان درختوں سے ملنے والا کاربن کریڈٹ الگ ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہو گا کہ اس کمائی کا چوہدری کون ہو گا کیونکہ مل جل کر کام کرنے میں ہم خاصے کمزور واقع ہوئے ہیں۔

قطرہ قطرہ بنے سمندر، پیسہ پیسہ سرمایہ۔

بائیو گیس سے ہٹ کر اگر کوئی ادارہ ایسے چولہے اپنی کمیونیٹی یا علاقے میں متعارف کراتا ہے جو مٹی یا بہتر اشیا یا تیکنیک کے استعمال سے لکڑی، کوئلے یا تیل کے استعمال کو کم کردے تو ان پراجیکٹس کو بھی بائیو گیس کے مقابلے میں 75 فی صد تک قیمت یا کاربن کریڈٹ فنڈ مل جاتے ہیں۔ اسی طرح پانی کے فلٹر پلانٹ ہوں، شمسی بجلی یا ونڈ ٹربائن۔ ان پراجیکٹس کو بھی بائیو گیس کے مقابلے میں 25 سے 30 فی صد تک کاربن کریڈٹ فنڈ مل جاتے ہیں۔ درخت جو ماحول میں بہتری لاتے ہیں اگر ان کو 40 سال تک کے لئے سنبھالا جائے تو ایک درخت لگ بھگ 250 ڈالر دے سکتا ہے۔ یعنی ایک ہزار درخت اگر میں اپنی زمین پر لگا کر چالیس سال لگانے کی گارنٹی دوں تو مجھے ڈھائی لاکھ ڈالر مل سکتے ہیں۔ یہ چھ سے آٹھ ڈالر فی درخت سالانہ سمجھا جاسکتا ہے۔ درخت اگر پھل دار ہوں تو کمائی دوگنی۔

لیکن یاد رہے یہ ساری ادائیگی تھرڈ پارٹی آڈیٹرز سے مشروط ہیں جو مسلسل آپ کی کارکردگی کو دیکھتے بھی رہتے ہیں۔ پاکستان میں اخباری اطلاعات کے مطابق صرف سندھ حکومت نے اس سلسلے میں کچھ دل چسپی دکھائی اور کاربن کریڈٹ سے کمائی کرنے کے چکر میں سندھ کے ساحلی علاقوں میں لاکھوں درخت لگانے کی مہم چلائی۔ ”ظاہر ہے پیسہ ملنا تھا“۔ پچھلے گیارہ سال میں خیبر پختون خوا کی حکومت نے بھی کئی ملین درخت لگانے کا دعوی کیا۔ ان میں اگر تھوڑے بہت بھی لگ گئے ہوں تو یقیناً یہ ایک ماحول دوست قدم تھا لیکن اس مہم کو کسی بین الاقوامی فنڈنگ سے منسلک کر کے فنڈ لئے گئے یا نہیں میرے علم میں نہیں۔

دنیا بھر میں سب سے زیادہ کاربن کریڈٹ سے کمائی آسٹریلیا کر رہا ہے، پھر امریکہ۔ چین اور انڈیا کا شمار سب سے زیادہ فضائی گند پھیلانے والے ممالک میں ہوتا ہے مگر حیران کن طور پر یہ ممالک کاربن کریڈٹ سے کمائی کرنے والے دس بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ ساتھ ویت نام، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا۔

اس کاربن کریڈٹ میں کون سے ممالک زیادہ سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برطانیہ سب سے زیادہ کاربن کریڈٹ خرید رہا ہے لگ بھگ 29 فی صد، سوئٹزرلینڈ 21 فی صد اور جاپان 11 فی صد۔

دنیا بھر میں کچھ ممالک اس معاملے میں بہت خوش قسمت ہیں مثلاً جنوبی امریکہ میں واقع ملک ”سورینام“۔ یہاں 95 فی صد زمین پر جنگلات واقع ہیں۔ ویسے تو برازیل بھی اپنے جنگلات کی وجہ سے دنیا کے لئے پھیپھڑوں کا کام انجام دے رہا ہے لیکن سورینام کا شمار دنیا کے چند کاربن منفی ممالک میں ہوتا ہے۔ اور اسی سال ان ہوں نے اپنے جنگلات سے فائدہ اٹھانے کے لئے خود کو کاربن کریڈٹ کی ٹریڈنگ سے منسلک کر لیا ہے۔ جیسے کہ میں نے پہلے لکھا مختلف کاموں کے عوض مختلف کاربن کریڈٹ کی رقم ملتی ہے۔ لیکن ایک درخت کی قیمت 6 سے 8 ڈالر پڑتی ہے (وہی 40 سال کے لئے 250 ڈالر)۔ یوں اگر سورینام ایک کروڑ (دس ملین) درخت بھی رجسٹر کرا لیتا ہے تو اسے بہ آسانی 60 سے 80 ملین ڈالر اس مد میں مل جائیں گے (شاید سالانہ)۔ سورینام کی دیکھا دیکھی ”ہنڈوراس اور بیلیز“ بھی اپنے جنگلات کو لئے اس کمائی میں کودنے والے ہیں۔ ہمارے قرب و جوار میں بھوٹان بھی ایک اہم ملک ہے جو کئی سال پہلے کاربن فری ہو چکا ہے۔ یاد رہے اس میں نئے درخت لگانا ضروری نہیں موجودہ درخت کے ذریعے بھی فنڈنگ لی جا سکتی ہے۔

چند سال پہلے افریقی ملک گھانا نے حکومتی سطح پر سنگاپور کے ساتھ کاربن کریڈٹ پر معاہدے کیے۔ پچھلے سال گھانا نے اپنے جنگلات کے لگ بھگ چار لاکھ کاربن کریڈٹ برطانیہ کی ایک فرم کو بیچے۔ ساتھ گھانا نے کوسٹاریکا کے ساتھ مل کر دس ڈالر فی کاربن کریڈٹ کے حساب سے مشترکہ طور پر کمانے کے لئے پیش کیے۔ اور کم از کم سو ملین ڈالر کمائے۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ کراچی کے پاس مینگروز کے جنگلات کا حال سب کے سامنے ہے جس کے درخت مسلسل کٹ رہے ہیں۔ جب جزائر پر قبضے کی بات آئے تو سندھ حکومت کا دعوی ہوتا ہے کہ یہ صوبائی ملکیت ہیں جب کہ ان جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو روکنے کی بات ہو تو یہ سمندر میں ہونے کی وجہ سے وفاق کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔

ویسے ”کاپی پیسٹ“ کی خوبی دیکھیں، اسٹیٹ بنک آف پاکستان نے 2010 میں اپنی جو معاشی رپورٹ جاری کی اس میں کاربن کریڈٹ سے کمائی پر ایک تین صفحے کا خوب صورت مضمون ”کاپی پیسٹ“ تھا کہ کس طرح پاکستان اس سے مستقبل میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے بعد رات گئی بات گئی۔ لیکن آج اگر یک دم شور اٹھے تو اسٹیٹ بنک تو کہہ دے گا کہ ہم تو 2010 سے کہہ رہے ہیں۔

افسوس اور اس سے زیادہ شرمندگی اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے صدور اور وزرائے اعظم (بالخصوص پچھلے پانچ سالوں میں ) جب بین الاقوامی فورم پر تقریر کرتے ہیں تو ترقی یافتہ ممالک کو لعن طعن کرنا نہیں بھولتے کہ ان کی وجہ سے پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلیاں آ رہی ہیں جن کا ہمیں نقصان ہو رہا ہے۔ سیلاب اور کم پیداوار کی شکل میں۔ لیکن ہم اپنا احتساب نہیں کرتے کہ خود ہم ان معاملات سے نبٹنے کے لئے کیا کر رہے ہیں۔

کیا ہر سال سیلاب سے نبٹنا کوئی مشکل کام ہے۔ کیا اس پانی کو ضائع ہونے سے نہیں بچایا جاسکتا۔ کیا پن بجلی کے چھوٹے چھوٹے سستے ترین ”رن آن ریور“ پراجیکٹ لگا کر سستی بجلی پیدا ”نہ“ کرنے کے لئے کسی نے ہماری کنپٹی پر بندوق رکھی ہوئی ہے۔ کیا بے پانی کی سوکھی زمین میں گہرے کنویں کھود کر ان میں اگر بارش اور پہاڑ سے آنے والے سیلابی ریلے کو سوکھی زمین میں منتقل کر دیا جائے تو کیا ہمیں اس کے فائدے کا کسی اور سے پتہ چلے گا۔ ہزار سالوں سے خود بخود بننے والے قدرتی نالے ہم نے ناجائز تجاوزات سے بند کر دیے ہیں۔ اپنی فصل اور علاقہ بچانے کے لئے طاقت ور لوگ سیلابی بند خود توڑ دیتے ہیں اور مجرم کو ہزاروں لوگوں کے اس سیلابی قتل پر کسی کو کوئی سزا نہیں ملتی۔

من الحیث القوم ہماری حماقت دیکھیں۔ میرے علاقے میں پانی کا ایک ٹینکر تین سے چار ہزار روپے کا آتا ہے۔ جب کہ 500 لٹر کا مضبوط پلاسٹک ٹینک 8 سے 9 ہزار کا۔ علاقے میں بارش اچھی خاصی ہوتی ہے۔ اگر چھتوں پر جمع ہونے والا پانی ڈرین پائپ سے نیچے آ کر (چھان کر) ایک دو ٹینک میں جمع کر لیا جائے تو ایک دو بارش سے ہی ٹینک کے پیسے وصول ہو جاتے ہیں۔ اب اس صاف پانی کو پودوں کے لئے استعمال کریں، کپڑے، گاڑی یا گھر دھونے کے لئے یا باتھ روم کے لئے۔ پیسہ وصول کام ہے۔ پینے کے پانی کے لئے ہم ویسے بھی منرل واٹر پر جا چکے ہیں لیکن اسی بارش کے پانی کو اگر واٹر فلٹر سے گزار لیں تو یہ گھر کے ہر کام میں استعمال ہو سکتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی میں ہم کتنا سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ زگ زیگ ٹیکنالوجی کے بغیر اینٹوں کے بھٹے، چمنیوں اور گاڑیوں سے نکلتا کالا دھواں اور فصل کی باقیات کو جلا کر تلف کرنے کا آسان طریقہ ہمارا چلن ہے۔ اسموگ ہماری اپنی نااہلی ہوتی ہے مگر ہم الزام نئی دہلی اور امریکہ پر لگاتے ہیں۔ لاہور کی آلودگی کا اگر انڈیا ذمہ دار ہے تو امرتسر کو لاہور سے زیادہ گندا ہونا چاہیے جب کہ اس لمحے لاہور کا اوسط ائر کوالٹی انڈیکس 227 ہے تو امرتسر کا 150 ہے۔ اسموگ کو کم کرنے کے متعدد سستے اور آسان طریقے موجود ہیں جن پر تمام شہریوں کو عمل کرنا پڑے گا۔ جو ہم کر نہیں سکتے۔ پاکستان میں ریاست کے ہاتھ ماحولیات پر ویسے بھی بندھے ہوئے ہیں کیوں کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد سے یہ ہر صوبے کا اپنا معاملہ ہے۔ اسی لئے وزارت ماحولیات کا نام تبدیل کر کے وزارت موسمیاتی تبدیلی ہو چکا ہے۔ عمران خان کے دور میں زرتاج گل اسی وزارت کی سربراہ تھیں جن کے بیانات سن کر سنجیدہ لوگوں نے وزارت ماحولیات کو وزارت مخولیات کہنا شروع کر دیا تھا۔ اور اس کا حال شاید اب بھی اتنا ہی برا ہو کیوں کہ بظاہر یہ ایک فارغ قسم کی وزارت ہے جس کا سالانہ بجٹ محض 80 سے 90 کروڑ روپے ہے۔

بہر حال جب ترقی یافتہ ممالک نے عہد کر لیا کہ ہم نے زیرو کاربن کو اپنا ہدف بنانا ہے تو اس کا مطلب تھا کہ 2050 کے بعد ہمارے سارے کام کوئلہ، زمینی تیل اور قدرتی گیس کے بغیر انجام پائیں گے۔

بجلی تو سمجھ میں آتی ہے کہ آپ پن بجلی، شمسی، پون بجلی (ونڈ ٹربائن) اور نیوکلیئر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور قدرتی گیس کی عدم موجودگی میں کھانا کیسے پکے گا، گاڑیاں کیسے چلیں گی اور چمنیاں کیسے دھواں چھوڑیں گی؟ تو آج 2024 میں اس کا جواب ہے ”ہائیڈروجن“۔

قدرت کی لگ بھگ ہر چیز میں ہائیڈروجن موجود ہے۔ جس میں تیل اور گیس سے زیادہ اہم وہ شے ہے جو لگ بھگ ہر انسان کی دسترس میں ہے۔ اور دنیا میں 75 فی صد سے زیادہ جگہ پر موجود ہے یعنی پانی۔

اللہ تعالی نے پانی میں ایک شان دار خوبی رکھی ہے۔ اگر ہم صاف پانی میں دو مختلف دھاتیں ڈال کر ایک کو بیٹری کے مثبت اور دوسرے کو منفی تار سے جوڑ دیں۔ تو پانی میں ایک عمل شروع ہوجاتا ہے جسے ”الیکٹرولائسس“ کہتے ہیں۔ اس دوران پانی کے مالیکیول پھٹ کر ہائیڈروجن اور آکسیجن میں الگ الگ ہو جاتے ہیں (بلبلوں کی شکل میں )۔ ایک تار سے منسلک دھات پر ہائیڈروجن کے بلبلے جمع ہونے لگتے ہیں اور دوسری پر آکسیجن کے۔ اور اگر ہم یہاں ان تاروں پر کوئی ٹیوب یا پائپ لگا کر ان ہیں الگ الگ سلنڈر سے منسلک کر دیں تو ایک سلنڈر میں آکسیجن اور دوسرے میں ہائیڈروجن جمع ہونا شروع ہو جائے گی۔ یہ اور بات کہ یہ نسخہ ہمیں کتنا مہنگا پڑے گا۔ مگر بہر حال کام ہو جائے گا۔ یوں سمجھیں وہ ہائیڈروجن جو انڈیا میں 300 ہندوستانی روپے کی مل رہی تھی 1000 یا دو ہزار ہندوستانی روپے کی بجلی ضائع کر کے شاید ہمیں مل سکے۔

ہائیڈروجن کے حصول کا دوسرا سب سے آسان نسخہ، کاربن مونو آکسائیڈ مانا جاتا ہے۔ جی وہی زہریلی گیس جس سے انسانوں کی موت ہوجاتی ہے۔ جو سردیوں میں گیس ہیٹر، کاروں میں شیشے بند کر کے گرم اے سی کا ہیٹر چلانے سے جمع ہوجاتی ہے (یا سستا کوئلہ جلانے سے خارج ہوتی ہے )۔

اس طریقے میں کاربن مونو آکسائیڈ کو انتہائی گرم بھاپ سے گزارا جاتا ہے۔ جس کے بعد انسانوں کے لئے قابل قبول کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس اور ہائیڈروجن حاصل ہوجاتی ہے۔ یعنی اگر ہمارے پاس ہائیڈروجن نہ بھی ہو تو پانی یا کاربن مونو آکسائیڈ سے بھی ہم ہائیڈروجن کو حاصل کر سکتے ہیں۔ کسی عرب ملک کے نخرے اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ یہاں ایک سوال ذہن میں آنا ضروری ہے کہ پانی کو گرم کیسے کیا جائے گا۔ تو آسان جواب ہے دن کی دھوپ کو مفت استعمال کر کے، یا محدب عدسوں یا ایسے ٹینک استعمال کر کے جو شمسی گیزر کا متبادل ہیں۔

اب ایک بہت اہم بات کہ ہائیڈروجن سے گاڑیاں کیسے چلتی ہیں۔ یہ سمجھ لیں تو ہمیں انجینئر وقار کی واٹر کٹ بھی سمجھ میں آ جائے گی۔ لیکن اس کے لئے ایک قسط اور۔ (جاری ہے)

Facebook Comments HS