26 ویں آئینی ترامیم، مولانا کا قوم پر احسان۔
آپ نے بڑے آئینی بحران سونامی طوفان سے ملک کو سیاسی حادثہ سے بچایا۔ تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ، ایم کیو ایم، اے این پی سمیت دیگر پارٹیوں کا مولانا پر اعتماد اس بات کا ثبوت ہے کہ مولانا جیسے مدبر سیاسی بصیرت رکھنے والے سیاسی شخصیت، مذہبی رہنما میں وہ صلاحیتیں ہیں کہ وہ ملک کو معاشی اقتصادی، بیرونی خطرات سے بھی بچا سکتے ہیں، آپ کا اعتماد، ڈٹ کر کھڑے رہنا، اخلاق، انکساری سے پیش آنا کوئی آپ سے سیکھے۔
یہاں بڑے بڑے سیاسی ترم خان موجود ہیں جن کو بڑے القاب سے نوازا جاتا ہے مگر وہ آپ کے پاس آ کر ہی سیاسی بھنور سے نکالنے کی منت کرتے ہیں، بہرحال مدرسے کے فارغ التحصیل مولوی کا ایک بار پھر ملک قوم اور سیاسی جماعتوں پر احسان ہوا، مولانا فضل الرحمان نے اسٹیبلشمنٹ سیاسی جماعتوں اور حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ اپنا پیش کردہ آئینی مسودہ منوانے میں کامیاب ہو گئے۔ مولانا فضل الرحمن سیاست کے ساتویں بیڑے کی وہ کپتان ہیں جو ایک ہی وقت آگ اور پانی، شیر اور بکری، دوست اور دشمن کو بٹھانے کا ہنر بہتر جانتے ہیں، مجھے پتا تھا میں نے پہلے ہی لکھا تھا کہ کسی بھی صورت میں آئینی عدالت کا قیام نہی ہو گا۔
تحریک انصاف جیسی ضدی تنظیم، آصف زرداری سب ہے بھاری، میاں نواز شریف ہوں یا کوئی اور سب کو مولانا کی بات ماننی پڑ گئی، شاید مولانا فضل الرحمن سے بہتر کوئی نہی جانتا کہ ملک اور قوم کا بھلا کس میں ہو گا، مولانا دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آئین کی تشریح اور قانون کی بالادستی کیسے ہوتی ہے، ایک بات واضح ہے کہ مدرسے کا فارغ التحصیل مولوی کس طرح آکسفورڈ اور کیمبرج کے گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ کو مات دے کر آگے نکل گیا ہے، آئین اور قانون کی اتنی تمیز کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو معافی مانگ کر اپنا فیصلہ واپس لینا پڑا۔
پہلے میں سوچتا تھا کہ اگر۔ مولوی صاحب کو حکومت دی گئی تو کس طرح ملک چلائیں گے لیکن اب کہتا ہوں کہ مولانا کے بغیر یہ کس طرح حکمران ملک چلا رہے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو آئینی ترمیم پر ووٹ دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں جاری ڈیڈ لاک بھی ختم ہو گیا ہے۔ 26 ویں آئینی ترامیم کا مسودہ قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے۔
مولانا فضل الرحمان کا گھر اس وقت سیاسی طور پر سیاسی جماعتوں کے لئے ایک سیاسی لیبارٹری، ریسرچ سینٹر، جسے اگر ٹیوشن سینٹر کہا جائے تو غلط نہی ہو گا، ایک دن میں 24 گھنٹوں کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 6 سے 7 مرتبہ مولانا فضل الرحمن کی رہائش گاہ پر پہنچ جاتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف ہوں یا صدر آصف علی زرداری ہوں۔ میاں نواز شریف ہوں یا سردار اختر مینگل یہ مولانا کے پاس آتے جاتے رہے ہیں لیکن مولانا فضل الرحمن کو پہلے مسودے پر قائل کرنے میں ناکام ثابت رہے۔
پھر جب مولانا فضل الرحمن نے اعتراض شقیں نکال کر سب کو متحد کر کے اپنا پیش کردہ مسودہ پیش کیا تو تحریک انصاف سمیت حکمران جماعت بھی راضی ہو گئی۔ سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ تحریک انصاف جو کبھی مولانا فضل الرحمن کی سخت مخالف گیر جماعت ہوا کرتی تھی، مولانا کو مولانا کہنا بھی توہین سمجھتے تھے ان کا پورا اعتماد مولانا فضل الرحمن پر ہے۔ وہ سمجھے ہیں کہ بغیر کسی لالچ کے یا مفاد کے اگر کوئی ملک قوم کے لئے سوچتا ہے اور آئین کا محافظ ہے تو وہ صرف اور صرف مولانا فضل الرحمن ہی ہے


