جواں مرگ افغان قصہ نویس کا قصہ
افغان محقق سید محی الدین ہاشمی اور ڈاکٹر بریالی باجوڑی وغیرہم کے مطابق افغانستان میں ناول کی ابتدا 1938/39ع میں برہان الدین کشککی او ر محمد رفیق قانع کے ناولوں۔ ’پوشیدہ محبت‘ اور ’دو عاشق بھائی‘ سے تصور کیا جاسکتا ہے جو بعد میں اشتراکی فکر کے سرخیل نور محمد ترہ کئی نے ’بے تربیت بیٹا‘ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ تاہم اولین پشتو ناول کے درج بالا ظنی رائے کے ساتھ اختلاف کی کافی گنجایش ہے۔ بعد ازاں فارسی، روسی، انگریزی، فرانسیسی اور اردو سے تراجم او ر طبعزاد ناولوں کی تخلیق کا سفر تیزی سے جاری رہا۔ جو کہ تاحال بڑے زو ر و شور سے جاری ہے لیکن ایک بات بڑے تیقن سے کی جا سکتی ہے کہ جتنا منظوم و منثور ادب متحدہ ہندوستان کے بٹوارے نے تخلیق کیا ہے اتنا پشتو ادب میں افغانستان کے المیے سے متعلق نظر نہیں آ رہا۔ جن کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔
متقدمین و معاصرین ناول نویسوں غوث خیبری، قتیل خوگیانی، کبری مظہری، محمد ابراہیم عطائی، مصطفی جہاد، عبدالباری جہانی، سعدالدین شپون، محمد اکبر کرگر، ہما ظفر احمد زئی، ڈاکٹر محب زغم، وگمہ سبا عامر، لال پاچا ازمون اور کئی دیگر مترجمین کے بعد نوجوان لکھاریوں میں مرحوم نصیر احمد احمدی نے قلیل عرصہ میں مختلف موضوعات پر یکے بعد دیگرے پشتو ادب کو پندرہ ناول دیے۔ افغان محقق اور تذکرہ نویس محمد داود وفا تحریر فرماتے ہیں کہ ’فتح اللہ احمدی کے ہاں غزنی قرہ باغ میں 1974ع کو پیدا ہونے والے نصیر احمد نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں ہی میں حاصل کی۔
بعد ازاں مزید تحصیل علم کے لئے کابل میں مصروف عمل رہے۔ 1991ع میں فراغت کے بعد پاکستان مہاجرت کے دوران فن زراعت سے متعلق ایک مختصر تربیت کے بعد کئی سال اسی پیشہ سے وابستہ رہ جانے کے بعد ایران عازم سفر ہوئے۔ اور پھر 2003 میں نشریاتی ادارے بی بی سی کے ساتھ بطور فیچر رائٹر کے فرائض انجام دیتے رہے‘ ۔ نصیر احمد کے بھتیجے رفیع اللہ احمدی کے مطابق آپ دس جولائی 2021ع کو کرونا کے جان لیوا وبا میں وفات پا گئے۔
نصیر احمد کا فنی اختصاص یہ ہے کہ آپ اپنے ناولوں میں نہ تو انقلابیانِ خلق و پرچم کے واقعات کو موضوع بحث بناتے ہیں، نہ مجاہدین کی تنظیموں کو، نہ خارجی حملہ آوروں کی دست درازیوں کی خونچکاں داستان رقم کرتے ہیں، اور نہ مقامی غیر معتدل رویوں کے داعیوں کا رونا روتے ہیں۔ آپ فقط اجمالی اشاروں پر اکتفا کر کے ان تمام عوامل اور سیاسی عروج و زوال سے متاثر عام مخلوقِ خدا کے قصے احاطہ تحریر میں لاتے ہیں۔ نبض شناس اور زمانہ شناس نصیر احمد ایسی درد بھری سحر انگیز کہانیاں لکھتے ہیں کہ پڑھتے وقت بے اختیار آنسو چھلکنے لگتے ہیں۔ گویا ان ناولوں میں شعوری طور پر افغانستان کے دور حاضر کی ایک سماجی، نفسیاتی اور جنگی تاریخ رقم گئی ہے۔ جس میں قصائد کم اور مرثیے کثرت سے ملتے ہیں۔ راقم نے ان کے ناولوں میں پسِ جنگ ہیجان اور مہاجرت کے اثرات پرائم فل تحقیقی مقالہ میں ان دو موضوعات پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
کئی دہائیوں پر محیط کچھ اپنی، کچھ پرائی جنگ کو اس کی طوالت کی مناسبت سے کم ہی پشتو ناول اور افسانہ میں محفوظ کیا گیا ہے، جنگ کی ہولناکیوں کے شکار بے بسی کی تصویر بنے بندگان خدا ہر نئے آنے والے کے لئے تختہ مشق بنے رہے۔ لیکن ان کا درد و مرثیہ کم ہی لکھا گیا تاہم نصیر احمد اس کمی کو پورا کرتے نظر آتے ہیں اور شاید ان کی بے پناہ مقبولیت کا راز بھی یہی ہے کہ ہر پڑھنے والے کو ان کی کہانی اپنی ہی حکایت خونچکاں نظر آتی ہے۔
ان کے پندرہ مختصر اور طویل پشتو ناولوں، خونکار، جھولا، بوڑھا اور گرگ کے نشانات، ایک بات بتاؤں؟ ، رنگ دار کان، پٹھان، بیت عنکبوت، اخ اے وطن، باد تند و تیز، جو جو، روشنی، دادا، ڈیوڈ جونز/بغدادی پیر، خاردار سیم، اور زر و میں تلخی ایام کی کہانیاں خون دل سے لکھی نظر آتی ہیں۔ نصیر احمد احمدی کوچہ و بازار اور دیہات و مضافات میں بسنے والوں کے مسائل زیر بحث لاتے ہیں اور پوری جزئیات نگاری کے ساتھ کرداروں کے ذریعے اجتماعی غم کو مجسم طور پر پیش کرنے میں ثانی نہیں رکھتے۔
معاشی اور سماجی محرومیوں سے بھری دیہی زندگی، جہل اور منفی روایتی سوچ، شہری اور دیہی زندگی کے درمیان حائل سماجی فاصلے، مہاجرت و مسافرت کے تلخ تجربات، لا مختتم جنگ و جدل کی نحوستیں او ر لازوال بربادیاں، لامرکزیت کا لاینحل مسٗلہ، شناخت کے المیہ کے دور میں قیادت و سیادت کے خلا کو پر کرنے کے لئے ماضی پرستی کے طرف جھکاؤ، سائنس فکشن تحریر کرنے کی کامیاب کوشش اور طلسماتی حقیقت نگاری کے فکری مواد بھی ان کے تخلیقی تجربہ میں نظر آتے ہیں۔
ناول نویسی کے علاوہ شخصیت نگاری میں ابو ریحان البیرونی، کاتب ہزارہ، خان عبدالغفار خان، موسی شفیق اور محمد ہاشم میوندوال کے نام سے کتابیں لکھیں۔ او ر فن قصہ گوئی پر ’آؤ کہ کہانی لکھیں‘ ، اور ’معجزے کا پتھر‘ ، لکھنے کے علاوہ انہوں نے خارجی زبان سے ’فلسفہ میں ہمیشہ یاد رہنے والے واقعات‘ کے نام سے کتاب ترجمہ کی۔ یخ بستہ ہوائیں، اشر، محبت اور برف کا آدمی نصیر احمد کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ افسانوں اور ناولوں میں موضوعاتی اور اسلوبیاتی مماثلت ہے۔
اسلوبیاتی لحاظ سے ان کے ہاں ایک مکمل اچھوتا پن ہے۔ سلاست و روانی ایسی کہ مثال ملنی مشکل، دردِ دل سے لکھنے کا ایک بے باک انداز کرداروں او ر واقعات کی مناسبت سے تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ چونکہ غزنی سے تعلق ہے تو فارسی /دری کے الفاظ سے بھی ان کے متون میں ملتے ہیں۔ ان کی مخصوص طرز نگارش نے انہیں ایک الگ شناخت عطا کی ہے۔ جس کی پیروی کرنا ایک مشکل امر ہے۔


