گرتا ہوا سپاہی، ماچس والی لڑکی اور خوابوں کی تلاش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 34
  •  

رابرٹ کاپا 22 اکتوبر 1913 کو ہنگری میں ایک یہودی خاندان کے ہاں پیدا ہوا۔ یورپ میں تاریخ ایک بڑی کروٹ کے دہانے پر ہے۔ سول وار کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ پر نصف صدی بیت چکی ہے۔ یورپ میں کمیونزم پر مباحث جاری ہیں۔ نوجوان رابرٹ کاپا ان مباحث میں شریک ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں رابرٹ پر کمیونزم کے ساتھ ہمدردی کا الزام لگتا ہے۔ رابرٹ کاپا ہنگری چھوڑ کر برلن کا رخ کرتا ہے۔ وہ برلن یونیورسٹی میں داخلہ لیتا ہے۔ اپنی گزر بسر کے لئے کاپا ایک جرمن فوٹو گرافی ایجنسی سے متعلق ہوجاتا ہے۔ ادھر جرمنی ہٹلر کا خون آشام سورج طلوع ہوتا ہے۔ رابرٹ کو یہودی ہونے کی بنا پر جرمنی چھوڑ کر پیرس جانا پڑتا ہے۔ پیرس میں اسے ایک جرمن یہودی خاتون Gerda Taro ملتی ہے۔ Taro یورپی سول وار میں جنگی فوٹو گرافر(War Photographer) ہیں۔ دونوں کو یہودی ہونے کی وجہ سے جرمنی چھوڑنا پڑا تھا۔ تعلق کی نوعیت میں پسندیدگی آ جاتی ہے۔ رابرٹ کو جرمنی میں رہتے ہوئے فوٹوگرافی کا تھوڑا بہت تجربہ ہو چکا تھا۔ ادھر پیرس میں Taro کا ساتھ ملتا ہے ۔ یوں رابرٹ بھی فوٹو گرافر بنتا ہے۔ 1936 میں سپین میں سوال وار کا آغاز ہوتا ہے۔ رابرٹ اسپین کا رخ کرتا ہے۔ جنگی محاذ پر مختلف تصاویر اتارتا رہتا ہے مگر وہ ایک عام فوٹو گرافر ہے۔ بالآخر 5 ستمبر 1936 کا دن آن پہنچتا ہے۔ رابرٹ بدستور محاذ پر تصاویر اتار رہا ہے۔ محاذ پر گولیاں چلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ رابرٹ بیس سپاہیوں کے ساتھ ایک خندق میں پناہ لے لیتا ہے۔ اتنے ایک سپاہی اپنی بندوق تھام کر کھڑا ہوتا ہے۔ رابرٹ اپنا کیمرہ سنبھالتا ہے۔ اس کا سر نیچے ہے ،وہ اپنا کیمرہ بلند کرتا ہے اور ایک تصویر اتار لیتا ہے۔

عین جس وقت وہ سپاہی کو فوکس کر کے کیمرے کا بٹن دبا رہا ہوتا ہے۔ ایک گولی سپاہی کے سر کو چیرتی ہوئی نکل جاتا ہے۔ سپاہی گرنے والا ہوتا ہے۔ بندوق اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب وہ رابرٹ کے کیمرے کے فریم میں آجاتا ہے ۔ رابرٹ ایک عام فوٹو گرافر سے دی گریٹ رابرٹ کاپا بن جاتا ہے۔ اس تصویر کو دنیا The Falling Soldier کے نام یاد کرتی ہے۔ گرتا ہوا سپاہی۔

آیئے دوسری طرف چلتے ہیں۔ پہلے جنگ عظیم میں نازی افواج لگسمبرگ اور بیلجیم کو فتح کرتے ہوئے فرانس کے صنعتی علاقوں پر قبضہ جما لیتی ہیں۔ مشہور زمانہ ویسٹرن تھیٹر کا میدان سجتا ہے۔ فرانس میں 14 لاکھ انسان لقمہ اجل بنتے ہیں۔ جنگ کے بعد ادیب قلم سنبھال لیتا ہے۔ خواب اور حقیقت کے درمیان بھید بھاﺅ کی گرہیں کھولی جا رہی ہیں۔ Surrealism کا آغاز ہو چکا ہے۔ پال ایلارڈ ’ درد کا سرمایہ‘ لکھتا ہے۔ پال کے نظموں میں بھوک بلکتی ہے۔ درد کا احساس جھلکتا ہے۔ ایسے میں Jean Renoir  ظلمت شب سے برسرپیکار آتا ہے۔ ژاں جنگ عظیم اول میں فرانس کا مانا ہوا گھڑ سوار تھا۔ جنگ کے دوران اس کے پاﺅں میں گولی لگی جس نے اسے ہمیشہ کے لئے اپاہج کر دیا۔ معذوری میں ژاں نے فلم بینی شروع کر دی۔ ژاں، چارلی چپلن سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے طے کیا کہ وہ اب فلمیں بنائے گا۔ 1928 میں ژاں نے ڈنمارک کے ایک مصنف Hans Christian کی ایک مختصر کہانی کو فلمایا۔ ماچس والی لڑکی۔ یہ ایک خامو ش فلم تھی۔

 ایک چھوٹی سی لڑکی نیو ائیرکی شام کو گلی میں ماچس بیچ رہی ہے۔ دسمبر کی سردی رگوں میں خون جما دینی والی ہے۔ اس کے چھوٹے چھوٹے پاﺅں جوتوں سے بے نیاز ہیں۔ وہ سردی سے ٹھٹھر رہی ہے مگر گھر جانے سے ڈرتی ہے۔ اسے یاد آتا ہے کہ اس کے گھر میں دیواروں کے درزوں سے بھی ایسی سرد ہوائیں آتی ہیں۔ اسے خوف ہے کہ اگر وہ گھر جائے گی تو اس کا باپ ماچس نہ بیچنے پر اس کے ساتھ مار پیٹ کرے گا۔ وہ ادھر ادھر بھٹکتے بھٹکتے ایک کونے میں بیٹھ جاتی ہے۔ اسے خیال آتا ہے کہ سردی سے بچنے کے لئے اسے ماچس جلانی چاہیے۔ وہ ایک تیلی جلاتی ہے۔ شعلہ بھڑکتا ہے۔ خواب اور حقیقت گڈ مڈ ہوتے ہیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آگ کے شعلے نے ایک کرسمس ٹری کی شکل اختیار کر لی ہے۔ پھر ان شعلوں میں رنگ و رامش کی بہار امڈ آتی ہے۔ وہ ماچس جلاتی جاتی ہے اور سپنے دیکھتے جاتی ہے۔ اتنے آسمان میں اسے ایک ٹوٹتا ہوا تارا نظر آتا ہے۔ اسے یاد آتا ہے کہ اس کی دادی نے کہا تھا کہ یہ تارا نہیں ٹوٹا۔ یہ تو ایک پری جنت جا رہی ہے۔ اسے ٹوٹ کر دادی کی یاد آتی ہے۔ ایک دادی ہی تو تھی جو اسے پیار کرتی تھی۔ اسے شعلوں میں اپنی دادی کا پر نور چہرہ نظر آتا ہے۔ آگ کے شعلے بجھنے کے قریب ہوتے ہیں۔ اس کی دادی کی شبیہہ ٹوٹ رہی ہوتی ہے۔ وہ مزید تیلیاں جلاتی ہے۔ ایک کے بعد ایک۔ دادی کی شبیہہ بس ٹوٹنے نہ پائے۔ مگر اس کے پاس ماچس کی تیلیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ آگ بجھ جاتی ہے۔ آگ کے بجھنے کے ساتھ ہی سانس کی ڈوری بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ جسم ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ دھویں میں سے دادی کی روح نکل کر آتی ہے اور اس کی روح کو لے کر جنت کی طرف روانہ ہو جاتی ہے۔ صبح گزرنے والے راہ گیر کونے میں ایک معصوم بچی کی لاش دیکھتے ہیں۔ لاش کے پاس بہت ساری تیلیاں جلی پڑی ہیں ۔ لاش جم چکی ہے۔ مگر صرف لاش نہیں جمی تھی اس کے معصوم ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی جم چکی تھی۔

 آج صبح ایک افغان صحافی دوست نے ایک بچی کی تصویر بھیجی تھی۔ پتھر پر سر رکھے ایک پانچ سالہ بچی سو رہی تھی۔ سردی سے وہ بہت سمٹی ہوئی تھی۔ نیند میں اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔ معلوم ہوا کہ بچی اپنی ماں اور باپ کے ساتھ گزشتہ کئی دن سے تورخم بارڈر پر افغانستان کی جانب بارڈر کھلنے کا انتظار کر رہی ہے۔ اس کا باپ بیمار ہے جسے اس کی ماں غالباَ پشاور کے کسی ہسپتال لے جانا چاہتی ہے۔ میں بہت دیر تک تصویر کی تاب نہ لاسکا اور تصویر ڈیلیٹ کر دی۔ سیاست کے کھیل نرالے ہیں۔ گزشتہ اڑتیس سالوں سے افغانستان میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ادھر پاکستان میں گزشتہ دس سال ستر ہزار لاشیں گر چکی ہیں۔ فتح مندی کا خواب مگر پورا نہیں ہو سکا۔ آنکھ کا پانی اگر سلامت ہے تو دیکھ لیجیے۔ خنجر کے دستے پر دونوں جانب ہاتھ ایک ہی نظر آئے گا۔

فرانس کے ساحل پر کیلے کا ایک چھوٹا سا علاقہ ہے۔ 1346 کی جنگ کریسی سے لے کر 1558 کے محاصرہ کیلے تک فرانس اور برطانیہ دو سو سال تک کیلے کے لئے لڑتے رہے۔ 1558 میں برطانیہ کو شکست ہوئی۔ شکست کے بعد ملکہ میری اول نے کہا کہ مرنے کے بعد میرا دل چیرا گیا تو اس میں کیلے کا نقشہ رکھا ہو گا۔ ملکہ میری اول کیلے کی آرزو دل میں لئے خا ک ہوئی۔ 28 اپریل 1978 کو سردار داﺅد اپنے محل ارگ میں خون میں لت پت تھا تو شاید اس کی دل میں پشتونستان کا نقشہ ادھورا رہ گیا ہو گا۔ 17 اگست 1988 کو جنرل محمد ضیاءالحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کا جہاز جب زمین سے ٹکرایا ہو گا تو ان کے سینے میں کابل پر سبز ہلالی پرچم کا خواب ادھورا رہ گیا ہو گا۔ ہم انسان مگر جولاہے ہیں۔ ہماری سرحدوں پر سپاہی گرتے ہیں۔ ہمارے بازاروں، میدانوں، مزاروں میں انسان گرتے رہتے ہیں۔ ہماری سرحدوں پر معصوم بچیوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں جم جاتی ہیں۔ ہم مگر خواب اور حقیقت میں تمیز کرنے میں صدیاں لگا دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 34
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 179 posts and counting.See all posts by zafarullah