آئینی ترمیم: اگر میں کہوں


واہ بھئی واہ! کیسا زبردست ڈرامہ رچا ہے اس نام نہاد مقدس ایوان میں۔ میں آخری وقت تک بیوقوفوں کی طرح سمجھتی رہی کہ یہ نہیں ہو پائے گا۔ آخر کہیں تو رکے گا۔ لیکن ہمیشہ کی طرح میں غلط ہی ثابت ہوئی۔ یہ سب ایسے ہی ہوتا آیا ہے اور ایسے ہی ہونا ٹھہر گیا ہے۔

یہ اقتدار اور پیسے کی بھوک کب ختم ہو گی؟ یہ مار دھاڑ، پکڑ دھکڑ، اس کا نام نا لو، اس کا نعرہ نا لگاؤ۔ آخر یہ سلسلہ کہیں رکے گا بھی؟ شاید نہیں۔

میری طرح کے کچھ کم فہم لوگوں کو بتاتی چلوں کہ مہذب ملکوں میں آئین میں ترمیم انتہائی نازک معاملہ ہے۔ ملک کی بقا کا معاملہ ہے۔ اسے سر انجام دینے کے لیے مہینوں ایوان میں بحث و تکرار ہوتی ہے۔ ملک کے مفادات اور اس ترمیم سے پہنچنے والے نقصانات پہ روشنی ڈالی جاتی ہے۔ ایوان میں بیٹھنے والے لوگ کروڑوں لوگوں کے نمائندہ اور ترجمان ہوتے ہیں، سو وہی فیصلہ کرنے کے پابند ہیں جو ان کروڑوں لوگوں کے مفاد میں جاتا ہے۔ کئی شقیں منظور ہوتی ہیں کئی نامنظور۔ اور فیصلہ ہمیشہ ملک و قوم کے حق میں جاتا ہے۔ لیکن میں ایک مہذب معاشرے کی بات کر رہی ہوں۔

اگر پاکستان کی بات کی جائے تو اس کے لیے اتنی سر کھپائی کی ضرورت نہیں۔ بس ان سے ان کے ووٹ کی قیمت پوچھنی ہے۔ اگر نا مانے تو سنگین نتائج سے ڈرانا ہے۔ پھر بھی نا مانے تو اغوا کرنا ہے۔ اور اب معاملات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں وہاں کوئی بھلا مانس نا مانے تو اس کے بیوی بچوں کو تکلیف پہنچانی ہے۔ اتنی دور پہنچنے سے پہلے قیمت طے ہونے پر سب طے ہو ہی جاتا ہے۔

آج کے بچے پوچھتے ہیں کہ عورتوں اور بچوں کو کیوں گھسیٹا جاتا ہے جو کہ سیاسی بھی نہیں، سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں۔ میرے پاس جواب نہیں ہوتا۔ لیکن اتنا پتا ہے کہ یہ ضرب کاری ضرب ہے۔ ایک ہی وار کارگر ہوتا ہے۔ چاروں شانے چت۔

دنیا کے لیے بھی یہ نظارے نئے سے ہوں گے۔ میں جاننا چاہتی ہوں کہ دنیا پاکستان اور اس کے معاملات کے بارے میں کیا سوچتی ہے؟ بین الاقوامی تنظیمیں جو انسانی حقوق کی ٹھیکیدار بنی بیٹھی ہیں وہ اس سب کو کیسے دیکھتی ہیں؟ شیطانی طاقتوں کو یہ نظارے مزہ دیتے ہوں گے۔ اور میں پھر اسی سوال میں اٹک جاتی ہوں کہ طاقت کا استعمال امن لانے کے لیے کیوں نہیں ہو سکتا؟ طاقت کا استعمال جنگ بند کرنے کے لیے کیوں نہیں ہو سکتا؟

یہ طاقت کا زور ہی ہے نا کہ وہ نام جن پر ہم تکیہ کیے بیٹھے تھے، وہی غداری کو ہوا دینے لگے۔ یہ تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ یہاں نام بتا کر آپ کا اور اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہتی۔ پر تکلیف سی تکلیف ہے۔ بولنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس تکلیف کو اندر ہی رکھیں تو یہ جان کا روگ بن جائے۔ رات سے کتنی ہی ویڈیوز دیکھ چکے ہیں، لوگ قرآن پہ ہاتھ رکھ کر جھوٹے دعوے اور قسمیں کھا رہے ہیں۔ پوچھتے ہیں کہ کوئی قرآن پہ ہاتھ رکھ کے جھوٹ کیسے کہہ سکتا ہے؟

اگر میں کہوں کہ یہ ایوانوں میں بادشاہ بنے بیٹھے اللہ کے ننانوے ناموں کے نیچے بیٹھ کر جھوٹا حلف لے سکتے ہیں تو یہ جھوٹا قرآن بھی اٹھا سکتے ہیں۔ یہ قرآن کی حرمت کیا جانیں کہ ان کی رسی ابھی دراز ہے۔ کوئی مرنے کے بعد آ کر بتاتا تو سہی کہ یہ نری بربادی ہے۔

اگر میں کہوں کہ 25 کروڑ لوگوں کے ووٹ کا فائدہ نہیں تو کیا غلط ہے؟ ووٹ تو وہی ہے جو 70 کروڑ روپے کا ہے۔ آج 25 کروڑ عوام وہ ننگا ناچ دیکھ رہے ہیں جو پیسے کے بل پر ملک کے یہ گنے چنے باعزت شہری ایوانوں میں کر رہے ہیں۔ یہ ان کی بقا کی جنگ ہے اور ہمارے اعصاب کی جنگ ہے۔ دیکھتے ہیں پہلے کون ہارتا ہے۔

اگر میں کہوں کہ ملک و قوم کے اربوں روپے لگا کر الیکشن کا اہتمام کرنے کی زحمت اب ترک کر دیجیئے تو اسے میرا مخلصانہ مشورہ سمجھئیے۔ ہمارے ٹیکس کا پیسہ انہی کو دیں گے جو ہم سے ہی دغا کرے گا؟ آخر ہو گا تو وہی جو ’آپ‘ کی منشاء ہو گی۔ یہ ”صاف چھپتے بھی نہیں، سامنے آتے بھی نہیں“ والی روش چھوڑ دیجیئے۔

اگر میں کہوں کہ میرے لوگ اب باشعور ہیں تو غلط یہ بھی نہیں۔ میں کہوں گی کہ ایک مرد آہن تن تنہا کھڑا بھی کمزور نہیں پڑ رہا تو 25 کروڑ کا یہ کنبہ بھی کمزور نا پڑے۔ آواز بلند رکھو! خاموش نا بیٹھو! شور ڈالو اس نا انصافی پہ کہ ہمارا شور ان کے کان کے پردے پھاڑ دے۔ تمہاری آواز بلند ہی تھی تبھی یہ ان غلیظ ہتھکنڈوں کے پیچھے جا چھپے۔ نفرت کا اظہار ہی کر دو۔ ورنہ کہہ دو کہ عورتوں کو گھروں سے اٹھایا، ٹھیک اٹھایا۔ بچوں کے ناخن کھینچے، ٹھیک کیا۔ کوئی جواز تو دو۔ یا پھر یہ سمجھ جاؤ کہ یہ تم سے خوفزدہ ہیں۔ ان کی عافیت تمہارے خوفزدہ ہونے میں ہے، تمہارے ہمت ہار جانے میں ہے۔ یہ لاٹھی اور گولی چلاتے کبھی تو تھکیں گے، تم نا تھکو! اگر کوئی رستے میں دغا دے جائے تو رستہ خود ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ ٹھوکریں کھا کر بھی منزل پر پہنچنا پڑتا ہے۔ تم نا پہنچے تو تمہاری نسلیں پہنچیں گی، پر اپنے قدموں کے نشان تو چھوڑ جاؤ۔ بتا دو انہیں کہ آمریت کا یہ ننگا ناچ ہمارے لیے تکلیف دہ تو ہے لیکن وقتی ہے، دائمی نہیں۔ اس تکلیف کا علاج جس دن ہمیں پتا چل گیا، اس دن انہیں گھنگھرو توڑنے پڑیں گے۔ ہار نا مانو! یاد ہے نا ہارتا وہی ہے جو ہار مان جاتا ہے۔

Facebook Comments HS