برکس کے اہداف اور توقعات
22 اکتوبر سے روس کے شہر کاذان میں شروع ہونے والے برکس اجلاس پر دنیا کی نظریں ہیں کیوں کہ یہ اجلاس برکس میں توسیع کے بعد پہلا اجلاس ہے۔ گزشتہ سال جنوبی افریقہ میں ہونے والا برکس کا اجلاس ایک تاریخی اجلاس ثابت ہوا کیوں کہ اس میں رکن ممالک کی توسیع کے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی اور نئے اراکین کا خیر مقدم کیا گیا۔
برکس نے گزشتہ برسوں کے دوران تیزی سے ترقی کی ہے اور یہ ترقی، پائیدار امن اور بنی نوع انسان کے مستقبل کے حصول کے لیے باہمی اہداف کے حصول کے لیے کثیر الجہتی اور کثیر قطبیت کو فروغ دینے والی ایک اہم تنظیم بن چکی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر مختلف نئی تنظیمیں اور نئے اتحاد سامنے آ رہے ہیں لیکن بد قسمتی کہیں کہ دنیا اپنی تبدیلیوں میں مثبت نہیں بلکہ منفی نظر آ رہی ہے۔ ایک جانب مشرق وسطیٰ کا دیرینہ مسئلہ ”مسئلہ فلسطین“ ہے جہاں اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والے نئے تنازعے نے اب اپنی سرحدیں بڑھا دی ہیں اور لبنان سمیت اب ایران اور اسرائیل کا محاذ دنیا کے امن کے لئے بھیانک خواب کی تعبیر کی صورت میں سامنے ہے تو دوسری جانب ایشیا میں مسئلہ کشمیر جوں کا توں ہے اور پھر روس یوکرین جنگ بھی نہ حل ہونے والے آثار کے ساتھ بین الاقوامی برادری میں تقسیم در تقسیم کی صورتحال پیدا کر چکی ہے۔ ایسے میں دنیا میں استحکام حاصل کرنے والے اتحادوں میں برکس ایک ایسا اتحاد نظر آتا ہے جو نہ صرف اپنی متنوع تشکیل اور صلاحیتوں کا حامل ہے بلکہ اس میں وسعت کی گنجائش اسے مزید اہم بنا رہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں گو کہ یہ توقع سے زیادہ کی امید ہے لیکن دنیا اس بارے میں سوچ رہی ہے کہ تجارتی اتحاد کیا دنیا کو ایک پر امن دنیا دے سکتا ہے اور کیا جنگ کے شکار ممالک بندوقوں کو خاموش کر کے گفتگو کی میز پر آ سکیں گے؟ ایسے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ جنگ کا شکار ہونے والے ممالک چاہیں بھی تو کیا اسلحے کے بیوپاری اپنے فائدے سے بڑھ کر انسانیت کا سوچ سکیں گے؟
سربراہ اجلاس کی تیاری کے لیے، روس نے بطور صدر برکس ممالک کے درمیان مزید تعاون کے مواقعوں کو مضبوط کرنے کے لیے پہلے ہی سے وسیع مصروفیات اور اجلاس طلب کیے ہیں۔ ان میں سے ایک ستمبر میں منعقدہ برکس ویکسین آر اینڈ ڈی سنٹر کے امور سے متعلق ایک آن لائن میٹنگ تھی جس میں عالمی سطح پر متعدی بیماریوں کے خلاف ویکسین تک مساوی رسائی پر خصوصی توجہ دی گئی اور کہا گیا کہ نئے چیلنجوں کا کامیابی سے جواب دینے کے لیے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے جس میں ”ڈیزیز ایکس“ سے پیدا ہونے والے خطرات کا مربوط جواب شامل ہے۔ اس کے بعد 20 ستمبر کو روس کے سینٹ پیٹرزبرگ میں برکس وزراء برائے خواتین کے امور کا اجلاس ہوا جس میں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں ”بات چیت کے شعبوں“ کی نشاندہی کی گئی، جس کا پانچواں مقصد خاص طور پر تمام خواتین اور لڑکیوں کو با اختیار بنانا اور صنفی مساوات حاصل کرنا ہے۔ 26 ستمبر 2024 کو روس کے شہر ماسکو میں برکس کے وزرا ء کا توانائی کا نواں اجلاس ہوا جس میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے ایجنڈوں کے درمیان باہمی تعلق پر اتفاق کیا گیا اور یہ اتفاق بھی حاصل کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اہداف کے حصول میں ممالک کی معاشی ترقی نہیں رکنی چاہیے۔
برکس کے لئے اہداف اور چیلنجوں کی بات کی جائے تو سب سے پہلے دنیا میں کثیر الجہتی نظام اور اس سے منسلک تجارتی نظام کی قبولیت کا مسئلہ ہے کیوں کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی کی مزاحمت کرتے ہوئے اور یک طرفہ تجارتی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہوئے ایک ایسی سوچ کے قیام اور اس پر عمل در آمد کی ضرورت ہے جو متبادل کے طور پر وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ منفی خیالات کو شکست دے کر اپنی جگہ خود بنا لے۔ اس طرح کی امید کے لئے برکس میں شامل بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کے حقیقت پسندانہ عملی اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پر اجارہ داری کے خاتمے اور ترقی پسند ممالک کی غیر مشروط ترقی کی حمایت کے لئے نیو ڈویلپمنٹ بنک کا فعال ہونا بھی ایک اہم ہدف ہے اور ساتھ ہی تجارتی حجم اور براہ راست سرمایہ کاری میں اضافے کی کوششیں بھی کار گر ہوئیں تو کثیر قطبیت کے ساتھ ساتھ ایک ہم آہنگ دنیا کا وجود بھی مشکل نہیں ہو گا۔ اقتصادی دائرے میں دیگر اہداف میں کم کاربن والی معیشت کی طرف منصفانہ منتقلی کو فروغ دینا اور صنعت اور ڈیجیٹلائزیشن، زراعت اور خوراک کی حفاظت، توانائی اور نقل و حمل جیسے مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط کرنا شامل ہے۔
انسانی اور ثقافتی شعبوں میں، برکس کا مقصد تعلیم میں تعاون کو فروغ دینا ہے، جس میں برکس نیٹ ورک یونیورسٹی اور تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیمی پروگرام شامل ہیں۔ نوجوان سائنسدانوں اور اختراع کاروں کے درمیان تعاون کو مضبوط کیا جائے گا اور ثقافتی تبادلے کو تیز کیا جائے گا۔ سیاحت کو فروغ دینے کی کوششوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ برکس شہروں اور میونسپلٹیوں کے درمیان علاقائی تعاون کو بھی وسعت دی جائے گی۔
اس سربراہ اجلاس سے برکس معیشتوں کے درمیان دو طرفہ اور کثیر الجہتی تجارت میں تیزی سے ترقی کے راستے بھی فراہم ہوں گے اور عالمی تجارت میں برکس کے رکن ممالک کے مسابقتی فائدے میں اضافہ ہو گا۔ کسی بھی چیز سے بڑھ کر، سربراہی اجلاس کو تنازعات کے خاتمے اور امن قائم کرنے کے لیے ٹھوس حل اور طریقہ کار پر زور دینا چاہیے، کیونکہ مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے امن سب سے بڑی ضرورت ہے۔


