خودکشی کا ارادہ کرنے والے شخص کی آخری امید
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب میں ویک اینڈ پر بھی کلینک جا کر چند مریض دیکھا کرتا تھا۔ یہ وہ مریض تھے جو اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے صرف و یک اینڈ کو مجھ سے ملنے آ سکتے تھے۔ ایک دن میں نے ابھی دو مریض ہی دیکھے تھے کہ میری کینیڈین سیکرٹری ڈینا نے مجھے بتایا کہ میں ایک پیغام سنوں جو میرے مریض جم نے کلینک کی آنسرنگ مشین پر چھوڑا تھا۔ وہ پیغام تھا
ڈاکٹر سہیل! میں بہت غمزدہ اور اداس ہوں۔ میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں رہا۔ میں نے خود کشی کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میں نے جم کو تین مہینے پہلے دیکھا تھا۔ آخری ملاقات کے وقت بھی وہ اداس تھا۔ میں نے اسے ایک خط لکھ کر دیا تھا کہ وہ چند دنوں کے لیے ہسپتال میں داخل ہو جائے۔ اس وقت بھی وہ خود کشی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس ملاقات کے بعد جم مجھے ملنے نہیں آیا تھا۔ جم کا پیغام سننے کے بعد میں نے چند لمحے سوچا اور پھر میں نے 911 پر پولیس کو فون کیا۔ میں نے پولیس کو مریض کا فون نمبر اور پتہ بتایا تا کہ وہ اسے ہسپتال لے جا سکیں۔
چند لمحوں کے بعد مجھے پولیس کا فون آیا۔ انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ میں ان سے جم کے گھر کے باہر ملوں جو میرے کلینک سے بیس کلومیٹر دور تھا۔ میں نے ڈینا سے کہا کہ میرے باقی دو مریضوں کی اپوائنٹمنٹس کو کینسل کر دے تا کہ میں جم اور پولیس کی مدد کر سکوں۔ جب میں جم کے گھر کی طرف ڈرائیو کر رہا تھا تو میں اس کی زندگی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
ایک وہ وقت تھا جب جم ایک کامیاب زندگی گزار رہا تھا۔ وہ ایک انجینئر تھا اور موسیقی کا دلدادہ تھا لیکن پھر وہ جسمانی اور ذہنی طور پر بیمار ہو گیا۔ اسے ذیابیطس ہو گئی اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملنا جلنا کم کر دیا۔
جب میری اس سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تھی تو وہ اور اس کی بیوی ایک دوسرے سے زیادہ خوش نہ تھے۔ اس کی مالی حالت بھی ناگفتہ تھی۔ پھر اس کی بیوی اسے چھوڑ کر چلی گئی اور وہ اور بھی افسردہ و غمزدہ ہو گیا۔ جم ہمارے کلینک میں چند ماہ تک آتا رہا لیکن پھر اس نے آنا بند کر دیا۔ ہمارے کلینک میں اس کے لیے سیڑھیاں چڑھنا اور اترنا بہت مشکل ہوتا تھا۔ میں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ اکیلا نہ رہے اور کسی بورڈنگ ہوم میں اور لوگوں کے ساتھ رہے۔ وہ اکیلا رہنا چاہتا تھا لیکن اس کی تنہائی نے اسے اور بھی افسردہ کر دیا تھا۔ پھر اس نے دوا کھانی بھی بند کر دی تھی جس سے اس کی حالت اور بھی دگرگوں ہو گئی تھی۔ میں نے اس کے فیملی ڈاکٹر کو بھی خط لکھا تھا کہ اسے کسی گروپ ہوم میں بھجوا دے۔
جب میں جم کی گلی میں پہنچا تو مجھے اس کا گھر نہ ملا۔ میں پولیس سٹیشن گیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ دو مہینے پہلے اس نے گھر بدل لیا تھا۔ جب میں اس کے نئے گھر پہنچا تو وہاں تین پولیس افسر میرا انتظار کر رہے تھے۔ میں جم کے کمرے میں گیا تو وہ زمین پر تنہا بیٹھا تھا۔ اس کے کپڑے اتنے میلے کچیلے تھے جیسے اس نے کئی ہفتوں سے نہ نہایا ہو۔ اس کا کمرہ کوڑے کرکٹ سے بھرا پڑا تھا۔
جم کی حالت دیکھ کر مجھے بہت افسوس ہوا۔ اس نے مجھے بتایا کہ گزشتہ رات وہ اتنا دکھی اور غمزدہ تھا کہ خود کشی کرنا چاہتا تھا۔ میں اس کی نگاہ میں اس کی آخری امید تھا۔ اس لیے اس نے کلینک فون کر کے میرے لیے پیغام چھوڑا تھا۔ اس کو پورا یقین تھا کہ میں اس کی مدد کرنے آؤں گا۔ اس نے مجھے بتایا کہ اس کی زندگی بے مقصد اور بے معنی ہو گئی ہے۔ میں نے جم کو بتایا کہ اس کا پیغام سننے کے بعد میں اس کے بارے میں اتنا فکرمند ہوا کہ میں نے پولیس کو فون کیا۔ میں نے جب اسے ہسپتال جانے کا مشورہ دیا تو وہ کافی دیر تک سوچتا رہا اور پھر اس نے میرا مشورہ قبول کر لیا۔
میں نے پولیس کو بتایا کہ جم ہسپتال جانے کے لیے تیار ہو گیا ہے۔ پولیس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں فارم ون FORM ONE پر دستخط کروں گا (یہ وہ فارم ہے جس پر اگر ڈاکٹر دستخط کر دے تو پولیس مریض کو اس کی مرضی کے بغیر بھی ہسپتال لے جا سکتی ہے ) ۔ میں نے کہا نہیں میں نہیں چاہتا کہ پولیس اسے ہتھکڑیاں ڈال کر ہسپتال لے جائے۔ جم اپنی مرضی سے جانے کے لیے تیار ہے۔ میری رائے سن کر پولیس نے مجھ سے درخواست کی کہ میں ان کے ساتھ ہسپتال جاؤں۔ اگر میں ان کے ساتھ نہ گیا تو انہیں خدشہ تھا کہ پہلے تو انہیں چند گھنٹے ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں انتظار کرنا پڑے گا اور اس کے بعد بھی ممکن تھا کہ ڈاکٹر جم کو داخل نہ کرے۔ میں نے ان کا مشورہ مان لیا۔
چنانچہ پولیس نے ایمبولینس کو فون کیا اور میں اپنی گاڑی میں ہسپتال پہنچا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہی ایک پولیس افسر وہاں پہنچ چکا تھا۔ میں پولیس افسر کو لے کر ہسپتال کے اندر چلا گیا۔ اس وقت ڈیوٹی پر جو ڈاکٹر تھا میں نے اسے بتایا کہ میں ڈاکٹر سہیل ہوں اور جم کا سائیکاٹرسٹ ہوں۔ جم شدید ڈپریشن کا شکار ہے اور خودکشی کرنا چاہتا ہے۔ میری درخواست ہے کہ وہ اسے چند دن کے لیے ہسپتال میں داخل کر لیں۔ ڈاکٹر نے مجھ سے اور پولیس افسر سے وعدہ کیا کہ جب ایمبولینس جم کو لے کر آئے گی تو وہ اسے ہسپتال میں داخل کر لے گا۔ ڈاکٹر کی بات سن کر پولیس افسر کی پریشانی ختم ہو گئی۔ جب میں ہسپتال سے کلینک واپس آنے لگا تو پولیس افسر نے میرا اور میں نے پولیس افسر کا شکریہ ادا کیا۔
میں نہیں چاہتا تھا کہ کسی ہمسائے کو جم کے کمرے سے اس کی لاش ملتی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ پولیس افسر ایمبولینس اور ڈاکٹر کی مدد سے ہم نے ایک مریض کی جان بچائی۔ میں جب واپس کلینک جا رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ دنیا میں کتنے انسان ہیں جو ایک جزیرے کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ بہت دکھی، افسردہ، اور غمزدہ ہیں اور ان کی زندگی کی آخری امید کی شمع آہستہ آہستہ بجھ رہی ہے۔
یہ ہم سب کے لیے لمحہِ فکریہ ہے۔

