برطانیہ سے لوگ بھاگ رہے ہیں
بھاری ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے لوگ دھڑا دھڑ برطانیہ سے بھاگ رہے ہیں۔ پرتگال ایک نئی پسندیدہ منزل بن گیا ہے۔ لوگ کاروبار اور روزگار کے دیگر ذرائع بھی چھوڑ چھاڑ کر نئی منزلوں کی جانب رواں دواں ہیں۔ اگرچہ پرتگال میں کاروبار شروع کرنا ایک اچھا خاصا دقیق کام ہے لیکن لندن والے پھر بھی وہاں جانا اور سیٹل ہونا پسند زیادہ کرتے ہیں۔ پرتگال میں زندگی آسان اور بے مثال ہے، ٹیکس کم ہیں اور اخراجات بھی کمتر ہیں۔ پرتگال میں آپ کی زندگی سہل ہوجاتی ہے جہاں آپ بیس منٹ میں گالف کورس پہ یا بیس منٹ میں ساحل سمندر پہ پہنچ کر زیادہ وقت لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ برطانیہ میں اتنی تن آسانی میسر نہیں ہوتی وہاں ہر لطف کے لئے بھی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔
پرتگال میں جو لوگ صرف 23000 پونڈ کماتے ہیں ان کے ٹیکس میں نرمی برتی جا رہی ہے۔ پرتگال کے پیدائشی نوجوان جن کی عمر 15 اور 39 سال کے درمیان ہیں اور ان کی تعداد 850000 ہے بذات خود دوسرے ممالک میں قیام پذیر ہیں کیونکہ پرتگال میں تنخواہیں کم ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 15 سے 64 سال کے درمیان کی عمر کے لوگ جو کام کرنے والے 2010 میں ستر لاکھ تھے کم ہو کر محض پینسٹھ لاکھ رہ گئے ہیں یعنی ورکروں کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہے جس وجہ سے حکومت وہاں بیرونی کام کرنے والے لوگوں کو خوش آمدید کہتی ہے اور اسی لئے ٹیکس میں چھوٹ بھی زیادہ دیتی ہے۔ یہ شدید کمی وقت کے ساتھ روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔
یہ مسئلہ محض پرتگال تک ہی محدود نہیں ساری دنیا اس مسئلے سے دوچار ہے۔ پندرہ سال لے کر چونسٹھ سال کے درمیان عمر والوں کی 1970 میں کل آبادی دو ارب تھی جو سن دو ہزار تک دوگنا ہو چکی ہے اور اندازوں کے مطابق 2040 تک یہ تعداد چھ ارب تک جا پہنچے گی۔ یہ اقوامِ متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار ہیں جبکہ 2070 میں یہ تعداد چھ ارب تیس کروڑ تک جا پہنچے گی۔ چین کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جہاں کام کرنے والے افراد کی تعداد اب اگر ایک ارب نفوس پہ مشتمل ہے تو یہ تعداد گھٹ کر محض تیس کروڑ تک ہی ہوگی جب تک یہ صدی اختتام پذیر ہوگی۔ کیونکہ چین نے ایک بچہ پیدا کرنے کی پابندی لگا رکھی تھی۔ آگے چل کر معیشت پہ اس کے شدید منفی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ کم کام کرنے والے ہوں گے تو کم پیداوار ہوگی تب ٹیکس کم اکٹھے ہوں گے پھر پنشنروں کی بڑھتی تعداد بھی قومی خزانے پہ بوجھ بن جائے گی۔ پھر دیگر ممالک کو بھی پرتگال کی طرح اپنے ہاں دوسرے ممالک کے نوجوانوں کو خوش آمدید کہنا ہو گا۔
برطانیہ سے ہنرمند افراد بہتر آمدن والے علاقوں کی طرف رخ کر رہے ہیں جیسے کہ افریقہ اور جنوبی ایشیا کے لوگ باہر بھاگتے ہیں۔ برطانوی موسم اور سخت ترین ٹیکس کا نظام لوگوں کو بھاگنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ تیس فیصد سے زائد نوجوان جو 18 سے 24 سال کے ہیں جلد از جلد بہتر روزگار کی تلاش میں برطانیہ چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ تازہ ترین سروے کے مطابق لوگ برطانوی طرز زندگی سے عاجز آئے ہوئے ہیں۔ گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، ٹیکس کی بھرمار اور دکھی سا موسم ان کی زندگیاں اجیرن کرچکا ہے اور وہ بہتر روزگار اور بہتر اور سہل طرز زندگی کے حصول کے لئے بیرون ملک جانا اور کام کرنا چاہتے ہیں۔ اس بیچنی کا اظہار آپ نے دوران انتخابات بھی دیکھا جب انہوں نے کنزرویٹو پارٹی کو شکست دے کر اس کا چودہ سالہ اقتدار ختم کر کے تبدیلی کی امید لیبر پارٹی سے لگائی جو درحقیقت محض ایک سراب ہی ثابت ہوئی۔ اب سر کیر سٹارمر کو بھی بعض ناپسندیدہ اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ کیر سٹارمر بھی کہتا ہے کہ برطانوی معیشت کا یہ حال جنگ عظیم دوئم کے بعد بدترین ہے۔
گورے اب دوبئی میں جائیدادیں دھڑا دھڑ خرید رہے ہیں جس میں ناقابلِ یقین 420 فیصد تک اضافہ پچھلے پانچ سال میں دیکھا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ پہنچنے والے لوگوں کی تعداد بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہی، محض ایک سال میں بارہ لاکھ لوگ پہنچے ہیں۔ شعبہ طب کے لوگ سب سے زیادہ دوسرے ممالک میں جانا پسند کرتے ہیں بالخصوص آسٹریلیا اور امریکہ میں جاکر کام کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ حتیٰ کے لوگ تھائی لینڈ، دوبئی، آسٹریلیا اور امریکہ کے علاوہ نائجیریا بھی جا کر رہنا اور کام کرنا زیادہ پسند کرتے ہیں جہاں سارا سال موسم معتدل سا رہتا ہے۔
برطانوی طرز زندگی اب لوگوں کے لئے شدید گھبراہٹ تلملاہٹ اور گراوٹ کا باعث ہے جہاں نہ کام کی قدر ہے نہ انسان کی بس ایک مشینی سی زندگی ہے۔ ٹیکس دیتے جاؤ اور وقت گزارو۔


