چھبیسویں آئینی ترمیم۔ ایک جائزہ


بلاول بھٹو کی کوششوں اور مولانا فضل الرحمٰن کی حکمت عملی سے 26 ویں آئینی ترمیم منظور ہو ہی گئی۔ قوم کو مبارک ہو کہ آپ کے راہنماؤں نے اپنا دن کا چین اور راتوں کی نیند تیاگ کر یہ آئینی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروائی ہے۔ چاروں جانب خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ ہر طرف مبارک سلامت کا شور ہے۔ اس خوشی میں کیک کاٹے جا رہے ہیں منہ میٹھے کرائے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے اعزاز میں ظہرانے اور عشایئے دیے جا رہے ہیں۔ عوام کو مبارک باد دی جا رہی ہے اور یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جیسے اب عوام کے سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔

یہ ترمیم منظور کرانے کے لیے جس طرح دن رات ایک کیے گئے ہیں۔ تمام جائز اور ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے گئے ہیں وہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اس ترمیم میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اس سے جو کچھ حاصل کیا ہے تو صرف اس حکمران ٹولے نے حاصل کیا ہے جو صرف دھاندلی سے اقتدار پر قابض ہوا ہے۔ اور جس کا مقصد صرف اپنے اقتدار کو طوالت اور استحکام دینا ہے۔ یقین جانیے کہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے عوام کو اگر رتی برابر بھی کچھ فائدہ پہنچ رہا ہوتا تو یہ سب راتوں رات آئینی ترمیم منظور نہ کراتے۔

حکمران جماعتوں کے لیے 26 ویں آئینی ترمیم منظور کرانے کا سب سے اہم اور اولین مقصد آئینی عدالت کا قیام تھا جس میں بہرحال یہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ آئینی ترمیم منظور ہونے کے باوجود حکمران طبقہ اپنا اصل مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ 1973 کے آئین کے مطابق پاکستان میں جو عدالتی نظام نافذ ہے اس میں سپریم کورٹ کے ہوتے ہوئے کسی آئینی عدالت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان ماتحت عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کی آخری عدالت ہے تو دوسری جانب بعض معاملات میں سپریم کورٹ کو ابتدائی سماعت کا اختیار حاصل ہے۔

کچھ معاملات ایسے ہیں جن کی سماعت سپریم کورٹ کے علاوہ کسی اور عدالت میں نہیں کی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک صوبے اور وفاق کے مابین کوئی تنازع ہو۔ دو صوبوں کے مابین کوئی تنازع ہو یا یا ایک دو یا دو سے زائد صوبوں اور وفاق کے مابین کوئی تنازع ہو تو ان تنازعات کے حل کے لیے سپریم کورٹ سے ہی رجوع کیا جا سکتا ہے۔ سول اور فوجداری مقدمات کی اپیلیں تو ماتحت عدالتوں میں سالوں سال گھسٹنے کے بعد سپریم کورٹ تک پہنچتی ہیں اس لیے یہ جواز پیش کرنا کہ سپریم کورٹ میں مقدمات کا بوجھ عوام کو انصاف کی میں رکاوٹ ہے سراسر زیادتی ہے۔

اگر حکومت کا مقصد اور نیت عوام کو انصاف کی فراہمی میں سہولت دینا تھا تو اس کے لیے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے جن کا فائدہ براہ راست عوام کو پہنچتا۔ مثال کے طور پر ملک کی ماتحت عدالتوں میں ہزاروں کی تعداد میں ججز کی اسامیاں خالی ہیں جس کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ ملک بھر کی بار کونسلز کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے خالی اسامیوں پر ججز کا تقرر کیا جائے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ ماتحت عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کے لیے شام کی عدالتیں بھی شروع کی جائیں لیکن اس جانب کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ کیونکہ اس کا تعلق عوام سے ہے اور عوامی مسائل کا حل یہاں کسی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے انتہائی دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئینی ترمیم میں ملک سے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق شق شامل کرا دی ہے جس کے باعث الحمدللہ 26 ویں آئینی ترمیم پاکیزہ روپ اختیار کر گئی ہے۔ ملک بھر کے علمائے کرام نے آئینی ترمیم میں اس شق کی شمولیت کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کی کاوشوں کو سراہا ہے اور انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔ مذہبی طبقے کی جانب سے امید کی جا رہی ہے کہ آئینی ترمیم کے نتیجے میں 2028 تک مملکت خداداد سے سودی نظام کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ سودی نظام کے مرحلہ وار خاتمے کا مکمل طریقہ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے ضیاء الحق کے دور حکومت میں بنا کر دیا گیا تھا جس پر آج تک عمل ممکن نہیں ہو سکا سودی نظام کے خاتمے کی شق شامل کروانے پر ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال نے بھی مولانا کی کوششوں کو سراہا ہے اور انہیں مبارک باد پیش کی ہے۔ ایم کیو ایم جب دیکھو بلدیاتی اختیارات کا رونا روتی رہتی ہے۔ اوپر سے کوٹا سسٹم کی ڈسی ہوئی ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بھی اپنے ووٹرز کے مفادات کی کوئی آدھی پونی شق آئینی ترمیم میں شامل کرا دیتی۔

مگر خیر آئینی ترمیم کے مسودے کی تیاری کے چکر میں ایسی ہڑاہڑی مچی ہوئی تھی کہ انہیں خیال ہی نہیں آیا ہو گا کہ اپنے ووٹرز کے لیے بھی کچھ مانگ لیں۔ ویسے بھی ایم کیو ایم نے پہلے کبھی کون سا اپنے ووٹرز کے مفادات کا خیال رکھا ہے جو اب رکھتے اور پہلے تو ووٹرز بھی لاکھوں کی تعداد میں تھے اور ان کے کچھ مفادات بھی تھے۔ اب کون چند ہزار ووٹرز اور ان کے مفادات کا خیال رکھے۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ ذاتی مفادات کا خیال رکھا جائے جو انہوں نے پیش نظر رکھا۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے چکر میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی پیش پیش رہے۔ موصوف کو نا خود خیال آیا نا کسی سنگی ساتھی نے یاد دلایا کہ اللہ کے بندے نائب وزیر اعظم بنے بیٹھے ہو جس کا ذکر آئین میں دور دور تک نہیں ہے تو بھائی ایک شق اپنے عہدے کی ڈلوا کر خود کو بھی آئینی حیثیت دلوا دو۔ مگر یہ تو ان کی منکسرالمزاجی ہے کہ انہوں نے اپنے بجائے ملک و قوم کا مفاد پیش نظر رکھا۔ ورنہ ان کے لیے کیا مشکل تھا کہ اپنے مفاد کی ایک شق آئینی ترمیم میں شامل کرا لیتے۔ چلو خیر کوئی بات نہیں۔ اس کے موقع اور بھی آئیں گے۔ ابھی تو ترامیم شروع ہوئی ہیں۔

اب ایسا بھی نہیں ہے کہ قانون سازی میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہے۔ عوام کے لیے خبر یہ ہے کہ ماتحت عدالتوں کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی فیس پچاس ہزار روپے سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کر دی گئی ہے۔ اس حکومت سے آپ اور کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ آئی ایم ایف کے قرضے تلے دبی حکومت اور کیا کر سکتی ہے؟

 

Facebook Comments HS