رواداری اور جدوجہد کی علامت: سندھو نواز گھانگرو!


سندو نواز گھانگرو جو لاہور کے نیشنل کالج آف آرٹ (این سی اے ) سے فلم سازی میں گریجوئیٹ کیا۔ جو گزشتہ کتنے عرصے سے عوامی مسائل کے خاطر عملی طور پر سیاست کر رہی ہے۔

سندھو نے ایمانداری اور خلوص کے ساتھ قومی اور عوامی مقاصد کے لیے سماجی کاموں اور سیاست میں پاؤں رکھا۔ سندھو کا کام مقامی کمیونٹیز اور ان کے مسائل پر محیط ہے۔ جس کا کنڈیارو سے تعلق ہے، جو حیدرآباد سندھ میں مقیم ہے۔ بنیادی طور پر ایک فلمساز اور سماجی کارکن ہے۔ سندھو کے خاندان کے لیے یہ یقین کرنا بہت مشکل تھا کہ کیریئر کے طور پر اس کا انتخاب کرنا ہے تاہم میں اس کے لیے ایک تو عوامی اور نج قومی مسائل کی سیاست کرنا اور دوسرا اور فلم سازی کرنا تھا۔ مگر سندھو نواز نے فلم سازی کی جگہ سماجی کاموں اور اپنے سندھ دھرتی کی خاطر سیاست کرنا زیادہ اہم سمجھا۔

سندھو نواز نے اقلیتوں کے حقوق، صنفی عدم مساوات اور دیگر سماجی مسائل پر مختلف دستاویزی فلمیں بنائی ہیں۔ سندھو کے جوش و جذبے نے اسے ضلع نوشہرو فیروز کنڈیارو میں جشنِ لطیف اور حیدرآباد میں تین روزہ ساہتی ادبی میلے کا اہتمام کیا۔ جس میں بچوں سے لے کر گھریلو خاتون تک ہر فرد نے شرکت کی۔ سندھو نواز نے دو بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ ایک نیویارک میں اقوام متحدہ کی یوتھ اسمبلی کا 22 واں اجلاس میں شرکت

اور انٹرنیشنل وزیٹرس لیڈرشپ پروگرام (IVLP) ایکسچینج پروگرام۔ اوپن ڈور لوکارنو فلم ورکشاپ میں بھی شرکت کی اور پاکستان میں کئی دیگر ادبی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی۔ سندھو کو سندھی تھیٹر کے 274 سال مکمل ہونے پر پہلی بار اعزاز ملا۔ بھٹ شاہ میلے میں ایک خاتون ڈائریکٹر لطیف کے راگ کو جدید دور کے ساتھ ملا کر اپنے قدیم ثقافتی ورثے کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہیں۔

جب ڈاکٹر شاہ نواز کو توہین مذہب کے الزام میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی اور اس کی ٹیم نے ملاؤں سمیت ڈاکٹر شاہنواز کا ماورائے عدالت قتل کیا اور اس کی نعش کو جلانے کا منصوبہ بندی کی۔ جس المناک واقعے کے بعد سماج میں ایک ڈر اور خوف کی فضا قائم تھی۔ جب سارے میڈیا چینل اور اخبار بالکل خاموش تھے۔ کیونکہ معاملہ ہی ایسا تھا۔ سارے سندھ کی صوفی روح جیسے زخمی ہو گئی تھی۔ جس کی مرہم کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ پھر ایک لڑکی سندھو نواز گھانگرو نے اپنے وڈیو پیغام میں سندھ کے لوگوں کو ڈاکٹر شاہنواز کے دردناک واقعے اور انتہا پسندی کے خلاف متحد کیا اور عمرکوٹ جانے کا اعلان کیا، جس کے بعد سندھ کی سول سوسائٹی بھی متحرک ہو گئی۔ اور وہ خواتین بھی متحرک ہو گئیں جو اکثر پیپلز پارٹی کی حمایت کرتی ہیں اور پیپلز پارٹی کو ایک سیکولر جماعت سمجھتی ہیں۔ بہرحال سندھو نواز سارے سندھ کی آواز بن گئیں۔

سب سے پہلے سندھو نواز نے عمرکوٹ جانے کا فیصلہ کیا اور وہاں پر لوگوں کو اکٹھا کیا اور ڈاکٹر شاہنواز کی گھر بھی گئیں۔ جس احتجاج میں ہزاروں لوگ نے شرکت کی۔ جس کے بعد سندھو نواز کی سوشل میڈیا پر اتنی کردارکشی کی گئی، اسے گالیاں دی گئیں۔ اس کو ملحد کہا گیا، کافر کہا گیا۔ مگر سندھو بے خوف ہو کر ان انتہا پسند لوگوں کا مقابلہ کرتی رہیں۔

سندھو نواز ڈاکٹر شاہنواز کے زخموں اور انتہا پسندی سے گھائل سندھ کی مرہم بن گئی۔
یہ ایسا وقت تھا جب ہر کوئی ڈر میں مبتلا تھا۔ اکثر پڑے لکھے لوگ قومپرست تنظیموں کا کارکنان، قلمکار بھی ایگریمینٹ کی کاپیاں سوشل میڈیا پر ڈال کر اپنی وضاحتیں دے رہے تھے کہ اگر ہماری آئی ڈی کا غلط استعمال کیا گیا تو ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ تو یہ تھی ڈاکٹر شاہنواز کی قتل کے بعد سندھ کی یہ صورتحال۔ جب میڈیا خاموش تھا، اخبار خاموش تھا، ہمارے سماج کے دانشمند لوگ دانشور قلمکار سب خاموش تھے۔ تب اس ماحول میں ایک جنگجو لڑکی سندھو نواز اپنے وڈیو پیغام میں عمرکوٹ جانے کا اعلان کرتی ہیں۔ جس کے بعد سماج کو آکسیجن ملتی ہے۔ پہر جو لوگ خاموش تھے، وینٹیلیٹر پر تھے ان کو آکسیجن مل گئی، اور وہ سندھو نواز کی ساتھ کھڑے ہوں گے اور سندھو کی آواز بن گئے۔

سلام سندھ کی ان بہادر بیٹیوں کو جنہوں نے بہادری سے انتہا پسندی کا مقابلہ کیا۔ جسے قوم پرست گروہوں کی حمایت حاصل ہے، جس نے ملاؤں کی ناپسندیدگی کے باوجود ڈاکٹر شاہ نواز کے جسم کی حفاظت کرنے والے ایک بہادر نوجوان پریمو کولہی کے ہاتھ چوم کر ایک مثال بن گئی۔ جس کے بعد سندھو نے آگے بڑھ کر کراچی شہر کے کلفٹن تین تلوار کے حدود میں ’سندھ رواداری مارچ‘ کا اعلان کیا، جس کے کچھ دونوں بعد سندھ حکومت کے ہوم منسٹر ضیا لنجار نے 144 کا اعلان کر دیا۔

مگر سندھو نواز گھانگرو سندھ کی بہادر بیٹی نے 144 کی پرواہ کیے بغیر آگے بڑی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے مارچ کو مکمل کیا۔ بہرحال جب اتوار کو ’سندھ رواداری مارچ‘ کے عنوان سے انتہا پسندی کے خلاف سول سوسائٹی کے مارچ کے شرکا کو پولیس نے لاٹھی چارج کر کے روکا اور بعض خواتین شرکا کو بازوؤں اور ٹانگوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا۔

مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران پولیس نے کئی صحافیوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس کے کچھ دنوں بعد وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سول سوسائٹی سے رابط بھی کیا اور معافی بھی مانگی۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعلی نے شرکا کو مارچ کرنے سے کیوں روکا جب کہ سندھ رواداری مارچ ایک پرامن مارچ تھا۔

مارچ کی رہنما سندھو نواز اور دیگر سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور معاملے کی شفاف تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانے کے مطالبہ کرنے والے سندھ رواداری مارچ کے شرکاء، خواتین، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے رہنماؤں پر پولیس تشدد پر وزیراعلیٰ سندھ کی معافی کافی نہیں۔ ہم شاہ نواز کی ماورائے عدالت قتل میں ملوث افسران کو سزا دلانے کے لئے نکلے تھے۔ ہم صرف انصاف کی خاطر احتجاج کیا۔ مگر حکومت اور وزیر داخلہ نے اپنی جمہوریت کا اصلی چہرا دکھا دیا۔

کراچی کے ریڈ زون میں اتوار کے روز دو الگ الگ ریلیوں کا اعلان کیا گیا تھا جس دوران ہنگامہ آرائی اور پولیس کی جانب سے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور تشدد جیسے واقعات پیش آئے۔ کامریڈ سندھو نواز اور کامریڈ عالیہ بخشل نے سندھ رواداری مارچ کا اعلان کیا تھا، جس کے مقابلے میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے اپنی ریلی نکالنے کا اعلان کیا۔

سندھو نواز نے ’رواداری مارچ‘ کا اعلان دو ہفتے پہلے کیا گیا تھا، مگر حکومت نے اچانک دفعہ 144 لگا دی جو پر امن احتجاج کو روکنے کے لئے لگایا گیا۔

سندھ میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف اور ڈاکٹر شاہنواز کمبھر کے قتل کے انصاف کے لئے کراچی میں منعقد سندھ رواداری مارچ کو روکنے کے لئے پلانٹڈ احتجاج کروانا، رواداری مارچ کے شرکا پر کریک ڈاؤن اور پھر ایف آئی آر جیسے ریاستی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ سندھو نواز اور عالیہ بخشل نے کہا کہ پی پی پی قیادت نے ایک بار پھر اپنے مفادات کی خاطر دباؤ میں آ کر تشدد والے واقعات پر معذرت کی، لیکن یہ معذرت بے معنی ثابت ہوئی۔

کراچی میں پرامن سندھ رواداری مارچ پر تشدد کے بعد پی پی پی کے نامور رہنماؤں نے راتوں رات معذرتیں تو کر لیں۔ جو ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک گہری تشویش کا باعث ہیں۔ جب انتہا پسند قوتیں اور اسٹیبلشمنٹ کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے تو یہ کس منطق سے جائز ہے کہ حقیقی ترقی پسند تحریکوں کو دبایا جا رہا ہے، اس حکومت کی عوام مخالف پالیسی میں یہ رجحان واضح طور پر نظر آ رہا ہے جو عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والوں کو مجرم بناتی ہے۔

احتجاج کو روکنا صرف سندھو نواز کے آواز کو روکنا نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان میں تمام ترقی پسند قوتوں کے خلاف ایک منظم حملہ ہے۔ پی پی پی کی معذرتیں اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک انصاف کا قتل عام جاری رہتا ہے۔ احتجاج سے حکومت کو یہ پیغام جاتا ہے کہ ترقی پسند قوتیں مل کر اس حکومتی ظلم کا بھرپور مقابلہ کریں گے اور اس غیر جمہوری، عوام دشمن رویے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سندھ رواداری کمیٹی کے رہنما سندو نواز گھانگرو، عالیہ بخشل تلھو، امر سندھو اور پنہل ساریو، کے ہمراہ حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ کو متنبہ کیا کہ اگر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر قتل کے واقعہ کے سہولت کاروں ایک ایم این اے ’ڈی آئی جی اور 2 ایس ایس پیز کے خلاف کیس داخل کر کے انہیں گرفتار کیا جائے بصورت دیگر 23 نومبر کو کراچی اور حیدرآباد میں احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت عرصہ دراز سے دوغلی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہیں پرامن لوگوں کے خلاف کیس درج کیے جا رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پہلی رپورٹ غلط تھی لہذا جن ڈاکٹرز سے یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی تھی ان کے خلاف کارروائی کی جائے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں مذہب اور سیاست کے نام پر شہریوں کا قتل بند کیا جائے۔ انسانی حقوق کے کارکن اور سوشل ایکٹوسٹ سندھو نواز گھانگرو نے الزام عائد کیا کہ مذہبی انتہا پسند گروہوں کو پولیس اور دیگر ریاستی عناصر کی کھلم کھلا حمایت حاصل ہے۔

سندو نواز گھانگرو کا کہنا ہے کہ سندھ صوفیا کرام کی سرزمین ہے جہاں مذہبی رواداری اور مختلف مذاہب کے لوگ مل کر رہتے آئے ہیں۔ لیکن ہم اس صوبے میں کسی صورت مذہب کے نام پر قتل و غارت گری اور فساد کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ایک اور کارکن عالیہ بخشل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ملک بھر ہی کے مختلف علاقوں میں مذہب کی توہین اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، مگر سندھ میں امن، محبت، بھائی چارہ اور ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کیا جاتا ہے۔ لیکن اس انتہا پسندی کے خلاف سندھ ہی میں مزاحمت دکھائی دیتی ہے جس کی وجہ یہاں کی صدیوں پر محیط ثقافت ہے۔ اگرچہ ان روایات پر بڑے تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں لیکن اس کے خلاف شدید مزاحمت بھی پائی جاتی ہے۔

Facebook Comments HS