پاکستان کی سیاست، آئینی ترمیم اور منحرف قاسم رونجھو

چھبیسویں آئینی ترمیم تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ آخر کار منظور ہوگئی اور بالآخر یہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ ہی گیا مگر اس کے ساتھ ہی اس آئینی ترمیم نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکنات سے باہر نہیں۔
آئینی ترمیم کی منظوری کے اس تمام تر ایپیسوڈ میں سب سے دلچسپ معاملہ بی این پی مینگل کے سینٹر قاسم رونجھو صاحب کا رہا قاسم رونجھو بی این پی مینگل کے دیرینہ اور قابل اعتماد ساتھیوں میں سے رہے ہیں۔ بی این پی مینگل سے وابستگی پر انھوں نے سختیاں بھی جھیلیں اور تکالیف بھی برداشت کیں مگر شاید اس بار وہ اس آئینی ترمیم کا "دھب” برداشت نہیں کر پائے۔
بی این پی مینگل اس آئینی ترمیم کے حق میں شروع سے ہی نہیں تھی چنانچہ سینٹ میں ان کے دو اراکین کے ووٹ بھی آئینی ترمیم کے خلاف آنے چاہیے تھے مگر اچانک کچھ "نامعلوم افراد” کے انٹری کے بعد بی این پی کے دونوں اراکین سینٹ اچانک "لاپتہ” ہو جاتے ہیں۔ ان کی گمشدگی پر ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے لسبیلہ جہاں سے قاسم رونجھو صاحب تعلق رکھنے ہیں مظاہرے اور روڈ بلاک ہوتے ہیں بی این پی کے قائد اختر مینگل مسلسل اپنے اراکین سینٹ کے حوالے سے بلاول بھٹو سے ٹوئٹر پر استفسار کرتے ہیں ان چند دنوں تک پورا ملک قاسم رونجھو صاحب کے حوالے سے پریشان رہا چہ میگوئیاں ہوتی رہیں مگر اچانک ووٹنگ والے دن رونجھو صاحب کی انٹری ہوتی ہے چہرے پر تھکن کے آثار، حالت غیر، صحافی سوال پوچھتے رہ جاتے ہیں مگر وہ کمال بےتکلفی سے آگے بڑھ جاتے ہیں اور سینیٹ میں پارٹی پالیسی کے خلاف جا کر آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔
اگلے دن پریس کانفرنس میں وہ کچھ قوتوں کی طرف اشارہ کرکے کہتے ہیں کہ میں ان کے ہاں "مہمان” تھا مگر صرف چند گھنٹوں بعد ہی ان کا نیا بیان سامنے آتا ہے کہ ان سے وہ پریس کانفرنس اختر مینگل صاحب کی ایما پر زبردستی کرائی گئی اور وہ تو گھر میں آرام فرما تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ رونجھو صاحب کے آبائی علاقے لسبیلہ میں ان کی پراسرار گمشدگی پر احتجاج اور مظاہرے ہوتے رہے اور وہ اس سے بے خبر رہے اور نہ ہی انھوں نے اپنے بہی خواہوں کو اپنی خیریت کی خبر تک دینا گوارا کیا۔ اس کے بعد چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ رونجھو صاحب کے ہونہار سپوت جہانزیب رونجھو جو ان کی خود ساختہ گمشدگی کے دنوں میں خود اپنے والد کی صحت اور سلامتی کے حوالے سے فکر مند تھے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ جب ملک میں ہر طرف قاسم رونجھو کہاں ہے کی صدائیں بلند ہورہی تھیں اس وقت قاسم رونجھو صاحب گھر پر آرام فرما تھے اور انہی جہانزیب رونجھو صاحب کو اتنی توفیق تک نہیں ہوئی کہ وہ ایک ٹویٹ کے ذریعے اپنی ہی پارٹی کے سربراہ کو پیغام پہنچاتے کہ آپ جن کی گمشدگی پر واویلا مچا رہے، وہ قاسم رونجھو صاحب گھر پر آرام فرما ہیں۔
اب سننے میں آرہا ہے کہ جلد رونجھو صاحب اور اختر مینگل کی دیرینہ رفاقت ختم ہونے جا رہی ہے۔ ان کی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور ان کی پرواز کا رخ دیکھ کر اندازہ ہو رہا ہے کہ عنقریب اس طائر لاہوتی کا مسکن کہیں اور بننے جا رہا ہے مگر اس سارے قصے میں ایک بات مزید عیاں ہوگئی کہ پاکستان کی سیاست میں "دھب” برداشت کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی اور پاکستان کی سیاست میں کچھ بھی ممکنات سے باہر نہیں.
اس سارے معاملے میں بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل بھی صورت حال کا درست اندازہ لگانے میں شاید چوک گئے۔ اختر مینگل صاحب اس مشکل وقت میں جب ان کی پارٹی اور کارکنوں پر بقول ان کے زمین تنگ کی جارہی تھی، وہ دبئی میں بیٹھ کر ٹوئٹر ٹوئٹر کھیلتے رہے۔ اتنا زیرک سیاستدان ہوتے ہوئے اور "پاکستانی سیاست” کو قریب سے سمجھتے ہوئے انھیں اندازہ تو تھا کہ آگے یہ کھیل کیا رخ اختیار کرے گا مگر پارلیمانی سیاست پر بھروسہ کرنے والی پارٹی کے سربراہ کا یوں پارلیمان چھوڑ دینا ایک غلط فیصلہ تھا اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ اپنی ہی پارٹی کے دو "معصوم” سینیٹرز کو "زورآوروں” کے سامنے تنہا چھوڑ دینا بھی دانشمندی ہرگز نہیں تھی۔ جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ پہلے زورآورں اور بعد ازاں پارٹی قائد کے درمیان سینیٹرز بیچارے پس کر رہ گئے۔ خیر بی این پی مینگل کی سیاست اب کس ڈگر پر چلے گی یہ اختر مینگل کی سیاسی دور اندیشی پر منحصر ہے۔

