گنجینہ معنی کا طلسم


اردو غزل کو نئی نئی بصیرتیں عطا کرنے والے میرزا یاس یگانہ چنگیزی کی غزلیات اور رباعیات کے ایک مجموعے کا نام ”گنجینہ“ ہے، اس کتاب کے لگ بھگ وسط میں وہ معروف غزل دیکھنے کو مل جاتی ہے جس کا مطلع ہے :

کس کی آواز کان میں آئی
دور کی بات دھیان میں آئی

ڈاکٹر محمد اقبال آفاقی پر بات کرنے بیٹھا تو اس غزل کے مقطعے کی طرف دھیان چلا گیا ؛ لیجیے پہلے وہی عرض کیے دیتا ہوں :

میں پیمبر نہیں یگانہ سہی
اس سے کیا کسر شان میں آئی

میں نے جب جب اقبال آفاقی کو پڑھا ہے وہ دُور کی بات کے گنجھل سلجھاتے ملے ہیں پھر وہ بھی ایسی تخلیقی نثر میں کہ سوچا کاش وہ فکشن لکھتے۔ ایسا ہوتا تو کمال کے فکشن نگار ہوتے ؛ تاہم فوراً بعد یوں لگا جیسے کسی نے یگانہ کا مصرع دہرا دیا ہو: ”اس سے کیا کسر شان میں آئی“ ۔ انہوں نے اپنے مقالات اور تراجم پر مشتمل کتاب کا نام ”غالب شکن“ میرزا یگانہ سے نہیں بلکہ یگانہ کی شخصیت کو گہنا کر رکھ دینے والے میرزا غالب سے مستعار لے کر ”گنجینہ معنی کا طلسم“ رکھا ہے۔ جس غزل سے یہ نام لیا گیا ہے، اس کے دو اشعار:

آتش کدہ ہے سینہ مرا راز نہاں سے
اے وائے اگر معرض اظہار میں آوے
گنجینہ معنی کا طلسم اُس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالبؔ مرے اشعار میں آوے

اقبال آفاقی مرزا نوشہ کے اشعار میں ایک راز کی طرح نہاں گنجینہ معنی کے طلسم کو اپنے مضامین میں لے آئے ہیں تو یوں ہے کہ معنی، معنویت اور اس کے طلسم کو پا لینے کی تاہنگ انہیں اپنی تصنیفی زندگی کے عین آغاز سے رہی ہے۔ میں نے انہیں ایسے پرخلوص زائر کی صورت دیکھا ہے جس کی عمر مختلف علوم کے درمیان مسلسل سعی میں گزری ہے۔ ان کا بنیادی دلچسپی کا علاقہ فلسفہ ہے اس شعبے کے نامور معلم ہیں مگر وہ اس علاقے میں رُکے نہیں رہے اُردو زبان و ادب ان کے ذوق میں رچ بس گیا ہے اور وہ ایسے پرزم کی صورت ہو گئے ہیں جس میں نور جھانکتا ہے اور اس سے کئی رنگوں کی دھاریں نکلتی ہیں۔ اگرچہ ان کے کام کو تحقیق، ترجمہ اور تنقید کے شعبوں میں بانٹا جاسکتا ہے مگر مجموعی کام کی یہ تقسیم اتنی سادہ بھی نہیں ہے کہ کبھی وہ تنقیدی مباحث میں الجھتے اور ہم جیسوں کو الجھا کر بہت کچھ سجھاتے ہیں تو کبھی الہیات کے موضوع کی طرف جا نکلتے ہیں اور وہاں سے مذہب و تصوف کی راہ جا پکڑتے ہیں۔ تھیوری کی اصطلاحات کو اردو میں ڈھالنا بھی انہیں مرغوب رہا ہے اور جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے مقبول عام مگر مشکل مضامین کو سہل بنا کر خوب صورت نثر میں لائق مطالعہ بنا دینا بھی۔ ان کی تازہ کتاب ”گنجینہ معنی کا طلسم“ کے مضامین و تراجم کو بھی لگ بھگ انہی تمام جہتوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کتاب میں ان کے اپنے مقالات بھی ہیں اور تراجم بھی، ان مقالات کے موضوعات فلسفیانہ بھی ہیں اور ادبی بھی۔ یہاں متن سے الہیات کا موضوع بھی چھلکتا ملے گا اور قدیم مذہبی ادراک بھی زیر بحث آئے گا۔ عہد عتیق کا انسان ہو یا آج کا، ہیگل کا فلسفہ تاریخ ہو یا نو تاریخیت کے مباحث، کلچر، وجودیت، جدیدیت، مابعد جدیدیت، غرض اقبال آفاقی کی دلچسپی کے کم و بیش سب علاقے کم یا زیادہ اس کتاب میں کہیں نہ کہیں جگہ پا گئے ہیں۔ ”نِطشے اور اسلام“ ، ”دریدا اور اسلام“ اور ”فوکو :ایران کے اسلامی انقلاب کا انتقاد“ جیسے موضوعات پر لکھے گئے مضامین کو میں نے ان کی قبل ازیں شائع ہونے والی کتب ”تہذیبی اسلام، ابن عربی اور پس جدیدیت“ ، ”نالج آف گاڈ“ اور ”مسلم فلسفہ، علم الکلام، تصوف اور مفکرین“ کے ساتھ رکھ کر دیکھا ہے۔ ”اقبال شہر حکمت کا شہزادہ“ اور ”رومی جہان معنی کا آفتاب“ بھی اس نوع کے مضامین سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہیں۔ وزیر آغا سے انہیں ایک تقرب حاصل رہا۔ یہی سبب رہا ہو گا کہ انہوں نے اوراق کے اداریے ایک کتاب میں مرتب کر کے اس کا مفصل مقدمہ لکھا تھا۔ زیر نظر کتاب میں یہ قربت جس مضمون سے جھلک دے گئی ہے اس کا عنوان ہے ”ڈاکٹر وزیر آغا کا جہان نقد و نظر“ ۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہوں نے کبھی خود کو شمس الرحمٰن فاروقی کے قریب یا دور پایا ہو کہ کسی گزشتہ تحریر میں انہوں نقد فاروقی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ اس کتاب میں انہوں نے کوشش کر کے ان کے تنقیدی مغالطوں کو تلاش کرنے والا ایسا کام کیا ہے جو بالعموم ان کا مزاج نہیں ہے۔ اقبال آفاقی کے مجموعی کام کو دیکھا جائے تو انہوں نے اب تک شاعری پر نہ ہونے کے برابر لکھا ہے اور فکشن کے مطالعات اور اس صنف کے تیکنیکی مباحث اور اصطلاحات ان کی توجہ پاتے رہے ہیں۔ ”گنجینہ معنی کا طلسم“ کا ایک مضمون، نعت ایک روحانی تجربہ کے عنوان سے پڑھنے کو ملا تو یوں لگا جیسے شاعری کی تنقید کے باب فرض کفایہ ادا ہوا۔ اس مضمون سے ایک سنہری بات پر مشتمل اقتباس ان شاعروں کے لیے جو نعت لکھنے کی طرف مائل ہیں:

” نعت (لکھنا) یقیناً ایک تخلیقی عمل ہے لیکن عام شاعری کے تخلیقی عمل سے ذرا مختلف۔ نعت کے تخلیقی عمل کا ایک پہلو شعری جمالیات ہے جس میں احساس مسرت و حظ کی اپنی حیثیت ہے احساس مسرت جو سب لائم کے وقوف سے بھر پور ہونا چاہیے۔ تاہم نعت جمالیاتی مسرت و حظ کی خاطر ذہنی آوارہ گردی اور تخیل کے بے محابہ استعمال کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہاں کسی کو پوئیٹک لائسنس کے دعویٰ کا یارا نہیں جس کا دعویٰ نظم میں بالعموم اور غزلیہ شاعری میں بالخصوص شعرا کرتے نظر آتے ہیں۔“

اقبال آفاقی ایک محقق کی طرح متنوع علوم کی مختلف جہات اور ان جہتوں پر قائم ہونے والے مباحث کو کمال سلیقے سے اور نہایت دلنشین انداز میں ایک موضوع کی ذیل میں مرتب کر دیتے ہیں۔ ہمارے بیشتر ناقدین کی طرح ان کی زبان کھردری اور اکھڑی ہوئی نہیں ہوتی، میں نے کہہ آیا ہوں کہ مجھے انہیں پڑھتے ہوئے فکشن کا سا لطف آتا ہے۔ وہ مدرس رہے ہیں لیکن یہ قرینہ مدرس ناقدین اور محققین کا نہیں، ہرے بھرے تخیل والے تخلیقی فرد کا ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ان کا کلامیہ بالعموم تنقیدی کی بہ جائے تفہیمی رہتا ہے ؛ علمی اور تفہیمی۔ اس باب میں اکثر ایک معلم کی سی غیر جانبداری ان کا وتیرہ ہو جاتی ہے۔ وہ کم کم کسی کو رد کرتے ہیں۔ تاہم ہر بار اور ہر کہیں ایسا نہیں ہوتا اور کہیں کہیں کریز سے نکل کر بھی کھیلے ہیں اور یوں ہم ان کے اپنے ورلڈ ویو سے بھی آگہی پا لیتے ہیں۔ اس باب کی صرف تین مثالیں دے کر رخصت چاہوں گا۔ پہلی مثال ان کے مضمون ”معنی کے چھتنار“ سے ہے۔ یاد رہے اقبال آفاقی معنی کے قائم ہونے اور اس کی نمو اور اس سے وابستہ دیگر مسائل پر مسلسل لکھتے آئے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کا نام ہی ”معنی کے پھیلتے آفاق“ تھا۔ زیر نظر کتاب کے مضمون کو ایک کہانی کی سی دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاسکتا ہے۔ روح اور مادے کی آویزش کا شاخسانہ ہو کر جس حقیقت کے معنی ہم پر کھلتے ہیں وہ بہت سفاک ہے، ہمارے اندر پرچھائیاں انڈیلنے والی۔ اقبال آفاقی کو مقتبس کرتا ہوں :

”جب انسان اندر کی پرچھائیوں سے ہم کلام ہوتا ہے، عرفانِ ذات کے مرحلے سے گزر جاتا ہے تو شعور کی کہانی نئی پرتوں سے آشنا ہوتی ہے۔ ایک ایسا در باز ہوتا ہے کہ جس کے سامنے باقی سارے دروازے بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ انسان اپنی ذات سے بھی بہت دور نکل جاتا ہے۔ تب دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ ایک اشتیاق سے لبالب آواز گونجتی ہے :“ بایزید میں تیری تلاش میں ہوں ”۔

ایک طویل چپ کے بعد دروازے کے عقب سے صدا آتی ہے : ”کون با یزید؟ میں خود اس بایزید کی تلاش میں ہوں۔ “

”کون بایزید؟“ یہ سوال انسان کے اجتماعی لاشعور تک رسائی کے لیے کلیے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اجتماعی لاشعور جس نے سفر کے سارے بھید اپنے سپنے میں چھپا رکھے ہیں، جس میں تقسیم اور تجزیہ، سائے اور پرچھائیاں، خوف اور خوشیاں، تقدیر اور شکتی ہر نظریہ انفرادی سیاق و سباق سے باہر نکل کر روحِ کُل میں تبدیل ہو جاتا ہے، جہاں مذہبی کونیات، وحدت و کثرت کی آویزش، ازل ابد کے دائرے اور لکیریں مختلف قسم کے پردے اور رجحانات نظر آتے ہیں۔ یہی وہ راہ گزر ہے جس پر چل کر قدیم مذاہب اعلیٰ ادیان کے عہد زریں میں داخل ہوئے تھے۔ ”

دوسری مثال ”شمس الرحمٰن فاروقی کے تنقیدی مغالطے“ کا عنوان پانے والے مضمون سے وہاں سے لی گئی ہے جہاں وہ اقبال کو پڑھنے کے لیے محض ہیتی اور لسانیاتی مطالعے کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مصر ہیں کہ :

”اقبال کی شاعری موضوعات سے بھری پڑی ہے ان کے الفاظ ان موضوعات کے ساتھ ہی دھڑکتے اور روشنی دیتے ہیں۔ یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ“ خورشید کا سامان سفر ”میں عمدہ شاعری ہی نہیں ہے، افکار کا رنگ و نور بھی ہے۔ ان کے بغیر تو سورج اندھا ہو جاتا ہے۔ مسافر راستہ بھول جاتا ہے۔ اقبال کے سامان سفر میں تہذیب کا وہ صندوق موجود ہے جو مشرق و مغرب کی میٹا فزکس کے خزانوں سے لبریز ہے۔“

یہیں، ایک دو جملوں کے بعد وہ اضافہ کرتے ہیں :

”یوں اقبال کو جانے والا راستہ دوسرا ہے جس کی طرف رہنمائی رچرڈز، ایلیٹ، رولاں بارت نہیں کر سکتے۔ یہ سب لوگ کچھ ایسے راستوں کے مسافر تھے جن کی کوئی منزل نہیں تھی۔“

اور آخری مثال ”گنجینہ معنی کا طلسم“ کے ابتدائیے کی آخری سطور ہیں۔ یہ ابتدائیہ نوخیز کے نام ایک خط کی صورت میں ہے ؛ نوخیز کا یہ صیغہ علم و ادب کی دنیا کے نو واردان کے لیے بھی ہے اور نسبی نسبت رکھنے والے ہر اس بیٹے کے لیے بھی جو پس جدیدیت دور سے سانسیں کشید کر رہا ہے، جس کے لیے کائنات ساختوں کا لا مرکز جال ہے اور وہ وقت کے تیز دھار بہتے پانی کی زد پر آئی اپنی مٹھی سے معنی اور معنویت کا سونا ریت ہو کر بہہ رہا ہے۔ میں نے کہا تھا کہ اقبال آفاقی کا کلامیہ بالعموم تفہیمی رہتا ہے مگر اس تحریر میں وہ دریدا کی اس بات کو دہرانے کے بعد کہ ”مطلق معنی کا ملنا محال ہے اور معنی التوا کی حالت میں ہیں“ اختلاف بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ اقبال آفاقی کا نقطہ نظر ہے کہ چاہے ہم سگنیفائیڈ تک نہ پہنچ پائیں ہم کچھ نشانیوں تک تو ضرور پہنچ سکتے ہیں انہی کے الفاظ دہراتا ہوں :

”ان نشانیوں میں اہم ترین لفظ (لوگوس) کا نور، روح کی روشنی، ارادے کی آزادی اور ہماری ذات کی ناگہانیت ہے۔ “

بہ قول اُن کے یہی خیر کی نشانیاں ہیں اور وہ بیٹے کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ملتے ہیں :

”اے بیٹے! خیر کی نشانیاں دیکھ اور روح کی روشنی میں حرف و لفظ کی خوشبو کا تعاقب کرتا رہ۔ یہی کامیابی اور انسانیت کی بقا کا راستہ ہے۔“

تو یوں ہے کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اقبال آفاقی وسیع المطالعہ شخص ہیں ان کی تحریریں اسی متنوع مطالعے کا نچوڑ ہو کر علم کا گنجینہ ہو گئی ہیں ؛ ایسے نافع علم کا گنجینہ جس کے لفظ لفظ میں خیر کی نشانیاں ہیں۔

(الحمد اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد میں ڈاکٹر اقبال آفاقی کی کتاب ”گنجینہ معنی کا طلسم“ کی تقریب منعقدہ 20 اکتوبر 2024 ء میں پڑھی گئی تحریر)

Facebook Comments HS