اردو اور نوجوان نسل
ہر مضمون ایک نیا راستہ ہے جو ہمیں اپنی منزل تک پہنچاتا ہے لیکن یہ راستہ ہمیں خود بنانا پڑتا ہے۔ ہماری کہانی، ہماری زندگی، ہمارا اسکوپ۔
ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے جسے پورا کرنے کے لیے وہ تگ و دو محنت کرتا ہے کچھ لوگ اپنی زندگی کے مقصد کو جلد ہی پہچان لیتے ہیں اور اس کے برعکس کچھ لوگ اسی کشمکش میں ہی رہتے ہیں کہ آخر ان کو کرنا کیا ہے ان کے لیے درست سمت کیا ہے، وہ کس چیز میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ کوئی منزل ہوگی تبھی تو راستوں کا انتخاب ہو گا اور اگر اسی تلاش اور کشمکش میں رہے تو عین ممکن ہے کہ ہماری زندگی اور فیصلوں کی ڈور کسی اور کے ہاتھوں میں ہو گی۔
اور کبھی کوئی مقصد متعین کرنے کی سوچیں بھی تو ”اسکوپ“ نامی لفظ آڑے آ جاتا ہے کہ فلاں مضمون کا اسکوپ ہے فلاں کا نہیں، اور اسی سکوپ کے ہاتھوں ہم اپنے لیے ایسے مضمون کا انتخاب کر لیتے ہیں جو ہماری دلچسپی کے برعکس ہوتا ہے۔ ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ لفظ ہماری تعلیمی سفر میں کتنی اہمیت کا حامل ہے یا ہم کیوں اسکوپ کے چکر میں دلچسپی کے برعکس کچھ کر لیتے ہیں۔
اس کے معنیٰ حد، دائرہ، گنجائش کے ہیں۔ کافی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں صحیح سمت دکھاتا ہے۔ آخر یہ لفظ ہماری تعلیمی راہ میں ہی کیوں اتنا اثر انداز ہوتا ہے چاہے نویں جماعت میں دو مضامین میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو یا یونیورسٹی لیول پر، ہمارے دماغ میں آنے والا سب سے پہلا لفظ اسکوپ ہی ہوتا ہے کہ آنے والے وقت میں اس کا کیا اسکوپ ہو گا؟ کیا اس سے ہمارے لیے ملازمت کے دروازے با آسانی کھل سکیں گے؟ اردو لٹریچر میں ہم دلچسپی رکھتے ہیں مگر ہم وہ نہیں پڑھنا چاہتے کیونکہ نوکری حاصل کرنے میں مشکل ہو سکتی ہے اس لیے ہم وہ انتخاب کر لیتے ہیں جسے پڑھنے میں ہی بوریت محسوس ہونے لگتی ہے اور کتاب کھلتے ہی نیند آ کر گھیر لیتی ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی سفر میں اس لفظ کو اتنی اہمیت دیتے ہیں اور ہر طالب علم بس اسکوپ، اسکوپ کرتا نظر آتا ہے۔ ایک بات جو میں نے پڑھی تھی کہ ایک دفعہ سر سید احمد خان کے پوتے سید راس مسعود نے خط لکھا جس میں انہوں نے کچھ الفاظ انگریزی کے استعمال کیے تو ان کی والدہ نے کہا کہ اردو کے خط میں انگریزی کے الفاظ؟ ہماری قومی زبان اردو کے ہوتے ہوئے انگریزی زبان کے الفاظ استعمال کرنا مناسب نہیں تو ان کو اس بات پر بے حد شرمندگی محسوس ہوئی۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ اب کبھی وہ انگریزی کے الفاظ استعمال نہیں کریں گے۔ اور ہمارے آج کے طالب علم ادب کی اہمیت تک نہیں جانتے اور نہ جاننا چاہتے ہیں، اپنی قومی زبان کو پڑھنا نہیں چاہتے کہ اس کا کوئی اسکوپ نہیں یا آنے والے وقت میں نوکری کا حاصل کرنا مشکل ہے۔ اردو کے نہ پھلنے پھولنے کی ایک حد تک یہ وجہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہم خود اپنی قومی زبان کو غریب اور حقیر سمجھتے ہیں۔ جبکہ ہم یہ نہیں جانتے اردو ادب کا مضمون کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے بر عکس وہ عظیم ہستیاں جو ہمارے لیے اتنا قیمتی سرمایہ چھوڑ کر گئے وہ پڑھ کر اردو ادب کا طالب علم کتنا سکون محسوس کرتا ہے۔
پاکستان میں آج بھی بے شمار ان گنت لوگ ہیں جو اردو ادب کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں۔ مختلف شہروں میں محفلیں سجائی جاتی ہیں اور باہر کے ممالک میں جا کر بھی پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں۔ اردو برصغیر پاک و ہند کی معیاری زبانوں میں سے ایک ہے یہ پاکستان کی قومی اور رابطہ عامہ کی زبان ہے۔ جبکہ بھارت کی چھ ریاستوں کی دفتری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔ آئینی ہند کے مطابق اسے 22 دفتری شناخت شدہ زبانوں میں شامل کیا جا چکا ہے۔ 2001 کی مردم شماری کے مطابق اردو کو بطور مادری زبان بھارت میں 5.1 فیصد لوگ بولتے ہیں اور اسی لحاظ سے یہ بھارت کی چھٹی بڑی زبان ہے جبکہ بطور اسے پاکستان میں مادری زبان کے 59۔ 7 لوگ استعمال کرتے ہیں اور یہ پاکستان کی پانچویں بڑی زبان ہے۔
✓نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
گزشتہ سال ایک ریسرچ آرٹیکل کے مطابق بیجنگ یونیورسٹی میں ایک شعبہ اردو کا بھی ہے جو 2007 میں قائم کیا گیا ہے چین میں اردو کے تقریباً 9 ڈیپارٹمنٹ ہیں لیکن ان میں دیکھا جائے تو اردو صرف چار جگہ پڑھائی جاتی ہے۔ جس میں دو شعبہ اردو بیجنگ میں بھی ہیں۔ بیجنگ فورا اسٹڈیز یونیورسٹی میں اردو پڑھنے والوں کی تعداد 20 ہے۔ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق شعبہ اردو کے بیشتر طالب علموں کو غیر ملکی زبانیں سیکھنے کا شوق تھا، کچھ تقریری مقابلہ جات یا انڈیا کی فلموں کے ذریعے اردو زبان کی طرف رجحان بڑھایا جاتا تھا کچھ طالب علم ایسے بھی ہیں جن کو اردو افسانے پڑھنے کا شوق ہے۔ پسندیدہ مصنفین میں احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر جیسے افسانہ نگار ہیں۔ علامہ اقبال اور فیض احمد فیض کی شاعری بھی شوق سے پڑھی جاتی ہے۔ وہ اردو کو بہت شاعرانہ اور رومانوی زبان سمجھتے ہیں۔
سکوپ کسی چیز کا نہیں ہوتا ہر سبجیکٹ کی اپنی ورتھ ہوتی ہے اور ہر سبجیکٹ کہیں نہ کہیں اپنی اہمیت کا لوہا منوا لیتا ہے۔ آج سے دو سال قبل شعبہ اردو میں داخلہ لیتے وقت میرے ذہن میں بھی اس طرح کے کئی سوالات اٹھے تھے کہ اس کا کیا اسکوپ ہے آج کل اس ترقی کرتے دور میں اردو میں کون ماسٹرز کرتا ہے۔ کسی کو بتا بھی دوں تو حیران کن نظروں سے دیکھتے تھے کہ اردو، اردو تو بہت آسان ہے، حلوہ ہے تب میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا تھا مگر مجھے لگتا ہے کہ حلوہ صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو بس رٹے لگاتے ہیں جو اردو کو محض اردو سمجھ کر پڑھتے ہیں۔
شعبہ اردو کی ڈگری فقط ان کے لیے ایک کاغذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہے، کچھ پڑھنے کو دل نہیں تھا، پڑھائی میں دلچسپی نہیں تھی، جامعہ میں ٹائم پاس کرنا تھا، ڈگری لینی تھی شعبہ اردو کا انتخاب کر لیا۔ ہماری آج کی نو جوان نسل اردو کو یہی سمجھ کر پڑھتی ہے اور جو ادب کی ڈگری لینے کے بعد اردو ادب کے لیے کوئی خدمات سرانجام نہیں دیتے ان کے لیے یہ عرض کیا کہ
✓ بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتے ہیں
وہ اور جو ادب کا مطلب جان جاتے ہیں وہ پھر اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں، اسی میں گم ہو جاتے ہیں اور کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ”کتاب انسان کی بہترین دوست ہے“ اور آج بھی مجھے فخر ہے کہ میں شعبہ اردو کی طالب علم ہوں اور میں ہمیشہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوشاں ہوں۔
اسکوپ کسی چیز کا نہیں ہوتا ہم سکوپ خود بناتے ہیں محنت کر کے، جد و جہد کر کے جو چیز جس مضمون میں بھی ہم کامیاب ہو جائیں اس کا اسکوپ خود بخود ہی بن جاتا ہے اس لیے اپنی زندگی میں اپنا اسکوپ خود بناؤ۔
✓یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری



بہت اچھی تحریر