ہر شخص بھکاریوں کے نشانے پر، جہاں جاؤ وہاں گداگر


میرے گھر کے قریب اکثر ایک عورت اپنی گود میں ایک بچہ اٹھائے لوگوں سے بھیک مانگ رہی ہوتی تھی۔ اس عورت کی گود میں موجود بچے کی حرکات اپنی عمر کے باقی بچوں کی حرکات سے بہت مختلف ہوتی تھیں جہاں ایک سے دو سال کی عمر کے باقی بچے روتے ہیں کھیلتے ہیں دوسروں کی توجہ اپنی طرف متوجہ کرواتے ہیں وہاں وہ بچہ صرف اس عورت کے گود میں یا تو سو رہا ہوتا تھا یا پھر غنودگی کی حالت میں رہتا تھا اکثر تیز دھوپ میں وہ عورت اس بچے کو زمین پر سیدھا لیٹا کر مانگ رہی ہوتی تھی مگر اس وقت بھی وہ بچہ اسے سو رہا ہوتا تھا جیسے وہ کسی عالیشان گھر موجود کسی نرم و ملائم بستر پھر سو رہا ہو۔

اگر کبھی وہ بچہ جاگ بھی رہا ہوتا تو بھی وہ نیند کے خمار میں ہی محسوس ہوتا۔ یہ دیکھ کر اکثر میں تعجب زدہ ہوتا کیونکہ اس عمر کے بچے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی شرارتوں سے باز نہیں آتے اور ایک طرف یہ بچہ تھا جو کچھ کھانے یا پینے کی چیز مانگنے کے لئے روتا تک نہیں تھا۔ ایک دن میں نے اس عورت سے پوچھا کیا اس بچے کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہے؟ تو اس عورت سے فوراً سے جواب دیا ہاں میرا بچہ بیمار ہے میری مدد کی جائے۔

خیر نا جانے کیوں مجھے اس عورت کی بات پر یقین نہیں ہوا۔ پھر کچھ دنوں بعد صبح کے وقت جلدی اٹھ کر صبح کی سیر کرنے جب میں باہر نکلا تو میں نے دیکھا وہ عورت ایک شیشی میں سے کچھ اس بچے کو پلا رہی ہے۔ میں نے قریب جا کر پوچھا تو کہنے لگی یہ اس کی دوائی ہے۔ جب میری نظر اس شیشی کی دوائی پر پڑی تو میں نے دیکھا اور اصل میں دوائی تھی مگر بیماری کی نہیں اس بچے کو بے ہوشی کی حالت میں رکھنے کی دوائی تھی۔ جس کے بعد مجھ پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ بھکاری مافیا ننھے پھول جیسے بچوں کو بے ہوشی کی ادویات کا استعمال کر کے گداگری جیسے غلیظ دھندے میں استعمال کرتے ہیں۔ ایسے بے ہوشی کی حالت میں ہونے کی وجہ سے ایک تو وہ بچے ان کو زیادہ تنگ نہیں کرتے دوسرا آتے جاتے مدد کرنے والوں کو یہ لگتا ہے شاید بچے کی بیماری کی وجہ سے یہ حالت ہے۔

یہاں یہ سوال میں پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ماں اپنے جگر گوشے کو ایسی ادویات کا استعمال کروا سکتی ہے جو اس کی اولاد کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہو تو یہاں اس بات کا بھی انکشاف کرتا چلوں کہ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ یہ افراد خانہ بدوش افراد کے بچے مبینہ طور پر کرائے پر حاصل کرتے ہیں اور بدلے میں روزانہ ان کو رقم ادا کرتے ہیں۔

اس بارے میں بہت سے رپورٹس بھی موجود ہیں۔

اس بات سے شاید آپ لوگ واقف ہوں ان بھیک مافیا کا بھی اپنا اپنا علاقے ہوتا ہے ان کی حدود میں آنے والے علاقوں کی حد بندی ہوتی ہے کہ اس ایک جگہ پر صرف چنے ہوئے مخصوص لوگ ہی مانگ سکتے ہیں اور جہاں ان کی حدود ختم ہوتی ہے وہاں سے آگے چنے ہوئے مخصوص لوگ مانگ سکتے ہیں۔ ویسے ایمان داری کی بات کی جائے تو گداگر اپنا کام ایمانداری سے سرانجام دیتے ہیں صرف اپنے علاقے میں رہ کر ہی مانگتے ہیں اور ان کو دوسری بھکاری کے علاقے میں جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔

بڑے پیمانے کی بات کی جائے تو اس مافیا کو چلانے والوں کے کچھ علاقے ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے بھکاریوں کھڑے کرتے ہیں اور ان سے بھیک کی رقم حاصل کرتے ہیں اور ان کو اپنی طرف سے مقرر ہوا معاوضہ اداکرتے ہیں ہیں۔

گداگری اب کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ بھیک مانگنے والے یہ سب اپنی نوکری سمجھ کر کرتے ہیں۔ اس کاروبار میں کچھ تو بڑے مافیا ہیں جو بگ باس ہیں۔ جیسے کسی بھی بڑے اور اچھے ادارے کا ایک باس ہوتا ہے۔ پھر جیسے کسی ادارے میں ملازمین کی ڈیوٹی لگانے کے لئے انچارج اور سپروائزر موجود ہوتے ہیں اسی طرح اسی طرح بھکاریوں میں علاقے بانٹنے اور ان کی ڈیوٹیاں لگانے کے لئے ان کے انچارج موجود ہوتے ہیں۔ پھر جیسے ایک اچھا ادارہ اپنے ملازمین کی سہولت کے لئے پک اینڈ ڈراپ کی سروس فراہم کرتا ہے ایسے ہی ویسے ہی ان بھکاریوں کو صبح کام والی جگہ پر چھوڑنے اور وہاں سے واپس لے کر جانے لئے خاص ڈرائیور فراہم کیے جاتے ہیں۔

پھر جیسے باقی ادارے جب اپنے ملازمین کو تمام تر سہولیات دینے کے بعد ملازمین کی سرویلنس کے لئے بھی کچھ افراد رکھتے ہیں جن کا کام یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ملازمین اپنا کام ٹھیک طرح سرانجام دے بھی رہے ہیں یا نہیں وقت پر کام پر آ تو جاتے ہیں نہ اور پورا وقت بھی دیتے ہیں یا نہیں ویسے ہی ان بھکاریوں پر بھی نظر رکھنے کے لئے بندے موجود ہوتے ہیں جو وقفے وقفے سے ان کو چیک کرتے رہتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل سعودیہ میں پاکستانی بھکاریوں کا بھی انکشاف ہوا لوگ یہاں سے سعودیہ جا کر بھیک مانگتے ہیں اس خبر سے وطن عزیز کے وقار میں کافی کمی آئی تھی۔ اس خبر کے بعد سے ادارے بھی حرکت میں آئے تھے اور بھیک مانگنے کی غرض سے جانے والے مسافروں کو آف لوڈ بھی کیا جانے لگا۔ یہ بھی اعداد و شمار سامنے آئے تھے کہ سعودی عرب کے علاوہ متحدہ عرب امارات، عراق، ملائیشیا، قطر اور آذربائیجان میں بھی پاکستانی شہریوں کی بھیک مانگنے کی بھی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔

گداگر زیادہ تر ایسی جگہ چنتے ہیں جہاں لوگوں کا رش زیادہ سے زیادہ ہو جیسے ایسی جگہ جہاں کھانے پینے کے ہوٹلز وغیرہ زیادہ ہوں کیوں کہ اس بات سے گداگر اچھی طرح واقف ہیں کہ لوگ اپنی فیملیز کے ساتھ ادھر آئیں گے تو ہم ان کو مجبور کر کے کسی نہ کسی طرح پیسے نکلوا ہی لیں گے۔ ہسپتالوں کے باہر بھی گداگروں کی اچھی خاصی تعداد دیکھنے کو ملتی کیوں کہ پریشانی اور دکھ کی حالت میں موجود لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھیل کر یہ لوگوں سے پیسے نکلوانے میں آسانی سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔

آپ کے ساتھ فراڈ گداگروں کے کچھ دلچسپ واقعات شیئر کرتے ہیں۔ بلا ناغہ ہر جمعرات ایک اندھا بھکاری اپنی بیوی اور بچے کے ساتھ مانگنے آتا تھا ایک دن کسی کام کے سلسلے میں میرا گھر سے تھوڑے دور علاقے میں جانا ہوا وہاں وہ بھکاری اندھا نہیں بلکہ لنگڑا بن کر راہ چلتی کاروں اور ویگنوں میں موجود مسافروں کے پاس لنگڑاتے ہوئے جاتا اور بھیک مانگتا۔ اسے دیکھ کر میں نے فوراً سے پہچان لیا کہ یہ وہی اندھا فقیر ہے جو ہر جمعرات کو مانگنے آتا ہے پھر مجھے یاد آیا کہ آج جمعرات نہیں منگل ہے اس لئے شاید آج اس کے لنگڑانے کا دن ہے۔ اور کیا پتا اس نے پورے ہفتے میں موجود ہر دن کسی کسی معذوری کے لئے وقف کیا ہو کہ اس دن اس معذوری کے ساتھ مانگنے جانا ہے۔

بھکاری مافیا نت نئے اندازوں سے عوام کو لوٹنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ پہلے ایک وقت آیا تھا جب صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس شخص آپ کے پاس آتا تھا اور کہتا تھا میں مانگنے والا نہیں ہو پردیسی ہوں یہاں کسی نے میری جیب کاٹ لی یا پھر میرے پیسے گم ہوئے ہیں میری مدد کی جائے آج کے دور میں اس چال میں تھوڑی تبدیلی آ چکی ہے اب اکثر دیکھنے میں آیا ہے سڑک کنارے کوئی ایسا ہی شخص بند موٹر سائیکل لئے کھڑا ہوجاتا ہے اور آتے جاتے لوگوں سے کہتا ہے میرا پیٹرول ختم ہو گیا ہے میری مدد کی جائے مجھے اپنا کوئی اکاؤنٹ نمبر دے دیں میں گھر جاتے ہی آپ کے اکاؤنٹ میں آپ کے پیسے لوٹا دوں گا۔ ایسے افراد کے بظاہر کپڑے بھی اچھے پہنے ہوتے ہیں اور بات کرنے کے انداز سے بھی بھلے معلوم ہوتے ہیں تو انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو ہی جاتا ہے کہ شاید ان کی کوئی مجبوری ہوگی اور خدانخواستہ ایسا وقت کبھی ہم پر بھی تو آ سکتا ہے۔

اسی طرز کی ایک ویڈیو کچھ عرصہ قبل انٹرنیٹ پر وائرل بھی ہوئی تھی جس میں ایک نوجوان ایسے ہی آتے جاتے لوگوں سے پیسے بٹور رہا تھا۔ ان جیسے دھوکے باز افراد کی وجہ سے اکثر انسان درحقیقت کسی ضرورت مند کی مدد نہیں کرتا کہ شاید یہ بھی کوئی ناٹک ہی کر رہا ہے پیسے لینے کے لئے۔

اسی طرح ایک عزیز نے بتایا کہ ایک فراڈیا اس کے پاس آیا اور کہا میرا گھر آپ کے دفتر کے بالکل سامنے سڑک پار کر کے آتا ہے میں جلدی میں گھر سے نکلا ہوں فیملی ساتھ ہے یہاں سے کچھ ضروری سامان لینا ہے فیملی کو ایسے چھوڑ کے جا نہیں سکتا مجھ کچھ پیسے دے دیں میں آپ کو لوٹا دوں گا آپ کا ہمسایہ ہی ہوں۔ اگلے دن جب اس گھر میں جا کر پتا کیا تو وہ گھر تو کسی اور صاحب کا ہی تھا۔ ایسے ہی آئے روز نئے نئے طریقوں سے نوسرباز معصوم لوگوں کے لوٹ رہے ہیں۔

بے شک ہمیں معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لئے معاشرے میں موجود غریب افراد کی مدد کرنا ضروری ہے لیکن کوشش کریں کے حق دار تک اس کا حق پہنچائیں۔ آج کر ایک نیا ٹرینڈ چل نکلا ہے کسی کی بھی مدد کرتے وقت ویڈیوز بنا لی جاتی ہیں اور انٹرنیٹ پر وائرل کر دی جاتی ہیں اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایسا اس لئے کرتے ہیں تا کہ ہماری ویڈیوز دیکھ کر اور لوگوں میں بھی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوا لیکن میرے خیال سے جس نے کسی کی مدد کرنے ہوتی ہے وہ ایسی ویڈیوز دیکھے بغیر بھی مدد کر دیتا ہے اور جس نے نہیں کرنی ہوتی وہ نہیں کرتا۔

کوشش کریں کے سب سے پہلے اردگرد گلی محلے اور رشتے داروں میں ایسے افراد تلاش کریں جن کے مالی حالات ٹھیک نہیں ہیں کوشش کریں ان کی مدد کی جائے۔ کچھ عزت دار لوگ مانگتے نہیں مگر تنگ دستی کی زندگی گزارتے رہتے ہیں کوشش کریں ایسے افراد کو تلاش کر کے ان کے مدد کریں۔ اور ضروری نہیں مدد پیسوں کی صورت میں ہی کی جائے اگر کوئی بیمار ہے تو اس کو ادویات لے کر دی جا سکتی ہیں کسی غریب کے بچوں کے سکول کی فیس ادا کر کے بھی مدد کی جا سکتی ہے کسی کے گھر میں راشن دے کر ان کی مدد کی جا سکتی ہے۔

گداگروں کی حوصلہ شکنی کریں اور ضرورت مندوں کا ساتھ دیں تا کہ ہم ایک بہتر معاشرہ بن سکیں۔ گداگری ہمارے معاشرے کا ایک ایسا ناسور ہے تو دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ گداگری قانون جرم ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کے روک تھام کے لئے سرگرم بھی رہتے ہیں مگر بھیک مافیا اس حد کر طاقتور اور پھیل چکا ہے کہ یہ ناسور ہمارے معاشرے سے جلد ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

Facebook Comments HS