میر تقی میر کی سوانح حیات ”ذکر میر“ کا فکری اور تاریخی جائزہ۔ آخری قسط


تاریخ میں جب بھی میر کا ذکر ہو گا تب غالب کا ذکر ہونا لازم ہے، دونوں ایک دوسرے کی طرح قصیدہ گو اور درباری ہونے کے الزام سے کبھی آزاد نہ ہو سکے بلکہ یہ الزام مغلیہ سلطنت کے لگ بھگ سبھی شاعروں پر ہے۔ لیکن ظاہر ہے سبھی شاعروں کو ”جنرلائیزڈ“ کر کہے نہیں دیکھا جا سکتا۔ قصیدہ گوئی اور دربار کی ثنا خوانی کے زاویے میں مغلیہ دور کے شاعروں کو ان کے کلام، شعر اور خیال سے پرکھا جا سکتا ہے۔ اور ان کی شخصیت کو فکر کی وسعت اور ساخت کو ”constructivism“ تھیوری کے اصولوں پہ ٹٹولنے کی ضرورت ہے۔ شاعر کے حالیہ فکری اور نفسیاتی عروج کو سمجھنے کے لئے اس کے ماضی کا پس منظر اور حال کی حالتوں کو بھی دیکھنا ہوتا ہے، اس کے خیال اور فکر کے عروج اور زوال کو بھی تولنا ہوتا ہے۔ جس بھی تخلیق کار کی طلب و خواہش ادبی جنسیت کی پیروی کرتی ہو وہ اپنے سماجی رتبے اور حیثیت سے آگے نکلے ہوئے ہوتے ہیں ان کے لیے وجودی قوت، قدر اور معیار ہی زندگی کا اعلیٰ معیار ہوتا ہے جن کے بغیر ان کا وجود بے معنی اور ادھورا ہوا جاتا ہے۔

بقول حضرت غالب:

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری
کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

غالب کے شعر میں جن کیفیات، کا ذکر ہے وہ ایک شاعر کی سبجیکٹو محرومی درد اور احساس کمتری کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اس وقت کی رائج رسم کی نمائندگی ہے جس کی گرفت میں آ کر ہر دوسرے سچے تخلیق کار کا دم گھٹتا ہے اور اپنے اعلیٰ ادبی اثر پہ گمان اور وہم ہونے لگتا ہے۔ اس شعر میں اٹھائے گئے سوال اور فکرمندی صرف ہندوستان کی اٹھارہویں صدی کی نمائندگی نہیں کرتی بلکہ یہ ہر اس دور کا سوال ہے جو جدید درباری نظام پہ مبنی ہے یعنی ایسے سماج میں جہاں برسوں سے درباری نظام قائم ہو جہاں افسر شاہی اور بادشاہت ہو اور جمہوری حکومتیں بھی مسمار ہو جائیں جس کی ایک اعلیٰ مثال یہاں حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہاں شاعری عزت اور روزگار کا کیا وسیلہ بنے گی پہ سارے عالم میں تخلیق کے ساتھ یہی برتاؤ ہے۔ تخلیق ادب اور فن ہمیشہ سے بادشاہوں، سرکاری گٹھ جوڑ اور حکمرانوں کے پاس غلام بنا ہوا ہے ظاہر ہے کہ کسی بھی تخلیق کار کے لیے موجودہ سماجی روش میں آج بھی وہی فرسودگی گھٹن برقرار ہے۔ درباری ثنا اور قصیدہ گوئی کی رسم جتنی منظم متحرک اور تنظیم ساز بن کہ آج نمایاں ہے شاید ہی اتنی کبھی تھی۔

سندھی ادب کے نامور دانشور جامی چانڈیو نے ”فیس بک“ پہ ذکر میر کے حوالے سے اپنی رائے دی ہے کہ:

”میر اور غالب میں فقط ایک کمزوری نمایاں اور یکساں تھی کہ خودی اور انا کی راہ پہ چلنے کہ باوجود درباری اور قصیدہ گوئی سے جان چھڑا نہ سکے شاید اس لیے کہ دونوں مغلیہ درباری کلچر کی پیداوار تھے اور اکبر آباد یعنی آگرہ کی بنیادی تربیت میں سے تھے۔

میر کی طرح غالب بھی درباری ہونے کی تہمت سے کبھی آزاد نہ ہو سکے۔ یہ الزام ہر دور میں ان پہ رہا ہے شاید اس لیے بھی کہ میر اور غالب کا دور سماجی اتھل پتھل اور سیاسی طور پر زوال کا شکار رہا۔ برصغیر کے دونوں عظیم شاعروں نے ساری توڑ پھوڑ کو باریکی سے پرکھا اور اپنے کلام میں بار بار دہرایا ہے۔

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

کلکتہ، دلی، آگرہ، لکھنؤ کی مسافری اور در در کی ٹھوکریں دونوں شاعروں کو نصیب ہوئیں۔ جس کا دردمندانہ اظہار میر کے اس شعر سے پرکھا جا سکتا ہے۔

دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں
تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا

میر نے جس دور میں پرورش پائی وہ دور سیاسی افراتفری، ناہمواری، ذہنی تشنگی، معاشی استحصال اور دلی کی بربادی کا دور تھا۔ اس ہندوستان میں بادشاہت کا زوال ہو رہا تھا، مغل سلطنت آخری سانسیں لے رہی تھی۔ میر جب نو برس کا تھا تب ان کے والد محمد علی گزر گئے۔ میر نے اپنی بنیادی فکری اور روحانی تعلیم و تربیت اپنے والد اور ان کے اساتذہ کی صحبت میں مکمل کی۔ ان کے والد کے گزر جانے کے بعد ان کے سوتیلے بھائی کی بدسلوکی نے انہیں بہت رنج و غم پہنچایا اور میر معاشی وسائل کی تلاش میں دلی جا کر نواب کے پاس ملازم ہوئے۔ جو فوراً ہی کسی جنگ میں مارے گئے اور میر دلی چھوڑ کر آگرہ واپس چلے گئے لیکن وہاں بھی کوئی وسائل نہ ملنے پہ دوبارہ دلی چلے گئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے پاس قیام کیا جہاں ان کے سوتیلے بھائی کے بھڑکانے پر آرزو میر کے لیے ماحول تنگ کر دیتے ہیں۔

میر سخت ذلت و تذلیل اور اپنی ذات میں تنقید کا محور بن کر خود سے پرے ہوتے گئے۔ اور تنہائی کی تلاش میں لکھنؤ چلے جاتے ہیں جہاں ان کی شاعری پروان چڑھتی ہے اور اس دور کے نواب آصف الدولہ ان کا تین سو روپیہ ماہانہ معاوضہ طے کرتے ہیں مگر اپنی شوخی، تنگ مزاجی اور حساس طبیعت کے بدولت دربار سے دور ہو جاتے ہیں میر اپنی طبیعت میں نہایت ہی خوددار شخصیت کے مالک تھے۔

غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
جاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر

دلی جس نے میر کے دل و جان پہ حکومت کی ہو، جس سے میر محبوب کی طرح عشق میں گرفتار رہا ہو اس دلی میں جو ابدالی نے تباہی برپا کی میر اس کا گواہ ہے اور اس نے وہ تجربات اپنی سوانح حیات میں بیان کیے ہیں جو نہایت ہی عبرت ناک ہیں۔

پگڑی اپنی سنبھالیے گا میر
اور بستی نہیں یہ دلّی ہے

امیر زادوں سے دلی کے مل نہ تا مقدور
کہ ہم فقیر ہوئے ہیں انہیں کی دولت سے

میر کی اس شاعری میں اس کے سیاسی، فکری اور معاشی استحصال کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان کو یہ معلوم تھا کہ امیر زادوں نوابوں اور جاگیرداروں نے ہی طبقاتی نظام کی بنیاد بنانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔ اس گروہ کا عام لوگوں کی کامیابی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ جیسے میر پڑھنے والوں کو سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان رئیس زادوں کی صحبت کا انجام استحصالی ہے۔ وہ پیسے پھینک کہ لوگوں سے پسندیدہ کام لینے کے ماہر ہیں۔ جو ان سے استعمال ہوئے تاریخ کبھی انہیں جگہ نہیں دے گی اس شعر میں یہ طے ہے کہ میر دربار اور نوابوں سے سخت خفا ہیں اور ان کا اپنے کلام میں ذکر کرتے رہے ہیں۔

میر پہ درباری ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی اور شریعتی ہونے کا الزام لگانے کی کوشش کی جاتی ہے میر کے والد کے مذہبی عالم ہونے کے باوجود وہ ایک تصوف کے مفکر کے بیٹے ہونے کے باوجود وہ مذہبی رسموں عقیدوں پہ اپنا خیال مکمل طور پہ پیش کرتے اور لاتعلقی اور بیزاری کا اظہار بھی کرتے آئے ہیں۔ اپنے کلام میں مدبرانہ طور پہ تنقیدی اور متنازعہ خیال پیش کرتے آئے ہیں۔

کس کا کعبہ کیسا قبلہ کون حرم ہے کیا احرام
کوچے کے اس کے باشندوں نے سب کو یہیں سے سلام کیا
شیخ جو ہے مسجد میں ننگا رات کو تھا مے خانے میں
جبہ خرقہ کرتا ٹوپی مستی میں انعام کیا
میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو
قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

میر تقی میر کہ ان انتہائی اہم شعروں سے ان کے ایمان کی نسبت سے خیال اور تصور کا پتا چلتا ہے۔ میر روایتی طور پہ صوفی مت کے ملامتی و تنقیدی تسلسل سے بندھے نظر آ رہے ہیں جس پر اور تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ میر کی شاعری ان کے خیال، ایمان اور احساسات کی نمائندگی کرتی ہے۔ میر ذاتی طور پہ روایت پسند اور روایتی قدروں کو آگے رکھتے آئے ہیں۔ اس دور کی افراتفری، اتھل پتھل کے نتیجے میں سماجی اور روایتی قدروں کی توڑ پھوڑ اور قدروں کی نئی بنا پر تشکیل پہ سخت حیران اور پریشان رہتے تھے۔ انسان کا بالخصوص تخلیق کار کا وجود سماجی قدروں کے علاوہ ادھورا ہے وہ ادھورا پن ان کو اور پریشان کرتا رہا۔ مسلسل مسافت اور اتھل پتھل کی وجہ سے میر کا پالا ایسے لوگوں سے پڑا جو پرانی قدروں، معیار اور ادب شناسی سے وابستہ نہ تھے جو میر کے لیے باعثِ فکر بات تھی۔

”ذکر میر“ سوانح حیات کے اصولوں کے مطابق میر کی کہانی نہیں کیونکہ میر کی ذاتی زندگی کا ذکر اس میں نہ ہونے کے برابر بلکہ بالکل ہی غائب ہے۔ یہ کہانی جیسے میر کی نہیں دلی کی کہانی ہے، جس نے اپنا حال بتانے کے لیے میر کو چنا ہے۔ دلی نے اپنا دل نکال کہ میر کے سینے میں رکھ دیا ہے اور میر کے دل میں دلی دھڑک رہی ہے۔ تاریخ میں جب بھی دلی کا ذکر نکلے گا تو اس کے عاشق میر کا ذکر لازم آئے گا۔ میر دلی ہے اور دلی میر۔ جیسے استاد نے کہا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے

یہ ایک غیر روایتی سوانح حیات ہے جس میں میر غائب بھی ہے اور حاضر بھی۔ تاریخ کے چناؤ کہ معیار تیز اور تراشے ہوئے ہوتے ہیں۔ تاریخ نے جن بھی لوگوں کو چنا ہے وہ اپنے فکر، فن، فہم و ادراک میں کمال کے فنکار رہے ہیں۔ جیسے شیکسپیئر کے حصے میں انگریزی زبان کو سنوارنے کا سہرا آتا ہے ویسے سندھی میں شاہ بھٹائی اور اردو کا میر اور غالب پہ آتا ہے۔

ذکر میر شاعرانہ اور جمالیاتی اظہار کی خوبصورت مثال اور لازوال نثر کی پیشکش ہے۔ اٹھارہویں صدی کے ہندوستان کی تاریخ کو ایک عظیم شاعر کی نظر سے سمجھنے کے لیے بھی ایک اہم کتاب ہے۔

مجھ کو شاعر نہ کہو میرؔ کہ صاحب میں نے
درد و غم کتنے کیے جمع تو دیوان کیا
کیا زمانہ تھا وہ جو گزرا میرؔ
ہم دگر لوگ چاہ کرتے تھے

Facebook Comments HS