میری حرکت معطل ہو چکی ہے


سامنے لیپ ٹاپ کھلا ہے،
انگلیوں میں دبا سگریٹ جل کے راکھ ہو چکا،
مختلف ٹیبز کھول کے بند کر دیتا ہوں۔
ایک تلاش ہے،
جو انٹرنیٹ کے بس کی نہیں۔
ایک اداسی ہے،
جس کی جڑیں میرے وجود سے ہو کر زمین میں اتر چکی ہیں،
اور میری حرکت معطل ہو چکی ہے۔

اداسی کہاں سے آتی ہے؟ نامراد تلاش سے۔ تلاش کس کی ہے؟ وہ جو گزر گئے ان کی؟ جو بچھڑ گئے؟ یا ان کی جن کے آنے کی امید تھی؟ روز گار کی؟ روزگار۔ نہیں روزگار اس نامکمل تلاش کا شکار ہو گیا ہے۔

یا تلاش اس رشتے کی ہے جو خود سے تھا، اپنی ذات سے تھا اور کہیں پیچھے چھوٹ گیا؟ یا اس رشتے کی تلاش ہے جو خود سے کبھی تھا ہی نہیں؟

میں نے خود کی انگلی جو بہت پہلے ویلیڈیشن کے لیے چھوڑ دی تھی شاید تلاش اسی کی ہے۔ میں نے اپنی انگلی خود چھوڑی یا چھڑوا دی گئی تھی؟ میرے ارد گرد بنے جال نے مجھے خود سے دور کیا یا میں نے خود اپنے آپ کو غیر اہم جان کے چھوڑ دیا؟ یعنی میں اپنے لیے اہم نہیں تھا، اہم نہیں ہوں؟ میرا خود سے بچھڑ جانا تکمیل کیوں کہلایا؟ ضروری تھا؟ میں کبھی بچھڑا نہیں یا تلاش اب شروع ہوئی ہے؟

شاید اداسی اسی درمیاں سے آتی ہے۔

کیا یہ تلاش ایک فرار ہے؟ فرار اس تھکاوٹ سے جو سب کو درپیش ہے، جسے زندگی کہتے ہیں، میں اس مشین کا پرزہ بن کر خود کو استعمال ہونے کیوں نہیں دیتا؟ کس حصے میں فٹ بیٹھوں گا، میرا سچ کیا ہے، سوال اٹھتا ہے۔ کیا میں سرینڈر کر دینے کی صلاحیت سے محروم ہوں؟

اداسی اسی کشمکش سے آتی ہے، جس کی جڑیں میرے وجود سے ہو کر زمین میں اتر چکی ہیں اور میری حرکت معطل ہو چکی ہے۔

تلاش اسی جواب کی ہے۔
جو انٹرنیٹ کے بس کا نہیں۔
سامنے لیپ ٹاپ کھلا ہے،
نیا سگریٹ جلاتا ہوں!
کچھ کام بہرحال مکمل کرنے ہیں۔

Facebook Comments HS