قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں


ایون فرنینڈس انایہ سپین سے تعلق رکھنے والا ایک بین الاقوامی ایتھلیٹ ہے۔ جو کہ لمبی اور درمیانی ریس کے مقابلوں میں حصہ لیتا ہے۔ 10 جون 1988 کو پیدا ہونے والے اس کھلاڑی نے اگرچہ کسی بین الاقوامی مقابلے میں کوئی بہت زیادہ قابل قدر کامیابی حاصل نہیں کی ہے لیکن کھیلوں کی دنیا میں وہ اپنی اعلیٰ اخلاقی اقدار اور سپورٹس مین سپرٹ کی بدولت نہایت قابل قدر مقام کا حامل ہے۔

فرنینڈس کی وجہ شہرت جنوری 2013 میں سپین میں 3 ہزار میٹر کی دوڑ کا وہ مقابلہ ہے جب وہ کینیا کے ایتھلیٹ ایل مٹائی سے پہلی پوزیشن کے لیے مقابلہ کر رہا تھا۔ مٹائی ریس میں سبقت حاصل کیے ہوئے تھا لیکن کسی غلط فہمی کی بنا پر وہ اختتامی لکیر سے کچھ پہلے رک گیا۔ فرنینڈس اس کا قریب ترین حریف تھا اور اس کے لیے یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ مٹائی کی غلطی سے فائدہ اٹھا کر ریس میں پہلی پوزیشن حاصل کر لیتا۔ لیکن تمام تماشائیوں اور مبصروں کی توقعات کے عین برعکس اس نے اپنے حریف مٹائی کو دھکا دے کر اختتامی لائن عبور کرا کر پہلی پوزیشن پر کھڑا کر دیا۔ جو کہ سٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں، ٹیلی ویژن کے توسط سے لاکھوں ناظرین اور کھیلوں کے مبصرین کے لیے ایک حیران کن منظر تھا۔

بعد ازاں صحافیوں کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے فرنینڈس نے کہا کہ اس مقابلے میں مٹائی تمام وقت اس سے آگے تھا اور جب وہ اختتامی لکیر کے بالکل قریب آ کر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر رک گیا تھا تو اس وقت بھی اس کے اور مٹائی کے درمیان اتنا فاصلہ تھا کہ وہ اسے کسی طور ہرا نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ اپنے ضمیر اور کھیلوں کی اعلیٰ اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے اپنے حریف کو دھکا دے کر جیتنے کا موقع فراہم کیا۔ فرنینڈس نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی طرح اس مقابلے کو جیتنے کا حقدار نہیں تھا کیونکہ مٹائی اس دوڑ کو با آسانی جیت رہا تھا اور اگر وہ مقابلہ جیت بھی لیتا تو اس کا ضمیر، اخلاقی اقدار، والدین کی تربیت اور سپورٹس مین سپرٹ اسے اس فتح کا جشن منانے کی بجائے ہمیشہ کے لیے اپنے ضمیر کا قیدی بنا دیتے۔ فرنینڈس سے منسوب یہ واقعہ آج تک ساری دنیا کے لیے ایک مثال ہے اور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اگر ہم لوگ اس مثال پر عمل کر لیں تو ہماری زندگی اور معاشرے میں پائی جانے والی بہت ساری خرابیاں خصوصاً مفاد پرستانہ رویہ بہت حد تک ختم ہو سکتا ہے۔

قارئین کرام! اوپر بیان کردہ واقعے کے تناظر میں جب صاحب مضمون پاکستانی معاشرے کی طرف نظر دوڑاتا ہے تو اسے سوائے مایوسی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں موجود اخلاقی خرابیاں، ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک گر جانے، ملکی قوانین سے انحراف اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر ذاتی منفعت پر مبنی قانون سازی نے پورے ملک کو ہمیشہ سے ایک شدید اخلاقی، قانونی اور معاشرتی بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جس نے قومی وحدت، یکجہتی اور معاشی طور پر مضبوط ہونے کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کو گھن کی طرح چاٹ لیا ہے۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد جسٹس منیر کی جانب سے نظریہ ضرورت کے تحت قانون ساز اسمبلی کی تحلیل کے اقدام کو حق بجانب قرار دینے کے فیصلے نے ملک میں بعد ازاں آنے والے تمام طالع آزماؤں کے لئے دروازے کھول دیے جو کہ پاکستان کے دو لخت ہو جانے کے عظیم سانحے کے باوجود ہر بار ایک نئی شکل میں نمودار ہو کر ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کا سبب بنتے ہیں۔

اگرچہ ملکی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن بدقسمتی سے ان واقعات کا تسلسل سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت سے بے دخلی کے بعد ناقابل یقین حد تک بڑھ چکا ہے جو کہ ملک میں قائم کردہ گزشتہ عبوری حکومتوں کی تشکیل اور ان کی جانب سے ملکی قوانینِ، آئینی قدغنوں اور عدلیہ کی جانب سے آئین کے تحت 90 دن کے اندر انتخابات کے انعقاد سے متعلق فیصلوں سے مکمل روگردانی تھی جس میں انہیں الیکشن کمیشن آف پاکستان اور ملک کے دیگر مقتدر حلقوں کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ آٹھ فروری 2024 کی رات ملک کی تاریخ کی سیاہ ترین رات تھی جب الیکشن کمیشن آف پاکستان اور حقیقی حکمرانوں نے عوامی رائے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، میری رائے میں، ایک ہارے ہوئے سیاسی ٹولے کو ملک پر مسلط کر دیا۔

آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اپنی ذاتی منفعت، حکومت سے چمٹے رہنے کی شدید خواہش اور اپنے تمام تر انتقامی جذبے کو تسکین پہنچانے کی سوچ نے 26 ویں آئینی ترمیم کو جنم دیا ہے جس کو بدقسمتی سے مقتدرہ اور ان کے زیر اثر الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ کی مکمل تائید اور حمایت حاصل تھی۔ اس ترمیم کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کو مکمل طور پر حکومت کے زیر انتظام چلنے والے بہت سارے اداروں میں سے ایک اور ادارے میں تبدیل کر دیا ہے۔

ان تمام تر دگرگوں حالات میں بھی صاحب مضمون اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ ملک میں جلد یا بدیر فرنینڈس کی طرح کوئی مرد میدان ضرور پیدا ہو گا جو کہ ذاتی منفعت سے بالاتر ہو کر حق اور صداقت کا پرچم بلند کرے گا۔ لیکن اس کی یہ خواہش اس وقت دم توڑ گئی جب اس نے 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے سنیارٹی لسٹ میں تیسرے نمبر پر براجمان جسٹس یحییٰ آفریدی کی بحیثیت چیف جسٹس آف پاکستان کی نامزدگی کی سفارش کرتے ہوئے دیکھا۔ صاحب مضمون اپنے تمام تر تلخ تجربات اور مشاہدات کے باوجود ایک موہوم سی امید رکھتا تھا کہ ہمارے قابل احترام جج صاحب شاید فرنینڈس کی تقلید کرتے ہوئے چیف جسٹس کے عہدے کو قبول کرنے سے صریحاً انکار کر دیں گے جو کہ درحقیقت ان کے لیے تھا ہی نہیں لیکن اس کے لیے وہ تمام تر لمحات ناقابل یقین تھے جب اس نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو نہ صرف یہ عہدہ قبول کرتے ہوئے دیکھا بلکہ اس سے بھی کہیں آگے بڑھ کر 25 اکتوبر کو منعقد کردہ فل کورٹ ریفرنس جس میں سپریم کورٹ کے متعدد سینئر معزز جج صاحبان کی عدم موجودگی نمایاں تھی کے دوران اپنے پیش رو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی مداح سرائی میں رطب اللسان دیکھا۔

جسٹس یحییٰ نے اپنے تعریفی کلمات میں اپنے پیش رو کی اس خوبی کو بخوبی اجاگر کیا کہ وہ ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں کہ جب ان کے خلاف بقول ان کے کوئی زیادتی ہو تو وہ اس زیادتی کے مرتکب انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ اللہ حق ہے اور وہ حق بات کو اپنے بندوں کو بہر طور پہنچا دیتا ہے اور اس بار اس کا ذریعہ جسٹس یحییٰ آفریدی بنے کیونکہ پوری پاکستانی قوم نے جاگتی آنکھوں اور کھلے کانوں سے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو تحریک انصاف اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپنی ذاتی انا اور حقیقی آقاؤں کی خواہش کے تابع انتہائی یک طرفہ اور جانبدارانہ فیصلے کرتے ہوئے دیکھا ہے جس نے کروڑوں پاکستانیوں کی جانب سے عمران خان کو دیے گئے حکومتی حق کو یکسر مسترد کر دیا۔

صاحب مضمون کو اس بات کا شدید قلق ہے کہ سپین سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ایتھلیٹ نے اپنی محدود تعلیمی قابلیت کے باوجود اپنے راستے میں آنے والی اس کامیابی کو محض اس لیے رد کر دیا کہ اس کا مقابل اس سے آگے تھا لیکن اس کے عین برعکس ملک پاک میں عدالت عظمیٰ میں فائز ایک 59 سالہ اعلیٰ تعلیمی اسناد اور وسیع عدالتی تجربے کے حامل جسٹس یحییٰ آفریدی نے تیسرے نمبر پر ہونے کے باوجود اپنے سے نہ صرف سینئر بلکہ ہر لحاظ سے برتر جسٹس منصور علی شاہ جن کے ساتھ وہ دن کا بڑا حصہ گزشتہ کئی سالوں سے گزار رہے تھے کا چیف جسٹس بننے کا حق ایک انتہائی متنازعہ آئینی ترمیم جس کی کامیابی محض لوٹا کریسی پر مبنی تھی خود کے لیے چیف جسٹس بننے کی پیشکش کو بخوشی قبول کر لیا۔

میں ایک مضطرب دل کے ساتھ جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک انتہائی کمزور، منقسم اور حکومت و مقتدرہ کے انگوٹھے کے نیچے دبی ہوئی سپریم کورٹ کا سربراہ بننے کی مبارک باد پیش کرنا چاہتا ہوں اور ان کے آنے والے تین سالہ دور کے لیے کسی بھی قسم کی خوش فہمی کا شکار نہیں بونا چاہوں گا۔

قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات

Facebook Comments HS