کیا صرف کسانوں پر پابندی سے فضائی آلودگی ختم ہو سکے گی؟
پچھلے کئی دنوں سے پاکستان کے مختلف شہر خاص طور پر لاہور، ملتان، اسلام آباد، پشاور رحیم یار خان اور بہاولپور ائر کوالٹی انڈیکس (AQ Air) کے مطابق فضائی آلودگی میں ٹاپ پوزیشنز پر ہیں۔ یہ صرف رواں سال نہیں ہو رہا بلکہ کئی سال سے ایسا ہے۔ ہمسائیوں یعنی چین، بھارت اور بنگلہ دیش کے حالات بھی اس سے کچھ مختلف نہیں۔
فضائی آلودگی کی وجہ سے مختلف بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں جن میں سی او پی ڈی (Chronic obstructive pulmonary disease) ، پھیپھڑوں کا کینسر، دمہ، دل کی بیماریاں، اور آنکھوں کی بیماریاں سب سے زیادہ ہیں۔
اس کی بڑی وجوہات میں پرٹیکولیٹ میٹر (ٹھوس یا مائع مادے کا ایک چھوٹا سا مجرد ماس جو گیس یا مائع کے اخراج میں انفرادی طور پر منتشر رہتا ہے)، دھواں، نائٹروجن ڈائی آکسائڈ، کاربن مونو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور مٹی کے ذرات وغیرہ ہیں۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے مطابق ہر سال کل اموات کا دس فیصد فضائی آلودگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
پرٹیکولیٹ میٹر کی بڑی وجوہات زرعی سرگرمیاں اور تعمیراتی کام ہیں جبکہ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ کی وجہ گاڑیاں ہیں۔ اس سلسلے میں انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں کی طرف سے جو واحد اقدام ابھی تک نظر آیا ہے وہ کسانوں کے فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی ہے۔ یہ ایک اچھا قدم ہے مگر اس کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر گڑ وغیرہ بنانے والے کسان متاثر ہوں گے۔ فصلوں کی باقیات جلانے اور دیگر سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کل فضائی آلودگی کا 20 فیصد پیدا کرتی ہے جس میں ایک بڑا حصہ گرد و غبار کا بھی ہوتا ہے اور فی الحال اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔
فضائی آلودگی کا 60 سے 70 فیصد حصہ گاڑیوں کے دھوئیں سے پیدا ہوتا ہے اور اس میں بھی سب سے اہم ذریعہ کاریں ہیں۔ وہ الگ بات کہ ہمارے ہاں پابندی اگر لگے تو پہلا نشانہ رکشے والا بنتا ہے۔ کار والے بابو کو کون روکے؟ اس بات کا اندازہ لگائیں کہ اسلام آباد پاکستان میں فضائی آلودگی میں مسلسل دوسرے یا تیسرے نمبر پر جا رہا ہے۔ کیا اسلام آباد میں آپ کو درختوں کی کمی یا رکشے نظر آتے ہیں؟
اس کے علاوہ بسیں، بڑے ٹرک، فیکٹریاں، کوئلے پر چلنے والے بجلی کے پلانٹس، اینٹوں کے بھٹے، طوفان اور جنگلی آگ وغیرہ فضائی آلودگی کا ذریعہ ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال ہے کہ شوگر ملز ایندھن کے طور پر کیا استعمال کرتی ہیں؟
فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لئے دنیا کو فوسل فیولز خاص طور پر پٹرول (پٹرول، ڈیزل، گیس، جیٹ آئل وغیرہ) کے استعمال کو محدود کرنا ہو گا۔
پروسیڈنگز آف نیشنل اکیڈمی آف سائنس (PNAS) کے مطابق کرونا کے دوران دنیا بھر میں لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کے لیول میں 30 سے 60 فیصد کمی ہوئی جبکہ ناسا (NASA) کے مطابق مارچ 2020 میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کا لیول 2005 کے بعد کم ترین ریکارڈ کیا گیا۔ وجہ کیا تھی؟ ٹرانسپورٹ کا استعمال نہ ہونا اور فیکٹریوں کا بند ہونا یعنی فوسل فیولز کا کم استعمال۔
کیا کبھی سوچا گیاکہ دنیا میں ہونے والی جنگیں، ہوائی جہاز اور راکٹ کس طرح فضائی آلودگی میں اضافہ کر رہے ہیں؟ جنگوں کے دوران لگنے والی آگ اور اس سے اٹھنے والا دھواں فضا پر کیا اثرات چھوڑ رہا ہے؟ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی جنگی گاڑیاں کیسے فضا کو آلودہ کر رہی ہیں؟ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن اتھارٹی کی 2015 کی رپورٹ کے مطابق ہوائی جہاز فضا میں موجود نائٹروجن ڈائی آکسائڈ کا 6 فیصد حصہ پیدا کرتے ہیں۔ جنگوں میں استعمال ہونے والے طیارے اس کے علاوہ ہیں۔ اگرچہ دنیا نئے فیولز پر توجہ دے رہی ہے مگر پاکستان جیسے ممالک، جہاں آدھے سے زیادہ جہاز ہی ناکارہ ہوں، اس لائن میں کہاں کھڑے ہیں؟
اسی طرح راکٹوں میں استعمال ہونے والے فیول سے کاربن کے زیادہ خارج ہونے اور دیگر سائنسی وجوہات کی بنا پر میتھین کو متبادل کے طور پر استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے مگر اس سے دنیا کا درجہ حرارت شدید بڑھنے اور نتیجے میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ( ہوا میں موجود قدرتی نائٹروجن اور آکسیجن کو جب زیادہ درجہ حرارت ملتا ہے جیسے آسمانی بجلی، جنگل کی آگ، گاڑی کا انجن، یا راکٹ سے پیدا ہونے والی حرارت وغیرہ تو یہ ری ایکشن کر کے نائٹروجن ڈائی آکسائڈز بنا دیتی ہیں ) کی شرح بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔
لہذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر دنیا کی سالانہ دس فیصد اموات کی وجہ فوسل فیولز ہیں تو یہ اکیسویں صدی کی جدید دنیا میں کہاں فٹ ہوتے ہیں؟ اور اگر اس کے اثرات کا شکار اس وقت ایشیائی ممالک ہیں تو فوسل فیولز مارکیٹ کے عالمی چیمپئنز کب تک بچیں گے؟
کلین ائر فنڈ آرگنائزیشن کے مطابق 2022 سے 2024 کے دوران فوسل فیولز فنڈنگ 350 فیصد بڑھی جبکہ فضا کو بہتر بنانے کے لیے حکومتوں نے ترقیاتی فنڈز کا صرف 01 فیصد دیا۔ فوسل فیولز پراجیکٹس کے بڑے فنڈرز میں یو ایس، اٹلی، ساؤتھ کوریا، جاپان، کینیڈا، جرمنی اور نیدر لینڈ جیسے ممالک اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے شامل ہیں۔
اس وقت جب دنیا فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لئے سی او پی 29 (United Nations Conference of parties ) کی تیاری کر رہی ہے تو اقوام متحدہ کے کرتا دھرتا ممبرز خاص طور پر یو ایس کیا فوسل فیولز کے متبادل ذرائع میں فنڈنگ کے لئے تیار ہے یا اس بارے میں دنیا سوچے گی؟ کیا فوسل فیولز سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر فضائی آلودگی کا خاتمہ صرف درخت لگانے اور فصلوں کی باقیات نہ جلانے سے ممکن ہے؟ کیا الیکٹرک گاڑیاں چلانے کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے سستی بجلی اور بجلی کی سولر اور ہائڈرل پروڈکشن کے لیے فنڈنگ کر سکتے ہیں؟ کیا ہماری حکومتیں کسانوں کو جدید سہولیات دینے کے لئے بجٹ سے کچھ حصہ ان پر خرچ کر سکتی ہیں؟ کیا فوسل فیولز مارکیٹ کے چوہدری سولر انرجی کی طرف توجہ دے سکتے ہیں؟
یہ سب تو لمبے عرصے کی پلاننگ میں آتے ہیں۔ اس وقت اہم سوالات یہ ہیں کہ کیا سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی کوئی ریگولیشن ہے؟ وہیکل انسپیکشن ٹیمز کبھی نظر آئیں؟ گاڑیوں کی تعداد پر کوئی ریگولیشن ہے؟ مجھے تو کم از کم ایسا کچھ نظر نہیں آ یا۔ لہذا اگر ہماری حکومتیں اور دنیا واقعی فضائی آلودگی کو اہم مسئلہ سمجھتی ہے تو وسیع پیمانے پر سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ورنہ صرف شجر کاری کے اشتہارات سے مسئلہ حل نہیں ہونے والا۔ فضائی آلودگی امیر یا غریب کا فرق کیے بغیر ہر انسان پر برابر اثر انداز ہوتی ہے۔


