"شہزاد نئیر کی ”کہانی چل رہی ہے


شہزاد نئیر جدید اردو نظم و غزل گوئی میں بہت بڑا نام ہے۔ ان سے پہلا تعارف بھی ان کی بے باک غزلوں اور نظموں سے ہوا، جب 2020 ء میں جہلم لٹریری فیسٹیول میں میری پہلوٹی کتاب ”ڈھولکی“ کی تقریبِ پذیرائی تھی اور ہمیں لاہور سے ایک ساتھ سفر کرنا تھا۔ تب رَستے میں جو نظمیں اور غزلیں اِنھوں نے سنائیں، اُنھوں نے ورطہ حیرت میں مبتلا کر ڈالا۔ مزید ملاقاتوں کے سلسلے چل نکلے اور ہر محفل میں شہزاد نئیر کو پہلے سے زیادہ خوبصورت، حساس اور شاندار انسان پایا۔ جب انھوں نے اپنی نظموں کا دوسرا مجموعہ ”گرہ کھلنے تک“ اور غزلوں کا پہلا مجموعہ ”آبشار“ عطا کیا تو اس کے مطالعے سے یہ عیاں ہوا کہ شہزاد نئیر ہم عصر شعرا میں اپنے کلام کی تروتازگی اور موضوعات کی فراوانی کے باعث کس قدر منفرد مقام کے حامل ہیں۔ ایسا بے پناہ شاعر کبھی اچھی نثر بھی لکھ سکے گا، اس کا اندازہ تب نہ ہوا۔

کچھ دنوں کی بات ہے کہ شہزاد نئیر نے کال کی اور کہا کہ میاں نگارشات کے دفتر آؤ تو میرے پاس تمھارے لیے ایک بڑا سرپرائز ہے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اس وقت میں بھی نگارشات کے آس پاس ہی تھا سو فوراً ان کے پاس پہنچ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ بھاری بھرکم سفید مونچھوں والے آصف جاوید اور کلین شیو شہزاد نئیر رنگ برنگی کتابوں کے بیچ گلاب جامن اور چائے رکھے، سگریٹ کے مرغولے اڑا رہے ہیں۔ شہزاد نئیر نے گلے لگاتے ہی گلاب جامن کھلایا اور یہ خوشخبری سنائی کہ بھئی ہماری نثر پاروں کی پہلی کتاب شائع ہو چکی ہے جس میں 144 مائکروف اور 5 افسانے ہیں، صفحات 272 اور قیمت ایک ہزار ہے۔ پہلی پہلی کتاب مجھے تحفہ کی اور بتایا کہ یہ کتاب تمھارے اعصاب پر طاری نہ ہو جائے تو اسے پھاڑ دینا۔ میں ذرا سا ٹھٹکا کہ ایک بھلا شاعر اپنی نثر کی عمدگی کی بابت اتنا پراعتماد کیوں کر ہے؟ کیونکہ جو شاعر اعلیٰ پائے کی شاعری لکھتا ہو، اس سے اتنے ہی معیار کی نثر کی توقع کرنا محال ہوتا ہے۔

خیر اسی شام پہلی نشست میں دس بیس مائکروف پڑھ ڈالے۔ اب یہ مائکروف کیا ہیں؟ سچ پوچھو تو یہ مائکروف اِس دور میں قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہوئے کہانی کی بقا کے ضامن ہیں۔ ایک یا دو صفحات میں اختصار کے ساتھ دس بیس صفحات کے کینوس پہ پھیلے موضوعات کو سمیٹ کر ایسے کہانی باندھی جاتی ہے کہ قاری کے تجسس اور فکر کو بالیدگی عطا ہوتی ہے اور دلچسپی بھی غارت نہیں ہوتی۔ افسانے کا مختصر ترین روپ مائکروف سمجھ لیجیے۔ خیر معاملات زندگی نے دغا دیا اور میرے اسفار نے اس کتاب کے ساتھ رومانس کو قطع کر دیا۔ ڈیڑھ ماہ گزر گیا، شہزاد نئیر کو لگا کہ یہ نوجوان کتاب کی بے حرمتی کا سزاوار ٹھہر چکا، اسے مطالعے میں دلچسپی ہے ہی نہیں اور کتابوں سے اس کا دور پار کا ناتا بھی نہیں، چونکہ انھیں یقین تھا کہ اچھا ہو یا برا میں اس پر تبصرہ ضرور کروں گا۔ ادھر میری یہ اِچھا تھی کہ جب تک کتاب کا مکمل مطالعہ نہ کر لوں، اس پر ایک شبد بھی نہ بولوں گا۔ آج وہ لمحہ بڑی ریاضت سے ہاتھ آیا کہ میں کتاب کا مکمل مطالعہ کر کے حیران و پریشان بیٹھا ہوں کہ اب اس پر میں کیا کہوں اور کیا لکھوں؟

”کہانی چل رہی ہے“ ، ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، پاکستانی معاشرت کا، جس میں جا بجا نوحے ہیں، ملامتیں ہیں، سینہ کوبی ہے، آہ وزاریاں ہیں، افسانے ہی افسانے ہیں۔ شہزاد نئیر نے جس خوبی سے ہماری رہتل بہتل کی منافقتوں کو چاک کیا ہے، شاید ہی کسی اور ادیب نے ایسا کیا ہو۔ اس چھوٹی سی کتاب میں کئی جہان آباد کر دیے ہیں۔ اس کی تہ در تہ کئی پَرتیں ہیں، آپ ان کہانیوں کا جتنی بار مطالعہ کریں گے، اتنے ہی مطالب عیاں ہوتے چلے جائیں گے۔ بظاہر یوں لگتا ہے کہ ایک صفحے کی کہانی لکھنا تو بہت آسان ہے، جیسے ہم فیس بُک پر پوسٹس لکھتے ہیں مگر جب آپ روانی میں ان کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ عقدہ وا ہوتا ہے کہ ایک ایک جملہ اور مکالمہ تراشنے میں کتنی شیشہ گری سے کام لیا گیا ہے۔ کہیں سینتالیس کی ہجرت پہ سینہ پیٹ کر ماتم کیا ہے تو کہیں ڈَنکی لگا کر لقمہ اجل بن جانے والوں کی ماؤں کے کلیجے مَسلتے ہوئے دکھائے ہیں۔ کہیں کسی دوشیزہ کی محبت کی آگ میں تڑپتی ہوئی تصویر مجسم کر دی ہے تو کہیں عیار مردوں کی بے وفائیوں کے قصے سنائے ہیں۔ کہیں معصوم بچے کی پُشت کو لال کرتا ہیبت ناک مولوی قہر ڈھاتا نظر آتا ہے تو کہیں میڈیا کی فحاشی و عریانی سے بھرپور سانحات کی کوریج کا فسانہ ہے۔ کہیں اداروں کی بدمعاشی پہ سرعام واویلا دکھائی دیتا ہے تو کہیں منافقت سے لتھڑا ہوا ہمارا معاشرہ جو ہمیشہ دو رنگوں میں اپنا وجود تلاش کرتا رہتا ہے۔ کہیں پہ بانجھ زندگی کا رونا ہے تو کہیں کوکھ کی بیداری جیسے چیتھڑے ادھیڑ دینے والا اندوہناک افسانہ۔ الغرض ایک ایک کہانی میں انسانی رویوں اور جذبات کی شاندار عکاسی ہے۔

آپ شہزاد نئیر کے ہاں موضوعات کا تنوع دیکھیے کہ ایک کہانی بچوں کے جنسی استحصال پر ہے تو دوسری مولویوں کی فرقہ ورانہ لڑائیوں پر، ایک عورت کی نفسانی خواہشات پر ہے تو دوسری انسانی نفسیات پر، ایک لاپتہ افراد کا نوحہ پڑھتی ہے تو دوسری غربت کا، ایک ساس بہو کے آپسی معاملات پر گرہ لگاتی ہے تو دوسری ڈیجیٹل میڈیا کی بے ثباتی پر، ایک زندگی کی بے باکی کا افسانہ ہے تو دوسری حالات کی بے رحمی کا۔ ان کا ایک جملہ دیکھیے کہ ”ہم چاروں بہنیں دھریکوں کی طرح بڑھ رہی تھیں“ ۔ اس ایک جملے میں ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی اذیت کو بیان کر ڈالا۔ دوستوں سے شراکت داری، طبقاتی نظام، اظہارِ رائے پر لگائی گئی قدغنوں، فرسودہ روایات اور ذات برادری کے مسائل پر اتنی سہولت سے کاٹ دار طنز کیے کہ بندہ داد دیے بنا رہ نہیں سکتا۔ اقلیتوں کے تحفظات اور گھٹن، قحط سالی اور غذائیت کی کمی جیسے متنوع موضوعات پر دلیری سے لکھا۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے کی 144 برائیوں اور خباثتوں پر خنجر سے وار دَر وار کیے گئے ہوں۔ عہد نامہ موجود، حرام موت، کارِ ثواب، کرم کسی کا شکر اُسی کا، جسم کی حفاظت، شریف زادی، جان کی امان، تعویذ، ممی، ریاست اور بم، زبانی کلامی اور ریڈیو کشمیر کرگیل جیسی کہانیوں نے تو چونکا کر رکھ دیا۔ ان کہانیوں میں تو ایسے موضوعات کو عنوان بنایا کہ میں تبصرہ کرتے بھی بجائے خلاصہ کرنے کے صرف ان کہانیوں کے عنوانات کا ذکر کر رہا ہوں۔ یہ ایسے کرداروں پر مبنی ہیں کہ جن کا کسی دوسرے ادیب سے تذکرے کی توقع تو درکنار عام محفلوں میں اظہار بھی نہ ہو پائے گا۔ ایک مختصر کہانی تو کرونا وبا کے دِنوں کا بھی نقشہ کھینچ کر رکھ دیتی ہے۔ المختصر کہ شہزاد نئیر اپنی معاشرت میں نظر آنے والے ایک چھوٹے سے چھوٹے منظر نامے میں سے بھی کہانی کشید کر لیتے ہیں۔

ان مختصر ترین کہانیوں میں شہزاد نئیر نے منظر نگاری، استعاروں، لطف و طنز سے بھرپور جملوں اور شاندار تراکیب کے استعمال سے ایسا حسن برپا کیا ہے کہ جو قاری کو کسی آن بھی اپنی توجہ کسی اور جانب مبذول نہیں کرنے دیتا۔ ایک کہانی فقط ایک کہانی ہے، آپ ایک کہانی پڑھ کر کتاب چھوڑ بھی سکتے ہیں مگر یہ کہانیاں اپنے حصار میں ایسے کھینچ لیتی ہیں کہ جب ہوش آتا ہے تو علم ہوتا ہے کہ ڈیڑھ سو صفحات تو ایک ہی بیٹھک میں پڑھے جا چکے ہیں۔ سلیس زبان میں لکھے گئے یہ مائکروف یقیناً اس دور کی تاریخ کا نقش ہیں۔ ہمارے عوام میں عدم برداشت اور خود ساختہ سوچوں کا عکاس شعور ہمارے باہمی بقا کے لیے کس قدر مہلک ہوتا جا رہا ہے، ان کہانیوں میں جا بجا دیکھا جا سکتا ہے۔

مائکروف کے علاوہ پانچ افسانے بھی شامل کیے گئے جو بہت زیادہ طویل نہیں ہیں، مگر ان افسانوں کی فضا مائکروف سے یکسر مختلف ہے۔ اپنا خون، روحوں کا ملن، دو پاٹن کے بیچ، دو دنیاؤں کا فرق اور دھند میں دنیا کے نام سے شامل کیے گئے یہ افسانے ہماری معاشرت، سوچ، رشتوں ناتوں، رومانس اور محبت، ذات پات، اونچ نیچ، سادگی، دوستی، چودھراہٹ کی حرم زدگیوں، بچوں پر تشدد اور خوجہ سراؤں کے ارمانوں اور نفسیات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان افسانوں میں منظر اور جذبات ایسے بدلتے ہیں جیسے گزرے دنوں کے موسم۔ چھوٹے چھوٹے کاٹ دار جملوں سے شہزاد نئیر قاری کے دل و دماغ کو تروتازہ رکھتے ہیں اور ہوشیار باش بھی۔ زبان و بیان کا لطف بھی دیتے ہیں اور کتھارسس کا موقع بھی۔ روحوں کا ملن سے ایک خوبصورت جملہ دیکھیے کہ ”دونوں نے یہ فیصلہ ہواؤں پہ لکھ کر خوشبؤوں سے باندھ دیا۔“

ایسے ہی پُرتاثیر اور پرلطف جملوں اور نوحہ کناں کہانیوں اور افسانوں سے بھرپور شہزاد نئیر کا یہ پہلا نثری مجموعہ ”کہانی چل رہی ہے“ آپ کا منتظر ہے، جہاں کئی جہان آباد ہیں، کئی دَر کھلتے ہیں۔ یہ ایسی کتاب ہے جو کسی بھی لمحے آپ کو بوریت کا احساس نہیں ہونے دے گی بلکہ آپ کو یوں لگے گا جیسے آپ اپنے معاشرے کا حقیقی عکس دیکھ رہے ہوں۔ یہ کہانیاں آپ کے حواسِ خمسہ پر طاری نہ ہو جائیں تو میرا گریبان حاضر ہے۔

Facebook Comments HS