معاشرے اور زندگی میں رنگ بکھیرنے میں ادب و آرٹ کا کردار


سائنس اور ٹیکنالوجی سے جڑے ہوئے طالب علم اکثر اوقات ادب و آرٹ کو معاشرے کا بلا ضرورت موضوع اور مضمون سمجھتے ہیں۔ ایسے دوست عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادب کے بارے میں اپنی فرسودہ رائے قائم کرتے ہیں کہ ادب و افکار اور فلسفے کا معاشرے میں اب کوئی کردار نہیں رہا۔ ادب کے ادنیٰ سے شاگرد کی حیثیت میں میرا ادب و آرٹ کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے۔ ایسا اس لئے نہیں کہ ادب و آرٹ سے میری وابستگی ہے۔ پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ معاشرے میں نفاست سے بھرپور ادب و آرٹ کے ساتھ بددیانتی اور زیادتی جیسا ناروا سلوک کیا جاتا رہا ہے۔ ہمارے معاشرے اور زندگی میں رنگ بکھیرنے والے اس شعبہ کو قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ کیوں کہ سرمایہ داری نظام اور کمرشل دنیا کے سفاک حکمرانوں کی بنیادی حکمت عملی میں سوشل سائنس کے تمام مضامین خصوصاً ادب و آرٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا شامل ہے۔ انہوں نے ایک جامع پروپیگنڈا مارکیٹ میں عام کیا ہے کہ سوشل سائنس اور ادب و آرٹ کے طالب علم معاشرے کہ ناقص طلبا ہیں۔ اس طرح کی تہمتوں کہ تیر ادب کہ طلبا پر برستے رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کہ حکمران اچھی طرح جانتے ہیں کہ سوشل سائنس کے شعبے خصوصی طور پر ادب و آرٹ کے طلبا ہی استحصالی قوتوں کی بنائی گئی انسان دشمن روایات اور اقدار کو چیلنج کرتے ہیں۔ وہی طلبا ہی ہیں جو ان کہ خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند کرتے ہیں اور لوگوں کو غلامی کی زندگی سے آزادی دلانے میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ضرورت تو اس بات کی ہے کہ ہمارے ترقی پذیر معاشرے میں ادب اور فلسفے کے شعبہ جات کو ترجیحی بنیادوں پر ان علوم کی صف اول میں لا کھڑا کریں۔ لیکن بدقسمتی سے ادب کو یتیم بچے کی مانند نظر انداز کیا گیا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خصوصی طور پر ادب کو نچلے درجے کا مضمون ثابت کرنے کہ لئے اس کا مقابلہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ساتھ کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو بے حد غلط اور ناقص العقل عمل ہے۔

کسی بھی زبان کا ادب معاشرے، زندگی، فطرت، آس پاس کے ماحول محسوسات، احساسات، معاشرتی مسائل اور زندگی کی تشریحات کرنا ادب کہ ضمن میں آتے ہیں۔ اسی طرح سائنس کا بنیادی مقصد اس کائنات اور مادی اشیا کے بارے میں شعور، مشاہدات اور تجربات کی بنا پر معلومات اکٹھی کی جاتی ہیں۔ اسی طرح ادب کا تعلق انسان کہ افکار اور احساسات کہ ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان دونوں مضامین کا آپس میں موازنہ کرنا ہی کم عقلی ہے۔ کسی بھی معاشرے کا سماجی توازن ان دونوں شعبوں سائنس اور ادب کے سوا برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سائنس اور آرٹ دونوں کی اہمیت یکساں ہی ہے۔

پاکستان جیسے معاشرے میں ہم زندگی جینے کہ بجائے بس ہوں ہی پھیکی اور روکھی سی بسر کر رہے ہیں۔ ہمارے معاشرے کے مجموعی رویے بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ کیوں کہ ہمارا معاشرہ اپنے روایات میں ابنارمل معاشرے کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ معاشرہ ایک ایسے اندھے گھوڑے پر سوار ہے۔ جہاں جہالت و گمراہی کی کالی گھٹائیں منڈلا تی نظر آتی ہیں۔ ہماری مثبت معاشرتی اقدار، روایات، احساسات، جذبات، و ینٹیلیٹر پر آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ معاشرے کو مختلف وباؤں نے اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ طمع و حسد، لالچ و حرص، بے ضمیری اور نفرت کے وائرسز نے گھیر رکھا ہے۔ ہمارے جیسے گھٹن زدہ معاشروں میں تو ادب آکسیجن کا کام کرتا ہے۔ ادب ہی انسان کو جہالت کی اندھیری رات سے نکالنے کہ لئے راہوں کو متعین کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ ادب نے ہی انسانوں کہ لئے جینے کہ سلیقے مقرر کیے۔ اسی لئے ادب اور معاشرے کا آپس میں باہمی تعلق ہے۔ جن معاشروں نے ادب اور آرٹ کو رد کیا انہوں نے خود ہی تباہی کہ دروازے پر دستک دی ہے۔

کسی بھی معاشرے کو پروان چڑھانے کہ لئے وہاں ہر ایک شعبے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جیسے انجنئیر کی ذمہ داری تعمیراتی نظام کو سنبھالنا ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر کا کام بیمار کو صحتمند کرنا ہے۔ ایک قانون دان کا بنیادی کام انصاف کی فراہمی ہے۔ جیسے کہ شماریات کہ طالب علم ملک کی معیشت کو سنبھالنے میں اہم کردار اداکرتے ہے۔ اسی طرح ادب و آرٹ معاشرے کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ایک ادیب دانشور سماج کا ڈاکٹر بھی ہے۔ اور ادیب انسانی زندگی اور روح کا انجنیئر بھی ہے۔ کیوں کہ ادیب اور دانشوروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے معاشرے کا سائنسی تجزیہ کرنے کہ ساتھ معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کریں اور ان برائیوں سے ہمیں آزاد ہونے میں مدد مل سکے۔ اس لئے میں ایک ادیب کو زندگی کا سرجن کہتا ہوں۔ کیوں کہ ترقی یافتہ ممالک میں سوشل سائنس سے وابستہ مضامین کے استادوں اور طالب علموں کو سوشل سائنٹسٹ کا لقب دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS