روہتاس کی سرمئی دوپہر


تاریخ کے دریچوں سے گزرنا بڑا دلفریب، پرکیف اور کٹھن ہوا کرتا ہے۔ محض در و دیوار کو دیکھ لینے سے بھی صدیوں کی بنتی بگڑتی کہانیاں خود پر گزرنے لگتی ہیں۔ مجلسِ اقبال ایسے ہی دریچوں سے بچوں کو آشنا کروانے 26 اکتوبر کو قلعہ روہتاس لے گئی۔ گاتے، مسکراتے لاہور سے جہلم کی طرف روانہ ہوئے مگر حقیقت میں یہ سفر اکیسویں صدی سے سولہویں صدی کی طرف تھا۔ صدیوں کی داستان کو نئے سرے سے یوں لکھا گا کہ کردار بدل گئے۔

ہوا یہ کہ مجلسِ اقبال نے قلعہ رہتاس کی سیر کروانے کا پروگرام بنایا تو ادھر ہم نے تیاری پکڑی۔ کلاس فیلوز کو اکسایا کہ سامان باندھیں۔ ہاسٹل میں رہنے والوں کے پاس سامان تو بس محاورتاً ہی ہوا کرتا ہے۔ یعنی وائلٹ، موبائل، ائر پوڈز اٹھائے اور نکل کھڑے ہوئے۔ گورنمنٹ کالج یونی ورسٹی لاہور سے بسیں روانہ ہوئیں تو ناشتہ تقسیم کیا جانے لگا۔ سوائے جوس اور شامی کباب کے ناشتہ بہت ہی لاجواب تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جوس کو اوون میں رکھا گیا ہو اور شامی کباب غلطی سے فریج میں رکھ دیے گئے ہوں۔ مگر اس کا بیان ہی کیا، ہمارا مقصد تو سیر تھا، ایسی صورتحال میں کھانے تو ضمنی معاملات میں آتے ہیں۔ جس بس میں ہماری ایم فل کی کلاس سوار تھی، اس میں سوائے میرے، سب شریف النفس لوگ تھے۔ شاید آپ میری بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہیں کہ ’آپ تو شریف ہوتے ہیں‘ تو پھر خود کو شرافت سے ماوراء کیوں رکھا۔ بھئی بات یہ ہے کہ میری کلاس یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ شرافت کی اصل تعریف کیا ہے۔ یوں ان کی نظر میں ہم شریف قرار نہیں پاتے۔ بہرحال بس روانہ ہوئی، گانا بجانا ہونے لگا اور ہلکا ہلکا رقص ٹپکنے لگا۔ شیلا کیسے جوان ہوئی، اور منی کیوں کر بدنام ہوئی کی حقیقی تصویر، بس میں پیش کی گئی۔ ایک صاحب کا کہنا ہے کہ ہم تحقیقی مقالے کی تیاری کر رہے ہیں اس لیے ہر مفروضے کو پر یکٹیکلی پرکھنا ضروری ہے۔ اردو والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ باتیں ہی باتیں کرتے ہیں، کام کرنے سے انہیں کیا سروکار۔ کاش آپ لوگ بھی ہمارے ہم سفر ہوتے تو آپ کو معلوم ہو جاتا کہ کیسے ایک ادبی دوست نے سرخی کو ہونٹوں پر لگا، آنچل کو لہرا کر اور دوپٹے کو سر سے سرکا کر، یہ ثابت کر دیا کہ ادب والے محض باتیں ہی نہیں کیا کرتے۔ المختصر ادبی لوگ، رقص کے ساتھ بے ادبی کرتے ہوئے محو سفر ہوئے۔

تو دوستو! ہوا یہ کہ ہم قلعہ روہتاس پہنچے۔ قلعہ روہتاس کیا ہے؟ بس یوں سمجھیے کہ چند ٹوٹی پھوٹی عمارتوں کا مجموعہ ہے جن کو عرفِ عام میں کھنڈر کہا جاتا ہے۔ وہاں صرف الوؤں کی کمی تھی جو ہم لوگوں نے پوری کر دی۔ ایک ٹور گائیڈ کو ساتھ لیے ہم تحقیق کرنے لگے کہ قلعہ روہتاس یہاں ہی کیوں بنایا گیا، شیر شاہ سوری نے ہی اسے کیوں بنوایا۔ پھر اچانک جدید محافظوں کا خیال آیا تو ہم نے اس عمل پر غور و فکر کرنا بے کار جانا اور دستر خوان کی طرف پلٹے۔

ہم تو دستر خوان کی طرف جا رہے ہیں مگر آپ ٹھہریے اور یہ منظر دیکھیے ؛ قلعہ روہتاس کی جنوبی دیوار کے اوپر کھڑے ہو کر باہر جھانکیں تو غیر ہموار سطح پر دور تک گہرے سبز درخت پھیلے نظر آتے ہیں۔ ان اونچی نیچی جگہوں سے ایسی خوبصورت آوازیں سنائیں دے رہی تھیں جو لاہور میں سنی جانا ممکن ہی نہیں۔ ان آوازوں کے سحر میں ایسا گرفتار ہوا کہ آدھ پون گھنٹہ وہیں کھڑا ان آوازوں کو سنتا رہا۔ آپ بھی چشم تصور سے یہ منظر تخلیق کیجیے، مدھر، سریلی اور روح پر اثر کرتی بولیوں سے لطف کشید کیجئے، ہم دسترخوان کی طرف جاتے ہیں۔
مجلسِ اقبال نے دستر خوان پر ہر وہ چیز چن دی تھی جس کا گاؤں کی شادی کے کھانے میں پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ ہم جیسے مجرد لوگوں کے شادی کے جذبات جاگ اٹھے اور بھوک مر گئی۔

ہم کھانا کھاتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ موسیقی سے لطف اندوز ہوتے جاتے تھے۔ دو گھنٹے مسلسل محوِ کام و دہن رہنے کے بعد ، ایصالِ ثواب شیر شاہ سوری کے نام کیا اور واپسی کے لیے گاڑیوں میں جا گھسے۔ ہماری اگلی منزل کنارہ ہوٹل، جو دریائے چناب کے پہلو میں کھڑا ہے، قرار پائی۔ عجب مخمصہ تھا کہ ہم اگلی منزل کی جانب عازمِ سفر تھے مگر حقیقتاً پیچھے کی طرف چل رہے تھے۔ کنارہ ہوٹل میں چائے اور سنگیت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہاں یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ اگر آپ نے، کسی کے باذوق ہونے کا ثبوت تلاشنا ہو تو یہ معلوم کرو کہ کیا وہ چائے پیتا ہے۔ اگر جواب ہاں میں ہو تو عین ممکن ہے کہ وہ باذوق ہو۔ کنارہ کے کنارے کھڑی کشتیوں سے ہم نے کنارہ کرنا چاہا مگر کر نہ پائے اور ان میں سوار ہوتے ہوئے، لگے اپنی بہادری کی جانچ کرنے۔ جب کشتیوں سے اترے تو ہم نے جانا کہ ہم بے ادب ہی نہیں، بزدل بھی واقع ہوئے ہیں۔

آخر واپسی کا وقت آن پہنچا، گاڑیوں میں پھر سے بھرتی ہوئے اور چلے ہنس کی چال۔ اب یہ نہ پوچھیے گا کہ ہنس کی چال تو کوا بھی چلا تھا، آپ کے مزاج کیسے ہیں؟ گاڑی میں برگر کھاتے، رقص کرتے اور گاتے ہوئے پہنچی وہیں پے خاک جہاں کا خمیر تھا۔ دس بجے سے ذرا ادھر کا وقت ہوا چاہتا تھا کہ ہم جی سی یونیورسٹی پہنچے۔ ایک یادگار دن کی یادگار بنتے بنتے رہ گئی اور ہم نے شکر کیا کہ ہم سے کوئی ایسا کارنامہ سر انجام نہیں ہو گیا جس سے معلوم ہوتا کہ ہم بے ادب ہیں یا با ادب۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais