حج پر بھاری اخراجات اور امت مسلمہ کی فلاح کے امکانات


 

 

حج، اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے، جو ہر صاحب استطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔ اس مقدس عبادت کے ذریعے امت مسلمہ کی عبادت و اخلاص کا اظہار ہوتا ہے، لیکن حالیہ برسوں میں اس عبادت کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی حکومت کے تحت 2024 میں حج پر تقریباً گیارہ لاکھ روپے فی حاجی لاگت آئی ہے، جو کہ ایک عام پاکستانی شہری کے لیے غیر معمولی مالی بوجھ ہے

اگر سعودی اور پاکستانی حکومتیں اپنے چارجز اور ٹیکسز معاف کر دیں، تو حج کی لاگت میں خاطر خواہ کمی ہو سکتی ہے۔ ایک حاجی کے لیے بنیادی اخراجات میں ائر ٹکٹ اور رہائش شامل ہیں۔ سعودی عرب جانے کے لیے ائر ٹکٹ کی قیمت تقریباً 2 سے 2.5 لاکھ روپے ہوتی ہے، جبکہ مکہ اور مدینہ میں بنیادی رہائش کے اخراجات تقریباً 2 سے 3 لاکھ روپے تک ہو سکتے ہیں، جو کہ حاجی کے مقام اور ہوٹل کے معیار پر منحصر ہیں۔ یوں، اگر حکومتی چارجز اور ٹیکسز نہ ہوں تو حج تقریباً 4 سے 6 لاکھ روپے میں ممکن ہو سکتا ہے۔

اگر سعودی حکومت حج پر ٹیکس معاف کر دے تو بھی سعودی عرب کو حج اور عمرہ سے وابستہ دیگر کاروباروں سے کافی آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ اندازہ ہے کہ سعودی حکومت کو رہائش اور ہوٹلنگ سے 4 سے 5 بلین امریکی ڈالر سالانہ آمدنی ہو سکتی ہے، جو کہ حاجیوں کی رہائش کی ضروریات پوری کرتی ہے۔
اندازہً حج اور عمرہ کے دوران ٹرانسپورٹیشن سروسز سے سعودی عرب کو 2 بلین ڈالر سالانہ آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ فوڈ انڈسٹری سے تقریباً 1 بلین ڈالر سالانہ آمدنی متوقع ہے۔ زائرین حج اور عمرہ کے دوران مختلف یادگار اشیاء اور دیگر سامان خریدتے ہیں جیسے کہ تسبیح، آب زمزم، اسلامی کتابیں، اور دیگر تحائف۔ یہ کاروبار بھی سعودی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے تقریباً 1 بلین ڈالر تک کی آمدنی ہو سکتی ہے۔ سعودی حکومت نے کئی اور خدمات بھی فراہم کی ہیں، جیسے کہ موبائل سم کارڈز، انٹرنیٹ سروسز، اور میڈیکل سہولیات، جو کہ آمدنی کا حصہ بنتی ہیں۔ اگر حج پر ٹیکس معاف کر بھی دیا جائے تو سعودی حکومت کو ان کاروباروں سے اندازہً 8 سے 10 بلین امریکی ڈالر سالانہ آمدنی ہو سکتی ہے۔

فضائی سفر کی لاگت: حج کے موسم میں ایک حاجی کے لیے فضائی ٹکٹ کا خرچہ تقریباً 1,000 سے 1,500 امریکی ڈالر (تقریباً 300,000 سے 450,000 پاکستانی روپے ) ہوتا ہے۔ اگر فیری سروس شروع کی جائے تو یہ تخمینہ ہے کہ بحری سفر کے اخراجات 500 سے 700 امریکی ڈالر (تقریباً 150,000 سے 210,000 پاکستانی روپے ) تک ہوسکتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملکوں کے زائرین کے لیے حج کے اخراجات میں مسلسل اضافے کی وجوہات میں سعودی اور پاکستانی حکومت کی جانب سے مختلف فیسیں شامل ہیں، جن میں ائر ٹکٹ، رہائش، اور خصوصی خدمات کے چارجز بھی شامل ہیں۔ حج کے اخراجات میں یہ اضافی چارجز ایک طرف تو سعودی حکومت کے بجٹ کا بڑا حصہ بناتے ہیں، دوسری طرف یہ غریب اور متوسط طبقے کے حاجیوں پر مالی بوجھ بن گئے ہیں۔ حج اور عمرہ جیسے فریضوں کے لیے حکومتی اخراجات کی وجہ سے مسلمانوں کو عبادت کو ادا کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

دنیا کے مختلف مذاہب میں عبادات پر اس قسم کے اخراجات نہیں ہیں یا انہیں کم سے کم رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں مسیحیوں کے چرچ ٹیکس کا نظام ضرور ہے، مگر یہ ٹیکس اختیاری طور پر ان لوگوں پر ہے جو چرچ کے فعال رکن ہیں۔ جاپان میں بدھ مت اور شنتو کے پیروکار خصوصی رسوم پر چندہ دیتے ہیں، مگر عبادت کا بنیادی حق سب کے لیے آسان رکھا گیا ہے۔ بھارت کے بعض ہندو مندروں میں درشن فیس لی جاتی ہے، مگر یہ عمومی طور پر لازمی نہیں ہے

حج اور عمرہ سے حاصل ہونے والی یہ خطیر رقم سعودی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہے، لیکن اس کا استعمال شاہی عیش و عشرت اور لگژری منصوبوں میں ہوتا ہے جس پر مختلف مسلمان ممالک اور علمائے کرام نے اعتراض کیا ہے۔ اسلام کا پیغام اخوت، مساوات، اور فلاح کا ہے، اور اس کمائی کو امت مسلمہ کے معاشی و معاشرتی مسائل حل کرنے میں لگانا ایک مثالی اقدام ہو سکتا ہے۔ اس رقم سے اسلامی ممالک میں غربت کے خاتمے، تعلیمی اداروں کے قیام، صحت کی سہولیات میں بہتری، اور اسلامی ممالک کی معاشی مدد ممکن ہے۔

سعودی حکومت کو چاہیے کہ حج اور عمرہ سے حاصل شدہ آمدنی کو عوامی فلاح و بہبود جیسے تعلیم، صحت اور اسلامی ممالک کے طلباء اور طالبات کو مفت ٹیکنالوجی سکھانے پر خرچ کرے۔ یہ اقدام نہ صرف اسلامی اخوت کو فروغ دے گا بلکہ سعودی عرب کی ساکھ کو بھی بہتر بنائے گا۔ اگر سعودی حکومت اخراجات کو کم کرتے ہوئے حاجیوں کے لیے سہولیات فراہم کرے اور حج کو زیادہ قابل رسائی بنائے تو اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں خوشی و اطمینان کی لہر دوڑ جائے گی۔

حج کی عبادت کے ذریعے امت مسلمہ کا اتحاد اور اس کی روحانی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک کے دانشور اور قائدین مل کر اس مقدس فریضے کو آسان بنانے کی کوشش کریں اور مسلمانوں کے لیے مالی رکاوٹیں ختم کریں۔ مسلمانوں کا یہ مطالبہ جائز ہے کہ حج سے حاصل ہونے والی رقم کو امت مسلمہ کی فلاح کے لیے خرچ کیا جائے، اور اس مقدس عبادت کی روح کو تجارتی رنگ دینے کے بجائے اسے اسلام کے اصل پیغام کے مطابق امت کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔

Facebook Comments HS