مریضانِ ڈپریشن اور معالج

کچھ دن پہلے ایک میم نظر سے گزری کہ کمپیٹیشن اتنا بڑھ گیا ہے کہ کسی کو اپنا دکھ سناؤ تو اگلا ڈبل سنانے بیٹھ جاتا ہے۔ سچ ہے آپ غلطی سے کسی کے سامنے اپنا دکھ درد شیئر کر دیں تو وہ اپنی دکھ بھری ایسی داستان چھیڑے گا کہ آپ اپنے درد کا سُر چھیڑنے پر دل میں خود سے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آخر کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر دوست احباب کہتے ہیں اپنا نہیں سمجھا۔ ایک دوسرے سے بات شیئر کرنے سے دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہاں تو سچ ہے اپنا دکھ درد شیئر کرتے دل ہلکا ہونے کے بجائے بھاری ہو جاتا ہے۔
ویسے تو ہمارے سماج میں ذہنی بیماریوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن جہاں مفت مشورے بانٹنے ہوں اور اپنی ہومیوپیتھک ڈاکٹری دکھانی ہو تو سب میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اگر کوئی ذہنی امراض کو اہمیتِ نہ دے تو بھی زیادتی ہے اور جو سیریس لے تو اس کے آس پاس والے اتنا سیریس ہو جاتے ہیں کہ علاج کرنے پر ہی اتر آتے ہیں۔ اصل میں ہم خود ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہیں۔ اس لیے ایسے قیمتی مشوروں سے نوازے جاتے ہیں کہ ہمارا ڈپریشن بھی جھوم کر دم دبا کر بھاگ جاتا ہے۔
ایک دوست نے کہا۔ کسی اللہ والے سے توبہ وغیرہ کرواؤ۔ دم درود ہو گا تو افاقہ ہو گا۔ کہیں نظر نہ لگ گئی ہو گئی۔ اللہ ہمیں کس کی نظر لگے گی اور کس بات کی نظر؟ تم نہیں سمجھو گی ہر بات کو مذاق نہیں سمجھتے۔ جی ٹھیک ہے لیکن یہ اللہ والا کہاں ملے گا؟ کوئی اتا پتا بتا دو پھر ہم رابطہ کر لیں گے۔ وہ سٹپٹا کے بولی ارے میں کون سا تعویذ گنڈے کرواتی ہوں۔ اِدھر اُدھر سے پوچھ لو کوئی نہ کوئی مل جائے گا۔ عجیب لوگ ہیں جب بتانا نہیں تو پھر مشورے کیوں دیتے ہیں۔ ہم نے یہ بات کافی نوٹ کی کہ لوگ اللہ والوں سے رابطے کے مشورے تو بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں لیکن جب اتا پتا پوچھا جائے تو ہری جھنڈی دکھا دیتے ہیں کہ بھئی ہم کون سا ان چکروں میں پڑے ہیں۔ یہ تعویذ گنڈے سے خدا بچائے۔ اچھی چیز تھوڑی ہیں ہاں کسی اللہ والے سے دم درود کروانے میں کوئی حرج نہیں۔ آس پڑوس سے پوچھو کہیں سے کسی کا پتا چل ہی جائے گا۔ (لیکن ہم اپنے اللہ والے کا نہیں بتانے والے) ۔
خیر کسی اللہ والے سے ہمارا رابطہ ممکن نہ ہو سکا لیکن ماہرینِ نفسیات کے ساتھ وقتاً فوقتاً مغز ماری ضرور کی۔ ایک بار ہمیں شدید ڈپریشن کے دورے پڑے۔ ہمیں نجانے کیا سوجھی کہ فب پر ایک خاتون سائیکالوجسٹ سے رابطہ کر لیا۔ پہلے تو انہوں نے بتایا کہ پہلا سیشن فری ہو گا۔ ہم بہت خوش ہوئے چلو ایک ہی سیشن میں سارے مسئلے بتا کر مفت میں علاج کروا لیں گے۔ لیکن ہماری خوشی اگلے ہی لمحے غارت ہو گئی جب انہوں نے کہا کہ دوسرے سیشن کی ایڈوانس فیس پہلے جمع کروانی ہو گی۔ خیر ہم نے پندرہ سو روپے اپنی ذہنی صحت کا صدقہ سمجھ کر فیس دے دی۔ وہ پندرہ سو ڈوبنے کا غم اب بھی کبھی کبھار ہرا ہو کر پشیمان کرتا ہے۔ ہوا کچھ یوں ڈاکٹر صاحبہ نے پہلے تو انتہائی غور و فکر سے ہمارا سارا مسئلہ سنا۔ ہماری رام لیلا ختم ہوئی تو فرمایا آپ کا مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں دو تین سیشن لیں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی۔ آپ نے ہر ہفتے باقاعدگی سے اپنا ٹائم لینا ہے۔ اور پھر ہم آپ کو گائیڈ کرتے رہیں گی۔ آج کے لیے اتنا کافی ہے اب دوسرے سیشن میں بتائیے گا کہ آپ نے اس سیشن کے بعد کیسا محسوس کیا۔ ڈاکٹر صاحبہ یہ جا وہ جا اور ہم مجسمہ حیرت بنے ڈاکٹر صاحبہ کو ویڈیو کال سے غائب ہوتا دیکھتے رہ گئے۔ اب بھلا ہم کیا بتائیں گے کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ نے نہ تو کوئی مسئلے کا حل بتایا نہ کوئی دوائی دی۔ مطلب ایسے کیسے۔
خیر دوسرے سیشن کا ٹائم آ گیا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مع اہل و عیال سب کا حال احوال دریافت کیا۔ گھر والوں کی کچھ معلومات لیں۔ اور دوبارہ سے ہمیں اپنا مسئلہ بتانے کو کہا۔ ہم انتظار کرتے رہ گئے کب ڈاکٹر صاحبہ ہمیں پوچھیں گی کیسا محسوس کر رہی ہیں تو ہم جواب دیں۔ لیکن ان کو ہماری نماز کی فکر ستانے لگی۔ اس کے بعد نماز کے متعلق پوچھنے لگیں۔ باقاعدگی سے پڑھتی ہیں؟ نہیں پڑھتی تو پڑھا کریں۔ آپ بہتر محسوس کریں گی۔ واک کے ساتھ کوئی ذکر جو آپ کو پسند ہو وہ پڑھ لیا کریں۔ ہمیں لگا جس اللہ والے کی تلاش تھی وہ ڈاکٹر صاحبہ کی صورت میں مل گیا۔ ہمارا مسئلہ وہیں کا وہیں دھرا رہ گیا۔ اس کے بعد ہم نے دو تین جگہ سیشن لیے۔ وہاں بھی بالکل یہی باتیں دہرائی گئیں۔ بلکہ ایک نیورو سرجن تھے وہ بھی نسخہ لکھنے کے بعد ایسے ہی مشورے دیتے جیسے ہم نماز نہیں پڑھتے اور خدا کو یاد نہیں کرتے۔ اگر ذہنی امراض کا حل عبادت سے ہو سکتا تو ہم آپ سے علاج کروانے کیوں آتے اور لوگ ڈپریشن کے علاج کے لیے دربدر کی ٹھوکریں نہ کھاتے۔
پتا نہیں معالج بھی اتنے تبلیغی کیوں ہو گئے ہیں۔ بھلا نفسیات کے مضمون میں کہاں کہیں لکھا ہے کہ دم درود کرواؤ، اللہ توبہ کرو۔ ہم نے بھی چار سال نفسیات پڑھ رکھی ہے۔ ایسا کسی کتاب میں نہیں پڑھا۔ لیکن ہمیں کیا معلوم اندر کی کہانی۔ ہم کون سا سائیکولوجسٹ ہیں۔

