ڈرامہ نگار اور نقاد ظہیر انور کا ادبی تحفہ


آج ایک تحفہ موصول ہوا۔ ایک ادبی تحفہ جس کا نام ”بنگال میں اردو تنقید کی تاریخ“ ہے۔ میری نگاہ میں کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں جو ایک ادیب دوسرے ادیب کو بھیج سکتا ہے اور وہ بھی اپنی تخلیق کردہ کتاب اور وہ بھی ایسے دوست کی جو دوست ہی نہیں ہمراز و ہمزاد بھی ہو۔ میری خوش بختی کہ میں ظہیر انور کے تخلیقی سفر کا چار دہائیوں سے چشم دید گواہ ہوں۔ وہ ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ وہ مترجم بھی ہیں ڈرامہ نگار بھی۔ سکالر بھی ہیں دانشور بھی۔ ایکٹر بھی ہیں ڈائریکٹر بھی۔

اپنی تازہ ترین تصنیف ”بنگال میں اردو تنقید کی تاریخ“ میں وہ ایک محقق کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں نا صرف اپنے قارئین کا ایک سو پچاس لکھاریوں سے مختصر مگر جامع تعارف کروایا ہے بلکہ ادب میں کلاسیکی اردو تنقید سے جدید تنقید تک کا سیر حاصل تبصرہ و تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔ ایسی کتاب لکھنے کے لیے جس ادبی محنت اور تخلیقی ریاضت کی ضرورت ہے وہ مجھ جیسے سہل پسند طالب علموں کے بس کی بات نہیں۔

ظہیر انور نے بنگال کے ان تمام لکھاریوں کا کھوج لگایا ہے جن میں انہیں تنقیدی شعور کی چنگاری دکھائی دی اور پھر ان لکھاریوں کی کاوشوں کو ادب کے عالمی پس منظر میں پرکھا ہے جو جوئے شیر لانے سے کسی طرح کم نہیں۔ ظہیر انور نے جس تنقیدی سفر کی کہانی بیان کی ہے اس کا آغاز الطاف حسین حالی کے خیالات سے ہوتا ہے اور اس کا اختتام شمس الرحمان فاروقی کے ادبی نظریات پر ہوتا ہے۔ ظہیر انور کا یہ تنقیدی شہ پارہ مشرق و مغرب کی تنقیدی روایات پر ایک پل کا کام بھی کرتا ہے۔

ظہیر انور نے اس کتاب میں سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہے اور ایک ایسا تحفہ پیش کیا ہے جو اردو ادب کے سنجیدہ قارئین ’ناقدین اور کالج اور یونیورسٹی کے طلبا و طالبات کے لیے ایک گراں قدر خزانے سے کم نہیں۔ میں اپنے موقف کی حمایت میں چند مثالیں پیش کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو اس کتاب کی اہمیت و افادیت کا اندازہ ہو سکے۔

بقول کلیم الدین احمد ”تنقید کوئی کھیل نہیں کہ ہر شخص بآسانی کھیل سکے۔ یہ ایک فن ہے۔ ایک صناعی ہے۔ فن تو ہر طرح کے ہوتے ہیں۔ مشکل بھی اور آسان بھی۔ تنقید مشکل ترین فن ہے۔ ہر فن کی طرح اس کے بھی اصول و ضوابط اور اغراض و مقاصد ہیں۔ ادب اور زندگی میں اس کی مخصوص اور قیمتی جگہ بھی ہے۔ اس لیے ہر کس و ناکس ایک نقاد کے فرائض انجام نہیں دے سکتا“ ظہیر انور کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اس مشکل ترین فن کے چیلنج کو مسکراتے ہوئے قبول کیا اور بڑی خوش اسلوبی سے نبھایا۔ یہ کام ایک ادبی کرامت سے کسی طرح کم نہیں۔

ظہیر انور جانتے ہیں کہ ادبی شہ پاروں کا زبان، ادب اور سماج سے گہرا رشتہ ہوتا ہے اور نقاد ان رشتوں کی پیچیدگیوں سے نہ صرف خود واقف ہوتا ہے بلکہ وہ ان پیچیدگیوں سے قارئین کا تعارف بھی کرواتا ہے۔ ظہیر انور نے اردو تنقید پر جو عربی، فارسی، سنسکرت اور انگریزی ادب اور تنقید کے اثرات مرتب ہوئے ہیں ان پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ظہیر انور نے اپنے قارئین کا ادب کے نو دبستانوں سے مختصر تعارف بھی کروایا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں

1۔ تاثراتی تنقید
2۔ جمالیاتی تنقید
3۔ ترقی پسند مارکسی تنقید
4۔ عمرانی تنقید
5۔ نفسیاتی تنقید
6۔ سائنٹفک تنقید
7۔ اسلوبیاتی تنقید
8۔ ساختیاتی تنقید
9۔ مابعد ساختیاتی تنقید

یہ دبستان ہمیں ادب کے روشن اور تاریک، شعور اور لاشعوری، نفسیاتی و سماجی، ادبی و تخلیقی گوشوں میں جھانکنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں اور ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ادب عالیہ کی کسوٹی کیا ہے۔ ظہیر انور کی کتاب پڑھ کر قاری یہ جان جاتا ہے کہ ادب عالیہ فن کے تقاضے بھی پورے کرتا ہے اور زندگی کے تقاضے بھی۔


ظہیر انور نے اس علمی و ادبی و تحقیقی امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے جن آزمائشوں اور دشواریوں کا سامنا کیا اس کا اندازہ ہمیں ان کے ان جملوں سے ہوتا ہے۔ رقم طراز ہیں

”اس کتاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مجھے کئی مشکل مقامات سے گزرنا پڑا۔ تذکرے، تحقیق اور تنقید کے وسیع تناظر میں تنقید کی اہمیت، اس کی خصوصیت، اس کے اصول و ضوابط اور دیگر تمام اساسی تنقیدی فکری رویے اور داستان تنقید کا ازسر نو مطالعہ کرنا پڑا۔ تذکرے کے حوالے سے تنقید نے چلنا سیکھا۔ ایک طویل عرصے کے بعد تنقید نے فن پارے کے محاسن و معائب پر ان کی منصفانہ صنفی، لسانی اور اسلوبی جانچ پرکھ پر اپنی مستحکم عمارت تعمیر کی ہے۔ ادبی متون کی گہرائیوں میں تنقید کی ماہیت، اس کی آگہی، علم و ہنر کی وابستگی اور ماضی کے فن پاروں سے رابطے کے حوالے سے معنوی نظام کو تلاش کرنا اور غیر جانبداری سے فن کی تعبیر و تشریح یا تجزیہ و تحلیل کچھ آسان کام نہیں“ ۔

ظہیر انور کا کمال فن یہی ہے کہ انہوں نے مشکل کو آسان کر دکھایا۔ ظہیر انور میرے ادبی ہمسفر ہیں۔ مجھے ان کی مقبولیت و کامیابی سے بہت خوشی ہوتی ہے۔ مجھے ان کی ادبی شخصیت میں کیمو اور سارتر اور کافکا اور بریخت کی ادبی شخصیات کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اگر وہ یورپ میں پیدا ہوئے ہوتے تو ضرور بین الاقومی شہرت کے مالک ہوتے۔ میں نے پچھلی چند دہائیوں میں ان سے ادبی مکالموں سے بہت کچھ سیکھا۔ میری لائبریری میں ان کی جو کتابیں موجود ہیں میں ان کی فہرست پیش کر دیتا ہوں تا کہ آپ کو ان کے ادبی کارناموں کا اندازہ ہو سکے۔

1۔ نئے موسم کا پہلا دن۔ ڈرامے
2۔ صلیب۔ ڈرامے
3۔ چراغ رہ گزر۔ سفر نامہ انگلستان
4۔ شعور و سرور۔ تنقید
5۔ بلیک سنڈے۔ ڈرامے
6۔ منظر پس منظر۔ تنقید
7۔ ایک عرض تمنا۔ سفر نامہ پاکستان
8۔ انگاروں کا شہر۔ ڈرامے
9۔ و یبھوتی بھوشن بندو پادھیائے
سنیل کمار چٹو پادھیائے

جب ظہیر انور مجھ سے ملنے کینیڈا تشریف لائے تو میرے پاس کچھ عرصہ رہے۔ ان کے جانے کے بعد میں نے ان کے لیے ایک نظم لکھی جس کا ترجمہ حاضر خدمت ہے

(یہ نظم میری سوانح عمری ”سالک“ میں شامل ہے جسے لاہور میں سانجھ کے پبلشر امجد سلیم منہاس عنقریب چھاپ رہے ہیں )

انسپریشن

تم آئے بھی اور چلے بھی گئے
اب یوں لگتا ہے
نہ تو تم آئے تھے نہ گئے
جب تم موجود تھے تو میں خاموش تھا
اب تم چلے گئے ہو
تو میں اپنے ہی دل میں
تم سے باتیں کرتا ہوں
تم میرے ہمزاد ہو
میری باتوں اور خاموشیوں کے ہمراز ہو
اب ہمارے پاس وقت کم رہ گیا ہے
کیونکہ زندگی کی شام قریب آن پہنچی ہے
میں یہ سوچ کر دکھی ہو جاتا ہوں
کہ شاید ہماری کبھی دوبارہ ملاقات نہ ہو
لیکن یہ سوچ کر سکھی بھی ہو جاتا ہوں
کہ ہمارا ایک خاص تعلق ہے
ایسا تعلق
جو وقت اور فاصلے سے ماورا ہے
اور ایک دوسرے کی بہترین خصوصیات کو اجاگر کرتا ہے

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail