ساناز داؤد زادہ فر: ایران کی معروف شاعرہ


ساناز داؤد زادہ فر (Sanaz Davood Zadeh Far) کا شمار ایران کی معروف شاعرات میں ہوتا ہے۔ یہ ایران میں پیدا ہوئیں لیکن آج کل جرمنی کے شہر لگزمبرگ میں مقیم ہیں۔ ساناز نے شعری سفر کا آغاز پابند شاعری سے کیا لیکن بہت جلد آزاد شاعری کی طرف مائل ہوئیں اور خوب شہرت حاصل کی۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”روی حروفِ مردہ راہ می روم“ کے نام سے شائع ہوا۔ فروغ فرخ زاد کے بعد یہ پہلی ایرانی شاعرہ ہیں جن کا پورا مجموعہ عربی زبان میں ترجمہ ہو کر مصر سے شائع ہوا۔ ساناز کا دوسرا شعری مجموعہ ”مُردن باپایان باز“ کے نام سے حال ہی میں شائع ہوا ہے۔ ان کے دونوں مجموعوں کا بنیادی موضوع جنگ اور موت ہے۔

ساناز عشق، انتظار، اور ہجرت کی شاعرہ ہیں۔ اپنے وطن سے محبت، ماحول کی گھٹن اور جلاوطنی کی اذیت ان کے مرغوب موضوعات ہیں اور عصرِ حاضر میں پامال ہوتے انسانی حقوق اور عورت کی نفسیاتی اور وجودی محرومیوں کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

ساناز داؤد زادہ فر کی شاعری میں جنگوں میں ہونے والی تباہی اور انسانی روح پر اس کے خوف کا بیان ملتا ہے۔ ساناز اکیسویں صدی کے ممالک کشمیر، افغانستان، عراق، شام، لبنان، فلسطین، لیبیا، مصر، سینائی اور مراکش میں ہونے والی جنگوں اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کو اپنی شاعری میں منفرد انداز میں بیان کرتی ہیں۔ ان کی شاعری جنگ اور موت کے ڈراؤنے خواب کی وسیع داستان ہے۔ ساناز کے ہاں مشرق وسطیٰ میں ہونے والے ظلم و ستم کے خلاف ایک احتجاج اور اسلامی ممالک کے لیے بھائی چارے اور محبت کا درس ملتا ہے۔

ان کے ہاں موت کا تصور بنیادی نقطہ ہے جسے گولیوں، اسلحہ سازی کی فیکٹری اور بارود سے منسلک کر کے بیان کیا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ان کے اسلوب میں ایک خوف کی کیفیت بھی پائی جاتی ہے۔ دراصل یہ اپنی تحریروں میں گولی، مردے، تابوت، جنگی ہتھیاروں اور موت کا ذکر کرتی ہیں جس کی وجہ سے قاری خوف محسوس کرتا ہے۔

ساناز کی شاعری کا ایک اہم پہلو تانیثیت ( فیمینزم ) ہے۔ ان کی نظموں میں عصرِ حاضر میں پامال ہوتے انسانی حقوق اور عورت کی نفسیاتی اور وجودی محرومیوں کا بیان ملتا ہے۔ ساناز کی شاعری ان تمام حالات اور پابندیوں کی سرگزشت ہے جس کا سامنا ایک عورت کو پدرسری سماج میں کرنا پڑتا ہے۔ یہ پدرسری معاشرے کے استحصالی رویے کے خلاف اور عورت کی آزادی کی خواہاں ہیں۔

ان کے ہاں ایک ایسی عورت کا تصور ملتا ہے جس نے اپنے محبوب کو کھو دیا ہے اور ان کے درمیان سرحدیں ہیں۔ ان کی شاعری میں محبوب کی بے رخی، انتظار اور بچھڑ جانے کا غم ملتا ہے۔

ساناز داؤد زادہ فر کی شاعری کا خاصا Apocalyptic الفاظ کا استعمال ہے جن کے ذریعے یہ اپنی شاعری میں اسلامی ممالک میں ہونے والی جنگوں کی تباہیوں کو بیان کرتی ہیں۔ Apocalyptic الفاظ سے مراد یہ ہے کہ شاعری میں ایسے الفاظ کا استعمال کرنا جس سے کسی بھی خطے کی تباہی یا آخرت کی تباہی کو بیان کو کیا جائے۔ ساناز کے ہاں موت، قبر، مردہ، لاش، تابوت، سردی، گولی، اعضا، ہڈیاں، مٹی اور دفن جیسے Apocalyptic الفاظ کا استعمال نظر آتا ہے۔

Facebook Comments HS