بھارت ٹوٹنے کے دہانے پر


 

وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں ہندوتوا نظریے میں شدت آ گئی ہے، جو ہندو قوم پرستی کو بھارت کی شناخت کے ساتھ جوڑنے والا ایک سماجی و سیاسی فریم ورک ہے۔ اس نظریے کا بھارت کے سماجی، سیاسی اور اقتصادی منظرنامے پر گہرا اثر پڑا ہے، جس سے بھارت کو داخلی اور عالمی سطح پر دیکھنے کا انداز بدل گیا ہے۔ مودی کے دور میں، بھارت کی جمہوریت، انسانی حقوق اور استحکام کے حوالے سے عالمی درجہ بندیوں میں کمی آئی ہے۔ بھارت کا فریجائل سٹیٹس انڈیکس پر درجہ کم ہو کر ”وارننگ“ کیٹیگری میں شامل کر دیا گیا۔

اسی دوران، امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت کو ”تشویشناک ممالک“ کی فہرست میں شامل کیا اور جینوسائیڈ واچ نے بھارت میں نسل کشی کے خطرے پر الرٹ جاری کیا، جس سے انسانی حقوق کی صورتحال پر عالمی تشویش میں اضافہ ہوا۔ لبرل ڈیموکریسی انڈیکس پر بھارت کی جمہوریت کی درجہ بندی بھی کم ہو کر نیچے چلی گئی۔ جمہوری اصولوں کی بگاڑ کو بڑی حد تک ان پالیسیوں نے متاثر کیا ہے جنہیں ناقدین آزادیوں کو محدود کرنے اور ہندوتوا نظریے سے ہم آہنگ ایک منفرد قومی شناخت کے فروغ کے طور پر دیکھتے ہیں۔

مودی کے ”ڈیجیٹل انڈیا“ منصوبوں کو ابتدا میں جدت کی طرف قدم کے طور پر سراہا گیا تھا، لیکن بعد میں انہیں آزادی اظہار پر پابندی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اظہارِ رائے کی آزادی کی کئی خلاف ورزیوں کا اندراج ہوا، جس سے مانیٹرنگ تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپوں نے ان قوانین کو حکومتی تنقید کو دبانے کے لیے ایک ذریعہ قرار دیا۔ بی جے پی کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سیل، جس کی نگرانی انیل کمار کر رہے ہیں، نے مودی کے حق میں پروپیگنڈا کو فروغ دیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے مخالف آراء کو دبایا، جس پر ورلڈ اکنامک فورم نے بھارت میں غلط معلومات کو سب سے بڑا داخلی خطرہ قرار دیا۔ غلط معلومات کے پھیلاؤ نے نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کیا بلکہ عوامی رائے کو بھی تقسیم کیا، جس سے بھارت کے سماجی اتحاد کو خطرہ لاحق ہو گیا۔

بھارت کے خارجہ تعلقات بھی اتنے ہی کشیدہ ہیں، خاص طور پر سرحدی تنازعات اور جارحانہ خارجہ پالیسی کے سبب۔ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھ گئی اور اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے اس اقدام کو ”اختیارات کا غلط استعمال“ قرار دیا۔ چین کے ساتھ تعلقات بھی نازک ہیں، خاص طور پر اروناچل پردیش میں بننے والی ہائی آلٹیٹیوڈ ٹنل جیسے انفراسٹرکچر منصوبوں پر چینی مخالفت کے باعث۔ ڈوکلام پلیٹو تنازع اور نیپال و بنگلہ دیش کے ساتھ غیر طے شدہ سرحدی مسائل نے بھی علاقائی کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔

سابق سی آئی اے افسر سارہ ایڈم کے مطابق، چانکیہ کی ارتھ شاستر کا اصول کہ ”ہر ہمسایہ ریاست ایک دشمن ہے“ بھارت کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بن چکا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت مبینہ طور پر افغان طالبان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ جیسے علاقائی عسکری گروہوں کی مالی معاونت کر رہا ہے، جو اگر سچ ہے تو جنوبی ایشیا کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتا ہے۔

داخلی سطح پر علیحدگی پسند تحریکیں بھارت کو چیلنج کر رہی ہیں۔ نسلی، لسانی، مذہبی اور علاقائی شناختوں سے متاثر علیحدگی پسند تحریکیں بھارت کی وفاقی حیثیت کے اندر سنگین دراڑیں دکھا رہی ہیں۔ کشمیر تنازعہ، جس میں آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کی مطالبات شامل ہیں، بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے کشمیر میں تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی نشاندہی کی، جس سے بھارت کے انسانی حقوق کے عزم پر سوالات اٹھے۔

پنجاب میں خالصتان تحریک۔ ایک آزاد سکھ ریاست کے قیام کی مہم۔ خاص طور پر بیرون ملک سکھ آبادی میں گونج رہی ہے۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافے کا ذکر کیا ہے، جس میں بیرون ملک سکھ کارکنوں کے قتل اور حکومتی حمایت یافتہ سازشوں کا ذکر شامل ہے، جیسے کینیڈا میں ہر دیپ سنگھ نجار کا قتل اور امریکہ میں گروپتونت سنگھ پنن کے خلاف کیس۔ ان واقعات نے عالمی اتحادیوں کو چوکنا کر دیا ہے، جس سے کینیڈا کے ساتھ سفارتی تناؤ بڑھ گیا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تشویش پیدا ہوئی۔

کشمیر اور پنجاب تک محدود نہیں، بھارت کے شمال مشرقی علاقے جیسے اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورا میں بھی علیحدگی پسندی کی ایک طویل تاریخ ہے اور خودمختاری کے مطالبات وقتاً فوقتاً سر اٹھاتے ہیں۔ مغربی بنگال میں گورکھا لینڈ تحریک اور تمل ناڈو میں دراوڑ شناختی تحریکیں بھی بھارت کے اندرونی مسائل کو اجاگر کرتی ہیں۔ ان نسلی اور ثقافتی تقسیمات نے بھارت میں شمال۔ جنوب کے سیاسی فرق کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات انتخابی سیاست اور ثقافتی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔

تمل ناڈو جیسے علاقے زیادہ خودمختاری کے حامی ہیں۔ دراوڑا منیترا کژگم (ڈی ایم کے ) کے رہنما ایم کے اسٹالن نے کھلے عام دراوڑا ناڈو کے خودمختار خطے کا مطالبہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ بھارت کا موجودہ وفاقی ڈھانچہ شمالی ریاستوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اور جنوبی شناختوں کو نظرانداز کرتا ہے۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ نے بھارت کی داخلی تقسیم پر ایک آئینی بحران کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جس سے ممکنہ طور پر مزید پولرائزیشن اور الگ سیاسی بلاک بننے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی طرف دیکھتے ہوئے، بھارت ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ جب ملک اپنی صدی کے قریب پہنچے گا، تو اس بات پر تشویش بڑھ رہی ہے کہ معاشرتی اور جغرافیائی ماحول میں دراڑیں مزید گہری ہو جائیں گی۔ بڑھتے ہوئے سماجی، اقتصادی، اور ثقافتی اختلافات، اور حکومت کے آمرانہ اقدامات سے داخلی تقسیمات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان چیلنجوں کے ساتھ ساتھ کشیدہ بین الاقوامی تعلقات کے سبب مزید عدم استحکام اور ممکنہ تقسیم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یکجہتی اس کے وفاقی ڈھانچے اور متنوع شناختوں کو پروان چڑھانے پر منحصر ہے، تاہم موجودہ پالیسیوں سے ایک یکساں قومی شناخت کو فوقیت دی جا رہی ہے جو شمولیت پسندی کی قیمت پر حاصل کی جا رہی ہے۔

اگر یہ رجحانات جاری رہے تو نسلی، لسانی اور علاقائی خطوط پر بھارت کے تقسیم ہونے کا خطرہ حقیقت بن سکتا ہے۔ مرکزی حکومت کا جارحانہ رویہ، علاقائی بغاوتیں، سماجی و مذہبی امتیاز اور کمزور ہوتے جمہوری ادارے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر جامع اصلاحات نہ ہوئیں تو بھارت کو اپنی موجودہ ریاستی حیثیت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ جب یہ اہم وقت آئے گا، دنیا بھارت کے راستے پر گہری نظر رکھے گی اور امید کرے گی کہ بھارت اپنی راہ درست کرے، تنوع اور جمہوری آزادیوں کو اہمیت دے، اور اس طرح دنیا کی سب سے بڑی اور متنوع جمہوریت کو بچائے۔

Facebook Comments HS