پیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں
ہمیں کچھ عارضے ایسے لاحق ہوتے ہیں کہ ہم اپنے من چاہے پکوان نہیں کھا سکتے بلکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ ہم مشروبات کا پرہیز کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں، ایسے میں اگر یہ بھی ہو جائے کہ سادہ پانی بھی ممنوع قرار پائے تو پھر سوچیئے کہ آپ پر کیا گزرے گی اور آپ کسے پکاریں گے۔ ایسی ہی مشکل زندگی سے اسلام آباد میں مقیم ہمارے ایک شفیق دوست نبرد آزما ہیں۔ گزشتہ روز روزنامہ جنگ میں ایک خبر شائع ہوئی کہ سینئر صحافی نعیم اللہ خان بہت زیادہ علیل ہیں اور دوستوں سے ان کی صحت کے لیے دعاؤں کی درخواست کی گئی ہے۔
میرے محترم برادر نعیم اللہ خان صاحب گزشتہ کئی برسوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ پنجاب کے شہر اوکاڑہ (دیپالپور ) سے تعلق رکھنے کے باوجود لکھنوی اور دلی کے لہجے کی اردو بولتے ہیں، اردو ادب سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں اور موقع محل کی مناسبت سے اکثر و بیشتر اشعار سناتے رہتے ہیں لیکن میرے لیے سب سے بڑھ کر یہ بھی ہے کہ میں نے ان کی باتوں بلکہ ان کی آنکھوں میں جھانک کر عظیم فلسفی اور محدث حضرت شاہ ولی اللہ ؒ، شاعر حکیم مومن خان مومنؒ اور امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی قبور کی زیارتیں کی ہیں، قصہ کچھ یوں ہے کہ نعیم اللہ خان کی جگر کی پیوند کاری ہندوستان میں ہوئی ہے اس لیے وہ اپنے علاج کی غرض سے ہندوستان کا سفر باندھتے رہے ہیں اور وہ ان عظیم شخصیات کی قبروں کی براہ راست زیارت کرچکے ہیں۔
بہر کیف موجودہ دور کے بہت سے نامور صحافیوں کے استاد محترم نعیم اللہ خان صاحب ان دنوں گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں اور زندگی کی سانسیں ڈائیلاسز کے سہارے چل رہیں ہیں، اس سے پہلے نعیم اللہ خان صاحب کی جگر کی پیوند کاری ہو چکی ہے۔ مذکورہ خبر کے بعد راقم الحروف کی طرف سے نعیم اللہ خان سے رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انھیں پینے کے لیے ”پانی“ کی مقدار بھی محدود کردی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے وہ جگر کی پیوند کاری کی وجہ سے بہت سے پکوان اور غذا سے محروم کر دیے گئے تھے۔ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے استاد نعیم اللہ خان صاحب کو
بر صغیر کے نامور شاعر نظیر اکبر آبادی کے اس شعر کے ساتھ مخاطب کروں،
” پیڑا جلیبی لڈو جو کھاؤ سو منگا دیں
چیرا دوپٹہ جامہ جیسا کہو رنگا دیں ”
معاملہ کچھ یوں ہے کہ مجھ نا چیز کو بھی جناب نعیم اللہ خان صاحب کے ساتھ اسلام آباد کے ایک اخبار روزنامہ ممتاز میں کام کرنے کا شرف حاصل رہا ہے، نعیم بھائی کے ماتحت رہتے ہوئے میں نے بہت سے ”اداریے“ تحریر کیے ہیں اور ”جلیبیاں“ کھائی ہیں۔ آپ سوچ رہے ہیں کہ یہ کیسی بے ہودگی ہے کہ اداریہ کے ساتھ جلیبی کا ذکر۔ بھئی بات ہی کچھ ایسی ہے کہ نعیم بھائی کو جلیبی کھانے کا شوق ہے اور یہی شوق مجھے بھی لاحق ہے، لہذا ہم اپنا ادارتی صفحہ بنانے کے دوران ہر شام گرما گرم جلیبیاں کھایا کرتے تھے، جلیبی کے لیے عموماً پیسے نعیم صاحب دیتے اور جلیبیاں لانے کی ذمہ داری میری ہوتی، آہستہ آہستہ ہماری جلیبی کھانے کی یہ رسم ”جلیبی کلب“ میں تبدیل ہو گئی، بس یوں ہوا کہ لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ پھر ایسا ہو کہ مجھے کراچی آنا پڑ گیا اور اسلام آباد دوستوں کے حوالے رہا، اس موقع پر میرا یہ شعر ملاحظہ فرمائیں،
”شام ڈھلی کیا زمانے بھی گئے
چاندنی تو کیا زمانے بھی گئے ”
بہرکیف میں یہ نہیں جانتا کہ نعیم صاحب کو جلیبی کھانے کی ممانعت تھی یا نہیں لیکن وہ جلیبی کھاتے اور کھلاتے رہے۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میرے کراچی لوٹنے کے بعد نعیم صاحب نے جلیبی کھائی بھی ہے یا نہیں لیکن یہ اطلاع مجھ تک پہنچی تھی کہ جلیبی کلب کو کسی کی نظر کھا گئی ہے۔ رہی بات نظیر اکبر آبادی کے اس شعر کی جو بالا سطور میں تحریر کیا گیا ہے تو اس پر کیا کہا جائے۔ یہاں معاملہ تو کچھ اور ہی ہے جیسا کہ بر صغیر پاک و ہند کے ممتاز شاعر قابل اجمیری نے کہا ہے کہ
”بہت کام لینے ہیں درد جگر سے
کہیں زندگی کو قرار نہ آ جائے ”
بس ایسا ہے کہ قبلہ قابل اجمیری نے اپنے اس شعر میں محترم نعیم اللہ خان کا دل کھول کر رکھ دیا ہے اور زندگی کا پورے کا پورا نچوڑ بیان کر دیا ہے۔ دوستو ہم زمانے کے ساتھ چلتے چلتے بسا اوقات کچھ ایسے ساتھیوں کو بھول جاتے ہیں جو شدت سے ہمیں یار رکھتے ہیں، ایسے دوستوں میں ان ساتھیوں کا زیادہ حق ہیں جو ہم سے محض اس لیے رابطے میں نہیں ہیں کہ وہ علالت کے اثر ہیں۔
آہ میرے دوست آہ کہ میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہا ہوں اور میری حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے جیسی کہ آپ پر بن پڑی ہے۔ ممتاز شاعر شہریار کا یہ شعر ہم دونوں کی حالت کو خوب بیان کرتا ہے،
”شدید پیاس تھی پھر بھی چھوا نہ پانی کو
میں دیکھتا رہا دریا تری روانی کو ”
آخر میں دوستوں سے یہی درخواست ہے کہ وہ اپنے دوستوں کا حال احوال پوچھتے رہیں، ملتے جلتے رہیں، جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، اب ملاقاتیں محض ایک انگلی کے اشارے کی محتاج ہیں۔ بہر کیف ساتھ ہی دوستوں کو اس امر کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ایسے صحافی دوست جو بیمار ہیں یا بیروزگار ہیں انھیں دعاؤں کے ساتھ ساتھ مالی اعانت کی بھی ضرورت ہوتی ہوگی۔ اس کے لیے ہماری صحافتی تنظیموں اور پریس کلبوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ہاں ایسے فنڈز قائم کریں جو بیمار اور بے روزگار صحافی دوستوں کی مالی مدد کے لیے مختص ہوں۔ ایسے میں امید کرتا ہوں کہ اسلام آباد پریس کلب سمیت ملک کے دیگر پریس کلب اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی قیادت جلد ہی کوئی ایسا لائحہ عمل تیار کرے گی جس کے ذریعے بیمار اور بے روزگار صحافیوں کی عیادت اور معاونت ممکن ہو سکے۔


