رحمت مسیح منڈیاوالا: ایک قابل تقلید شخصیت


ہم سب کی زندگیوں میں ایسی شخصیات کا کردار اہم ہوتا ہے جو ہمیں زندگی کو سمجھنے اور بہتر انداز میں گزارنے میں رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ شخصیات، اپنے علم و فہم، لوک حکمت اور برائے راست زندگی کے تجربات سے ہمیں خود کو سمجھنے اور بامقصد زندگی بسر کرنے کی نہ صرف تحریک دیتے ہیں، بلکہ اپنی عملی زندگی سے اس کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

آج میں ایک ایسی عظیم شخصیت کا ذکر آپ سب کے ساتھ کر رہا ہوں جو میرے لیے محض ایک بزرگ ہی نہیں، بلکہ ایک مثالی رہنما اور رول ماڈل ہیں۔ میں بات کر رہا ہوں، اپنے مرحوم دادا، رحمت مسیح منڈیا والا کی، جن کی یکم نومبر 2014 کو تیسری برسی ہے۔ ان کو اس دُنیا سے رخصت ہوئے تین برس بیت چکے ہیں، مگر ان کی باتیں، یادیں اور نصیحتیں آج بھی ہمارے دلوں میں یوں زندہ ہیں، جیسے وہ ہمارے درمیان بلکہ ساتھ موجود ہوں۔

رحمت مسیح منڈیا والا ایک ایسی شخصیت تھے جن کی زندگی حکمت، دانائی اور علم سے لبریز تھی۔ ان کے تجربات اور بصیرت نے نہ صرف ہماری رہنمائی کی بلکہ ہمیں ایک ایسا وژن دیا جس پر چلنا ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ میں اور میرے بڑے بھائی ایاز مورس ان کے نظریات اور سوچ کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اُن کے اقوال اور تعلیمات کو کتابی شکل میں محفوظ کر رہے ہیں، تاکہ ان کی روشنی میں ہم ان کے مشن کو آگے بڑھا سکیں۔

دادا کی زندگی کی مثالیں ہمیں ہمت، صبر، ایمانداری اور خلوص کے ساتھ جینے کا درس دیتی ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح اور ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کی حکمت اور فہم نے ہمیں نہ صرف اپنے مسائل کو سمجھنے کا شعور دیا، بلکہ دوسروں کی خدمت کا جذبہ بھی ہمارے دلوں میں بیدار کیا ہے۔ ان کی شخصیت میں ایسی کشش تھی کہ ہر عمر کا فرد ان کی باتوں کو غور سے سنتا تھا۔ خصوصاً نوجوان نسل ان کی دانشمندانہ باتوں سے بہت متاثر ہوتی تھی، اور اسی وجہ سے انہیں ”نوجوانوں کا سفیر“ کہا جاتا تھا۔ ان کے نصیحت آموز قصے، واقعات اور تجربات ہمیں ایک بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتے رہیں گے۔

آج جب میں گاؤں کے بزرگوں، دوستوں، اور ان کے ساتھیوں سے ملتا ہوں تو ہر کوئی ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پاتا ہے۔ ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ بابا رحمت منڈیا والا کے پاس زندگی کے ہر مسئلے کا حل تھا۔ خُدا نے انہیں صحت مند اور طویل زندگی کے ساتھ ساتھ بصیرت، حکمت، اور فہم عطا کیا تھا، جس کے سبب وہ ہر مسئلے کو سلجھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

آج جب ہم ان کو تیسری برسی کے موقع پر یاد کر رہے ہیں، میں دُعا گو ہوں کہ خُدا ان کی رُوح کو ابدی سکون اور بلند درجات عطا فرمائے۔ ان کی زندگی اور ان کا کام ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ بنے رہیں اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کا حوصلہ دیتے رہیں۔

میری دُعا ہے کہ خُداوند تعالیٰ ہمارے خاندان کو ان کی تعلیمات کو آگے بڑھانے کا حوصلہ دے۔ ان کی یادوں اور باتوں کو اس طرح زندہ رکھنا واقعی ایک بہترین خراج عقیدت ہے۔ ان کے کردار، حکمت، اور بے لوث خدمت سے ہمارے گاؤں اور معاشرے پر جو مثبت اثرات مرتب ہوئے، وہ ہمیشہ زندہ رہیں۔ ان کی سادگی، سمجھداری، اور نوجوان نسل کے لیے رہنمائی کرنے کی صلاحیت یقیناً ہمارے لئے قابلِ فخر سرمایہ ہیں۔

میری یہ تحریر میں جو محبت اور عزت ان کے لیے جھلکتی ہے، وہ دادا کی شخصیت کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ بے شک ہم سے جسمانی طور پر جُدا ہوئے ہیں لیکن اُن کی سوچ اور جذبہ ہم میں زندہ ہے اور ہم بھرپور کوشش کریں گے کہ دادا کی مثبت سوچ کو معاشرے میں پھیلانے کے لئے اپنی بھرپور کوشش کریں۔ (آمین)

Facebook Comments HS