ڈاکٹر ضیاء الحسن کا مجموعہ کلام: بار مسلسل
ضیاء الحسن ایک ممتاز پاکستانی دانشور ادیب نقاد اور استاد ہیں وہ اورینٹل کالج لاہور میں اردو ادب کے پروفیسر ہیں انہوں نے اپنی تعلیم اورینٹل کالج لاہور سے حاصل کی اور بعد میں اسی ادارے سے وابستہ ہو گئے جہاں انہوں نے اردو ادب کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ان کا شمار ان علمی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اردو ادب کو علمی اور فکری بنیادوں پر مضبوط کرنے میں نمایاں خدمات سرانجام دیں انہوں نے نہ صرف طالب علموں کو تعلیم دی بلکہ تحقیقی اور تنقیدی حوالے سے بھی قابل قدر کام کیا۔
ان کی ادبی خدمات میں شاعری تنقید اور تحقیق شامل ہے ان کی شاعری کا مجموعہ ”بار مسلسل“ کے نام سے شائع ہوا بار مسلسل کی غزلوں کے مطالعہ سے ایک بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ضیاء الحسن نے تصوف کا مطالعہ کیا ہے اور اس سے گہرے اثرات قبول کیے ہیں ان کی شاعری میں جو چیز انہیں دوسروں سے مختلف اور منفرد کرتی ہے وہ آہنگ کی بنیاد پر شاعری کرنا اور ٹون کو لہجے کے ذریعے گرفت میں لانے کی کوشش ہے ان کے لہجے کے در و بست میں سہل ممتنع بن جانا غیر معمولی فن ہے۔ انہوں نے انٹر میڈیٹ میں پہلا شعر کہا اور بی اے تک تمام فکشن کا مطالعہ کر لیا تھا پھر اورینٹل کالج میں ان کی ملاقات سجاد باقر رضوی جیسے استاد سے ہوئی ان کی سرپرستی میں انہوں نے تمام عالمی فکشن کا مطالعہ کیا ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے ولی دکنی سے لے کر آج تک کے تمام قابل ذکر شعراء کو پڑھ رکھا ہے
عشق محدود جسمانی لذت یا دو انسانوں کے ملاپ کا نام نہیں بلکہ ایک کائناتی قوت ہے جس نے انسان کو اس کائنات کے دیگر مظاہر اور دوسرے انسانوں سے جوڑ رکھا ہے یہ کوئی وقتی جذبہ نہیں بلکہ زندگی پر محیط جذبہ اور زندگی گزارنے کا ڈھب ہے عشق کو اگر ساری دنیا میں جگہ ملتی ہے تو وہ دل ہے جیسے کہ
بیان کروں تو کبھی ختم ہو نہ قِصہ عشق
سمیٹ لوں تو فقط دل کے استعارے میں ہے
نہ عشق محِو سفر ہو، نہ حُسن منزل ہو
تو پھر یہ کیسے کٹے زِیست کا سفر باقی
تمہارے عشق میں کھوئے گئے تو ہم پہ کھلا
یہ احترام ہے کیا چیز اور ادب کیا ہے
ہم کو فرصت ہے کہاں عشق و محبت سے ضیاء
ہم کو کیا کام بھلا دنیا کے کینے سے ہے
ضیاء الحسن کی شاعری میں دل کا استعارہ اتنی بار اور مختلف انداز میں استعمال ہوا ہے انسان اور دل کے باہمی تعلقات اور دل کی مختلف کیفیات پر اتنے اشعار مل جاتے ہیں جیسے وہ اس کائنات کو اپنے دل کی نگاہ سے دیکھتے ہوں اور بعض جگہ پر دل اور نگاہ مخالف عناصر کے طور پر نظر آتے ہیں جہاں نگاہ خارج اور دل باطن کا استعارہ بنتا ہے ایسے میں وہ دل کی حضوری کے طلبگار ہیں یہ ہم ان کے اشعار میں دیکھتے ہیں
دل بد بخت وہ آوارہ خو سر ہے
کیا کِسی کا ہو، ہمارا بھی نہیں ہوتا
دل کو محوِ رکھا ہے وصل کی تمنا میں
آنکھ کو لگایا ہے حُسن کے نظارے پر
کوئی تو کر دے مرے دل پہ نگاہ
بخش دے اس کو حضوری کوئی
ابھی ہم کو نیا اک دل بنانا ہے
پھر اس دل کو جہاں میں عام کرنا ہے
ضیا الحسن کی شاعری میں ایسی کیفیت بھی ملتی ہے جسے خالص روحانیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے وہ اپنے نفس کو لفظ کتا سے تشبیہ دیتے ہیں انہوں نے زر تو کتا افسانہ (انتظار حسین) سے موجود جو تصوف کا اثر ہے وہ قبول کیا اور اپنی شاعری میں استعمال کیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جب تک انسان کے باطن میں ربط موجود نہیں تو خارجی سہارے انہیں زیادہ دیر تک ایک دوسرے سے نہیں جوڑ سکتے ایمانیات، رمزیت ان کے اشعار میں ہمیں ملتے ہیں جیسے کہ
یہ کتا نفس کا جب بھونکتا ہے
تو ڈر جاتے ہیں اپنی بے بسی سے جو تم ڈھونڈتے ہو وہ سینے میں ہے کہاں جا رہے ہو، یہاں ہے، یہاں
تو میں کرتا ہوں اپنی تعظیم بہت تیرا ہی جوہر ہے نقش ثانی میں
ضیا الحسن کے ہاں دنیا کی بے ثباتی یا دنیا کو ٹکرانے کا عمل اس سطح پر رک نہیں جاتا بلکہ ان کے ہاں باقاعدہ اگلی دنیا کے لیے لپک، والہانہ پن موجود ہے وہ جلد سے جلد اسے گلے لگانا چاہتے ہیں اس دنیا سے بیزاری اور اگلی دنیا کے لیے طلب ہمیں ان کے ہاں بڑی شدت سے ملتی ہے وہ دنیا کے حالات و واقعات کو اپنے موضوع نہیں بناتے نہ سماجی نا انصافی کے خلاف اتنا بلند آہنگ احتجاج کرتے ہیں وہ بس خواب ہی دیکھتے ہیں ایک خوبصورت خواب، دنیا کو خوبصورت دیکھنے اور پُرسکون پُر محبت زندگی گزارنے کی انسانی آرزو کو بہت کم اتنی سادگی، خوبصورتی اور جامعیت سے پیش کیا گیا ہے ”بار مسلسل“ ایسے رویوں جذبوں اور خوبصورت انداز اظہار پر مشتمل غزلوں کا مجموعہ ہے
ہے سفر اور بہت دور کا ہے سفر
تیز تر سارباں تیز سارباں
کبھی تو حکم آئے گا سفر کا
یہاں سے جان چھوٹے گی کبھی تو
اک شہر محبت جیسا ہو
اک خوابوں جیسی دنیا ہو
اک بات ہماری بن جائے
اک خواب ہمارا سچا ہو


