موت کے گڑھے


دھند اور اندھیرا دونوں نہیں تھے۔ صاف ستھری چمکدار صبح تھی۔ تیز رفتار وین صاف ستھری کارپٹ سڑک پر درست سمت پر مگر خطرناک حد تک اسپیڈ سے جا رہی تھی۔ اچانک ڈرائیور کی نظر چند میٹر سامنے آ جانے والے کھڈے پر پڑی۔ اس رفتار کے ساتھ اس خطرناک گڑھے سے بچاؤ کا وقت نہیں رہا تھا۔ آخری چارے کے طور پر ڈرائیور نے لاشعوری طور پر تیزی سے وین کو دائیں سمت موڑ دیا۔ مڑنا اتنا اچانک تھا کہ سامنے سے اپنی درست لائن میں خطرناک اسپیڈ سے آتے بغیر ہیلمٹ بائیکر کے پاس اپنے بچاؤ کو کوئی راستہ نہیں بچا۔ اگرچہ وین نے پھر اچانک بائیں طرف اپنی لین میں مڑنے کی کوشش کی مگر اس کٹ سے گاڑی اپنا برقرار نہ رکھ سکی اور چشمِ زدن میں دونوں خوفناک آواز سے آمنے سامنے جا ٹکرائے۔

اپنا توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے وین دائیں طرف الٹی اور سڑک پر دو تین قلابازیاں کھاتی، لڑھکتی ہوئی سڑک سے نیچے کھیتوں میں جا گری۔ گاڑی کے شیشے بھیانک آوازوں کے ساتھ ٹوٹے اور ساتھ ہی انتہائی خوفزدہ اور قیامت خیز انسانی واویلا بلند ہوا۔ بائیکر اسی دوران ٹکراؤ کی شدت سے اڑتا ہوا قریبی کھیتوں میں دور جا گرا۔ اس کی کھوپڑی چٹخ گئی تھی اور دماغ کے ٹکڑے تک ادھر ادھر بکھر گئے تھے جبکہ ٹانگوں اور بازؤوں کی کوئی ہڈی سلامت نہ رہی تھی۔ وہ ایک خون آلود گٹھڑی کی طرح بکھرا پڑا تھا۔

وین سے بھی قیامت کا شور و غوغا بلند ہو رہا تھا۔ قلابازیوں کے دوران اس کا گیٹ ٹوٹ کر گر گیا تھا جس سے کئی سواریاں پہلی قلابازی میں ہی گر گئیں اور ہر قلابازی کے ساتھ لگا تار گرتی رہیں۔ ٹریفک رک گئی، سڑک جام ہو گئی، ایمبولینسیں آ گئیں، مرنے والوں کی بوٹیاں سے چن لی گئیں۔ اداروں کے لئے مرنے والے کی پہچان بھلا اب بھلا کون سا مشکل ہوتی ہے۔ نعشیں ورثا کے حوالے ہوئیں۔ دو دن گاڑی عبرت کے طور پر سڑک پر پڑی رہی اور بہت ازاں اٹھا لی گئی۔ چند دن کے لیے کہیں اردگرد کے لوگوں یا عینی شاہدوں میں اس حادثے کا چھوٹا موٹا تذکرہ جاری رہا ور وہ بھی دم توڑ گیا۔

اگرچہ سب کی کہانی ختم ہو گئی مگر ایک چیز زندہ و جاوید رہی۔ اس کو موت نہیں آئی۔ اس کا ذکر جاری رہا۔ وہ چیز تھی کارپٹ روڈ پر موجود وہ خون آشام گڑھا۔ وہ بدستور موجود ہے، قائم ہے اور اگلی باری پر مزید لاشوں کا منتظر ہے۔ یہ گڑھا ہر چار دس دن بعد اسی طرح کی غلطی کروا کر اسی طرح کے نتائج پیدا کرتا رہتا ہے۔ یونہی لاشیں گرتی ہیں اور خون بہتا ہے۔ انسانی خون کی بو ابھی سڑک پر ماند نہیں پڑی ہوتی کہ کوئی نیا حادثہ اس انسانی بو کو پھر تازہ کر دیتا ہے۔

یہ تو ایک گڑھے کی خونچکاں داستان تھی جس نے سفید اور چمکدار دھوپ میں لوگوں کی جان لے لی۔ اب آگے سموگ آ رہی ہے، اس کے بعد دھند کا راج آنے والا ہے۔ تب کے خطرناک منظر نامہ میں موت کے یہ گڑھے کتنی ہی لاشوں کے گرنے کا باعث ہوں گے یہ اندازہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ آپ میں سے جو لوگ کارپٹ سڑکوں پر روزانہ سفر کرتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ ایسے گڑھے ہر سڑک پر موجود ہیں۔ وہ لوگ ان موت کے گڑھوں سے منسلک داستانوں کو جانتے ہیں۔

اگر آپ بھی کارپٹ سڑکوں پر موجود ایسے گڑھوں کو دیکھتے ہیں، کڑھتے ہیں ہیں اور دل جلا کر گزرتے ہیں تو یہ سب کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ اس تحریر کو شیئر کریں تاکہ حساسیت بھی بڑھے اور متعلقہ اتھارٹی تک بات درست انداز سے پہنچے اور وہ بروقت عملی اقدامات کرسکیں۔ اگر اس پر عمل نہ بھی ہوا تو ان گڑھوں سے گزرتے ہوئے آپ کو طمانیت کا احساس ضرور ہو گا۔ شیئر کریں۔

 

Facebook Comments HS