صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 25 : آرزو


” کیوں کہ گزرے ہوئے وقت میں تم نے قوموں کی مرضی پوری کرنے میں بہت وقت گزارا ہے، جب کہ تم عیش پرستی، شہوت پرستی، شراب نوشی، نشے، عیاشی اور بت پرستی کے کاموں میں شامل رہے۔ “ 1 پطرس 3 : 4

مریم کا رُواں رُواں زندگی سے لبریز تھا۔ وہ زندگی کو چُسکیاں لے کر جُرعہ جُرعہ پیتی تھی اور اکثر کسی دانا کا قول دہراتی تھی کہ ”زندگی ایک پیاز کی طرح ہے۔ بس چھیلتے جاؤ تو ایک پرت کے بعد دوسری پرت اترتی جائے گی مگر اندر سے کچھ نہیں نکلے گا۔ تو پھر کیوں زندگی کو سنجیدگی سے لیا جائے؟“ وہ یہ کہہ کر زور سے قہقہہ لگاتی تھی۔ میں مریم سے متفق نہیں تھا مگر میرے پاس جواب بھی نہیں تھا کہ زندگی کو سنجیدگی سے کیوں نہ لیا جائے۔ کم از کم اس کی رفاقت میں تو سنجیدگی کو خیرباد کہنا ہی پڑتا تھا۔

یہ صرف وہی جان سکتے تھے جن کو مریم اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی کہ دراصل اس کی زندگی ایک کانٹوں بھری پگڈنڈی تھی جس پر وہ قدم قدم پر لہو لہان ہوتی آئی تھی اور اس کا جسم گہری خراشوں سے بھرا پڑا تھا، مگر مجال ہے کہ کوئی اس ہنستی مسکراتی، چلبلی سی لڑکی میں چھپی ہوئی زخمی روح، اور اس کے قہقہوں کی باز گشت میں اُس بے کراں کرب کو محسوس کرسکے جس میں اس کے بچپن کی اذیتوں کی کہانی چُھپی ہوئی تھی۔

مریم نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، اپنی ماں کا جھکا ہوا سر، کانپتے ہوئے ہاتھ اور آنسوؤں سے بھری آنکھیں ہی دیکھی تھیں۔ اگر اب بھی کوئی مریم سے اس کی ماں کا نام پوچھتا تو وہ میڈم نیلوفر ہی بتاتی تھی کیوں کہ وہ اسی نام سے پکاری جاتی تھی۔ مریم نہ صرف اس اسکول میں پڑھی تھی جس میں اس کی ماں پڑھاتی تھی بلکہ اسی اسکول میں پلی بڑھی بھی تھی۔ ایک مرتبہ اس کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ وہ آخری دن تک پڑھاتی رہی تھی اور جب اسے درد زہ شروع ہوا تو جیسے تیسے اس نے اپنی کلاسیں ختم کیں اور ہیڈ مسٹریس، میڈم روبینہ، اسے رکشہ میں بٹھا کر اسپتال لے گئیں جہاں اسی شام کو مریم پیدا ہوئی۔

جب مریم تین مہینے کی ہوئی تو میڈم نیلوفر واپس کام پر پہنچ گئیں۔ وہ مریم کو اسکول لے جاتی تھیں اور وہاں استانیوں نے مل کر اسے پالا۔ وہ اس کے دودھ کی بوتل گرم کرتیں، پوتڑے بدلتیں اور سلانے کے لیے تھپکتیں۔ اسکول کی لڑکیوں کے لیے بھی مریم ایک کھلونا تھی۔ جب وہ سال بھر کی ہوئی اور چلنا شروع کیا تو پورے اسکول میں بھاگی پھرتی تھی۔ خدا خدا کر کے وہ ڈھائی سال کی ہوئی تو اسے کنڈر گارٹن میں بٹھا دیا گیا اور کم ازکم اس کا ایک کلاس روم سے دوسرے کلاس روم میں بھاگے پھرنا بند ہو گیا۔

نیلوفر نے اپنے ایک کلاس فیلو سے شادی کی تھی جس کا نام جیمس تھا مگر جِم کہلاتا تھا اور غیر معمولی طور پر ذہین تھا۔ خواہ یونی ورسٹی میں کھیلوں کے مقابلے ہوں یا تقریری مقابلے، جم آگے آگے ہوتا تھا۔ پڑھائی ختم کرنے کے بعد جم کو ایک کونوینٹ اسکول میں ملازمت مل گئی اور نیلوفر اسی کے برابر لڑکیوں کے ایک اسکول میں پڑھانے لگی۔ شادی کے پہلے دو سال بڑی ہنسی خوشی گزرے مگر نیلوفر نے محسوس کیا کہ جم تھکا تھکا سا رہتا ہے۔ وزن بھی کم ہو رہا تھا اور بھوک بھی کم لگتی تھی۔ کبھی کئی کئی دن نیند نہیں آتی تھی اور کبھی پورا ویک اینڈ سونے میں گزر جاتا تھا۔ جب بھی نیلوفر نے اسے ڈاکٹر سے معائنہ کرانے کے لیے کہا تو اس نے سنجیدگی سے نہیں لیا۔ آخر نیلوفر نے محسوس کیا کہ جم کی طبیعت میں غصہ اور چڑچڑاپن بڑھ رہا تھا اور اس کی طبیعت میں نا امیدی پیدا ہو رہی تھی۔ کہاں تو وہ دنیا فتح کرنا چاہتا تھا اور اب مستقل یاسیت کا شکار رہتا تھا، اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک اٹھتا تھا۔ جب نیلوفر نے میڈم روبینہ سے تذکرہ کیا تو ان کا خیال تھا کہ جم منشیات استعمال کر رہا ہے۔

ابتدا میں نیلوفر کو یقین نہیں آیا مگر جب آئے دن وہ اپنے کام سے اس لیے غیر حاضر ہونے لگا کہ صبح کو وقت پر نہیں اٹھتا تھا تو نیلوفر کا شک یقین میں تبدیل ہونے لگا۔ آخر ایک دن اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔ نیلوفر کو یقین نہیں آتا تھا کہ جم وہی شخص ہے جس سے اس نے شادی کی تھی۔ منشیات کے بغیر وہ سخت بے چینی محسوس کرتا تھا اور نشے کے اثرات ختم ہونے کے بعد ڈپریشن کا شکار ہو جاتا تھا۔ چوں کہ اس کی ملازمت ختم ہو گئی تھی لہٰذا اسے مستقل پیسوں کی ضرورت رہتی تھی۔ نیلوفر کہاں تک اس کی ضرورت پوری کرتی۔ محلے کا کوئی فرد نہیں بچا تھا جس کا وہ مقروض نہ رہا ہو۔ ابتدا میں نیلوفر اس کا قرض چکاتی رہی مگر پھر اس نے پڑوسیوں کو سختی سے منع کر دیا کہ وہ اسے قرض نہ دیں کیوں کہ وہ اس کی ادائیگی نہیں کرے گی۔ اپنی عادت کا پیٹ بھرنے کے لیے جم کو کہیں نہ کہیں سے پیسوں کا انتظام تو کرنا تھا۔ چناں چہ اس نے اپنی چیزیں بیچنا شروع کر دیں۔ اس کی شادی پر نیلوفر کے والد نے اسے رولیکس کی گھڑی خرید کر دی تھی جسے اس نے بیچ دیا۔ اس کے بعد اپنی اسکوٹر بیچ دی، پھر نیلوفر کے زیورات چُرا کر بیچنا شروع کر دیے۔

اب جم بالکل اکیلا رہ گیا تھا۔ اس کے دیرینہ دوست اس سے دور ہوتے چلے گئے اور وہ سماجی طور پر تنہا ہو گیا۔ نشے کی لت نے اسے خود غرض بنا دیا تھا اور وہ ہر چیز کو اپنی نشے کی طلب کے تناظر میں دیکھتا تھا۔ یہ بات نہیں کہ اسے اپنی بے چارگی کا احساس نہیں تھا۔ اسے وہ دن یاد آتے تھے جب وہ اور نیلوفر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے علی الصبح پارک میں چہل قدمی کرتے تھے۔ جب وہ مریم کو گھر میں کھیلتا ہوا دیکھتا تو اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ دونوں بازو پھیلائے اور مریم دوڑ کر اس کے گلے لگ جائے، مگر وہ اپنی بیٹی کے لیے اجنبی تھا۔ وہ آئے دن فیصلہ کر لیتا کہ نشہ چھوڑ دے گا۔ خوابوں میں بھی وہ خود کو ہنستا بولتا اور دوستوں میں گِھرا ہوا دیکھتا مگر دو چار روز کے بعد ہی نشے کی طلب اس کے فیصلے پر غالب آجاتی اور وہ اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا۔

جوں جوں اسکول سے چھٹی کا وقت قریب آتا، نیلوفر پر ذہنی دباؤ بڑھتا جاتا۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ دن کے چوبیس گھنٹے اسکول میں ہی گزارتی۔ گھر میں یا تو جم سوتا ہوا ملتا تھا، یا اس پر دیوانگی سوار ہوتی تھی۔ جب وہ گھر میں داخل ہوتی اور جم وہاں نہ ہوتا تو اطمینان کا سانس لیتی۔ اب تو وہ کئی کئی دن گھر سے باہر گزارتا تھا۔ جب اس کی طلب اتنی بڑھ جاتی کہ منشیات کے اڈے سے اپنی خوراک خرید کر گھر تک آنے کا صبر نہ ہوتا تو وہیں ایک صوفے پر پڑ جاتا۔ اکثر جب نیلوفر گھر پہنچتی اور بیڈ روم میں جاکر دیکھتی کہ جم سو رہا ہے تو دیر تک وہاں کھڑی ہوئی اسے گھورتی رہتی۔ کیا یہ وہی جم تھا جسے اس نے اپنا زندگی کا ساتھی بنایا تھا۔ وہ سوچتی رہتی اور اس کے آنسو بہتے رہتے، ”جم، خدا کے لیے تم واپس آ جاؤ۔ تمہارے بغیر میں بالکل اکیلی ہو گئی ہوں،“ مگر جم تک اس کی خاموش صدائیں کہاں پہنچتیں۔

جب گھر میں بیچنے کے لیے کچھ باقی نہ بچا تو جم کی توجہ نیلوفر کی طرف گئی کیوں کہ اب پیسوں کے لیے وہی واحد ذریعہ بچی تھی۔ نیلوفر کی تنخواہ اتنی نہیں تھی کہ وہ اپنے شوہر کے نشے کی کفالت کرسکے، لہٰذا جم تشدد پر اتر آیا اور مار پیٹ شروع کردی۔ وہ آئے دن کسی نہ کسی بہانے سے نیلوفر پر غصہ نکالتا تھا۔ راتوں کو مریم، جو اب پانچ سال کی ہو گئی تھی، سوتے سوتے اپنی ماں کی چیخوں کی آواز سے جاگ جاتی، اور اپنے بستر میں پڑی خوف سے کانپتی رہتی۔

نیلوفر اگر چاہتی تو جم سے چھٹکارا حاصل کر سکتی تھی مگر اس کی سب سے بڑی کم زوری اس کی بیٹی تھی۔ وہ یہ سوچ کر پیچھے ہٹ جاتی تھی کہ کہیں اس کی بیٹی بڑی ہو کر اسے مورد الزام نہ ٹھہرائے کہ اس نے اسے باپ سے محروم کر دیا، لہٰذا اس نے خود کو اس اذیت میں جھونک دیا۔

ایک رات جب جم نے مریم کے سامنے اس کی ماں کا بازو پکڑ کر مروڑا تو مریم دوڑ کر ایک مضبوط چٹان کی طرح اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی اور انگلی سے اس کی طرف اشارہ کر کے چیخی، ”بس، اب اور نہیں۔“ جم نے نظریں جھکا کر اپنی پانچ سالہ بیٹی کی طرف دیکھا تو اس کی انگلی اب بھی باپ کی طرف اٹھی ہوئی تھی اور اس کی آنکھوں میں نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ جب تک مریم کی انگلی اس کی طرف اٹھی رہی تب تک اس پر سکتہ سا طاری رہا اور پھر جھک کر اپنا کوٹ اٹھایا اور اسے کندھے پر ڈال کر اپنی بیوی اور بیٹی کی زندگیوں سے نکل گیا۔

برآمدے میں جم کی ایک تصویر لگی تھی جس میں وہ یونی ورسٹی میں جلسۂ تقسیم اسناد کے موقع پر گریجویشن گاؤن پہنے، ایک ہاتھ میں اپنی ڈگری اور دوسرے ہاتھ میں ایک خوب صورت گلدستہ لیے کھڑا ہوا مسکرا رہا تھا۔ وہ طویل القامت اور وجیہہ نوجوان تھا۔ مریم جب بھی ادھر سے گزرتی تھی، وہاں کھڑے ہو کر دیر تک اس تصویر کو گھورتی رہتی تھی۔ اب بھی جب کبھی وہ اپنے باپ کے متعلق سوچتی ہے تو وہی تصویر اس کے سامنے آجاتی ہے۔ اسے یقین ہے کہ ایک نہ ایک دن وہ اپنا گریجویشن گاؤن پہنے، ایک ہاتھ میں اپنی ڈگری اور دوسرے میں گل دستہ تھامے مسکراتا ہوا گھر میں داخل ہو گا۔ اس وقت غیر ارادی طور پر اس کی نظریں دروازے کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔

Facebook Comments HS