ایک سوال ایک جواب۔ مذہبی مجمع بازی
سوال: کیا وجہ ہے کہ ذاکر نائیک کو سننے کے لیے لاکھوں لوگوں کا مجمع اکٹھا ہوجاتا ہے جبکہ کسی سیکولر دانشور کو سننے کے لیے مختصر تعداد میں حاضرین پائے جاتے ہیں؟
(شجعیہ بلند)
جواب: شجعیہ، اگر ہم براہ راست ذاکر نائیک کو پوائنٹ آؤٹ کرنے کے بجائے کسی بھی مذہبی مقرر، گرو یا پنڈت کی بات کریں تو اس بات کا عمومی جواب تو یہی ہے کہ کیونکہ مذہب نسبتاً زیادہ آبادی کا سماجی، سیاسی اور نفسیاتی مسئلہ ہے اس لیے لوگوں کی زیادہ آبادی ایسے اجتماعات میں شرکت کرتی ہے، یہ معاملہ ہمیں مشرقی دنیا میں زیادہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ مشرقی دنیا کے معاشروں میں الہامی یا وجدانی یعنی انٹیو ٹیو فکر کا زیادہ ارتقا ہوا ہے اور وجہ اس کی یہی ہے کہ ہزاروں برس قبل مذاہب کی پیدائش کے بنیادی مراکز مڈل ایسٹ، ہندوستان اور چائنہ وغیرہ رہے ہیں جبکہ مغربی دنیا میں خصوصاً پچھلے پانچ چھ سو برسوں میں عقلی اور منطقی یعنی ریشنل شعور تیزی سے بیدار ہوتا چلا گیا ہے اس لیے اب اس قسم کا مجمع ہمیں مغرب میں عموماً دکھائی نہیں دیتا ہے۔
اچھا سوال یہ بھی ہے کہ بقیہ مشرقی دنیا یعنی مڈل ایسٹ، انڈونیشیا یا ملائشیا وغیرہ کے مقابلے میں ہندوستان اور پاکستان میں اس قسم کے تماشے اس قدر زیادہ کیوں ہیں تو اس کی سادا سی وجہ عوام الناس کی اقتصادی بدحالی، مذہبی اور سیاسی اداروں کا اس فکر کا اپنے مقاصد کے لیے بے تحاشہ استعمال اور کمزور ترین سماجی ڈھانچے کے نتائج کی وجہ سے تربیت پانے والی ایک عمومی غیر صحت مندانہ عوامی نفسیات اور فلاسفیکل اور سائنسی فکر کا فقدان بھی ہے۔
جہاں تک ذاکر نائیک یا اس قسم کے قبیل کے مقررین وغیرہ کا تعلق ہے اس میں ان حضرات کی اپنی کرازیمیٹک شخصیت اور علم و ہنر کا بھی کردار ہے۔ عمومی طور پر عوام الناس ایسے لوگوں کے اردگرد زیادہ جمع ہوتی ہے جو اختلافی اور چیلنجنگ موضوعات پر زیادہ باتیں کرتے ہیں یا پھر ایسے موضوعات جن سے عوام میں ایک برتری کا احساس پیدا ہو یا فوقیت اور غالب ہونے کے انہیں امکانات نظر آئیں اور ایسے موضوعات بھی جن سے ان کی صدیوں پرانی ان ڈوکٹرینیٹڈ فکر کو سہارا مل سکے اور ایمانی فکر کی موجودگی یا استحکام کو بھی سہارا ملے۔ اس لحاظ سے ان موضوعات کی ترتیب اور الہامی کتابوں کے حوالوں اور مخصوص طرز بیانات سے اس قسم کے مذہبی مقررین خود کو خوب ہی محنت سے تیار کرتے ہیں اور اپنی تقاریر کو وزنی اور پر دلیل بنانے کے لیے سخت ذہنی مشقت بھی کرتے ہیں۔ اس مشق کے دوران وہ اپنی اچھی اور تربیت یافتہ یاداشت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہوتا ہے کہ عوام الناس کی فکری ڈاینمکس محدود ہوتی ہے اور وہ محض یاداشت یا میمورائزیشن کو ہی ذہانت کا معیار سمجھتے ہیں اس لیے بھی وہ اس رٹنے اور بیان کے انداز وغیرہ پر خاص توجہ کرتے ہیں اور برملا الہامی کتب کے حوالوں سے مخالف مباحث کے لوگوں کو لاجواب کرنے کے لیے بطور دلیل ہتھیار کے طور پر انہیں استعمال کرتے ہیں۔
عمومی طور پر عوام و الناس اپنی حیوانی طبیعت میں فطری طور پر جارحانہ ہوتی ہے اس لیے بھی اپنے مقررین کا جارحانہ انداز اور سیلف سینٹرل قسم کا تکلم ان کی اس نفسیاتی انسٹکنٹ کی پیاس بجھاتا ہے اور وہ اسے انٹر ٹینمنٹ لیول پر لے کر انجوائے کرتے ہیں اور یوں اس قسم کے مقررین کے سامعین اور قارئین کی تعداد ایک ہرٹ مینٹیلٹی (ایک دوسرے کے پیچھے بلائنڈ لی) کے بدولت لاکھوں تک پہنچتی چلی جاتی ہے، ظاہر ہے اس دوران عوام کا مجمع بڑھانے کے لیے اشتہاری اور میڈیا تکنیک بھی استعمال ہوتی رہتی ہے اور کیریکٹر ایکٹرز بھی استعمال کیے جاتے ہیں جیسا کہ سیاسی اجتماع وغیرہ میں اکثر ہوتا رہتا ہے۔
آپ کے سوال کا آخری حصہ سیکولر یا غیر مذہبی دانشوروں کو سننے والی کم تعداد کے حوالے سے ہے تو اس سلسلے میں میرا خیال یہی ہے کہ مذہبی مقررین کی فکری سطح میٹا فزیکل موضوعات پر بھی فزیکل حد تک ہوتی ہے اور سیکولر دانشوروں کی فکری سطح فزیکل موضوعات پر بھی میٹا فزیکل حد تک ہوتی ہے اور کیونکہ عوام الناس فزیکل حد سے آگے سوچنے کے لائق نہیں ہوتے ہیں اس لیے ان کی تعداد سیکولر دانشوران کے اردگرد کم کم دکھائی دیتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک عام سی مثال دی جا سکتی ہے مثلاً اگر آپ کسی مذہبی مقرر سے موسیقی، مجسمہ سازی، شاعری یا کسی بھی فنون لطیفہ کی مذہبی حیثیت دریافت کرنا چاہیں تو وہ اس کی تفصیل ایک فزیکل حد تک ہی بیان کر پاتے ہیں کیونکہ بچپن سے لڑکپن تک کی الہامی کتب کی انڈیکٹوریشن یا بقول کیسے دماغوں میں مذہبی کیل ٹھک جانے کے سبب سے وہ محض لفظی تعریف یا دو جمع دو چار سے آگے نہیں بڑھ کر نہیں کہہ پاتے ہیں یعنی وہ بس یہی کہتے ہیں کہ موسیقی یا شاعری دراصل فلاں فلاں آیت کی وجہ سے منع ہے اور یہ کہ اس قسم کے آرٹ میں ایک سر مستی کی سی کیفیت کی گنجائش ہے اور خدا سے انکار یا محبوب کے حوالے سے بے جا تعریف بلکہ شرک تک کے امکانات تک کا بھی اس میں خطرہ ہے اسی لیے یہ علوم مذہب میں سراسر حرام ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ایک سیکولر ذہن کا دانشور فائن آرٹ جیسے موضوعات کو فلسفیانہ اور مذہبی انداز انداز میں بھی اس کی گہرائیوں اور گیرایوں کو پھیلاتا چلا جائے گا اور ان میں نت نئے ڈاینمکس سے تخلیقی تجربات بھی کرتا چلا جائے گا۔
کیونکہ تخلیق بذات خود ایک الہامی یا میٹا فزیکل جوہر ہے اس لیے مذہبی اذہان یا رہنماؤں کے لیے یہ تجربہ صرف خدا یا ایشور کی ذات تک ہی ایمانی اعتبار سے محدود ہے اسی وجہ سے عام مذہبی معاشروں میں خصوصاً فنون لطیفہ وغیرہ میں نت نئے تخلیقی تجربات کا عمل قدرے کمزور رہ جاتا ہے کیونکہ عمومی مقلدین اور پیروی کرنے والی تابع عوام کی فکر اپنے مذہبی عالموں اور مقررین کی طرح بالآخر فزیکل حدود سے آگے سوچنے کے لائق نہیں رہ پاتی ہے، اس لیے بھی مذہبی خصوصاً مسلم معاشروں میں سیکولر یا منطقی ذہنوں والے مفکرین کے سامعین عوام کی تعداد محدود پائی جاتی ہے کیونکہ وہ سطحی اور آسان باتوں سے جلدی متاثر ہو جاتے ہیں اور تقریر اور بیان میں الہامی حوالوں کی گردان سے آسانی سے مطمئن ہو جاتے ہیں اور خود کو ایک مستقل سے کمفرٹ ذہنی زون میں پاتے ہیں۔
یہ بات سچ ہے کہ عوام الناس کی بڑی تعداد ہمیشہ سے ایک سیاسی و سماجی قوت ہوتی ہے اور اِس کی بہت زیادہ اقتصادی اہمیت بھی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ کمرشل ازم کے اس دور میں مذہبی مجمع بازی ایک بہت ہی منافع بخش قسم کا کاروبار ہے جو منطقی طرز کے عقلیت پسند دانشوروں کے لیے سراسر انٹیلیکچوئل بے ایمانی کے زمرے میں آتا ہے اسی لیے عقلیت پسند یا ریشنل دانشور کے پاس سنجیدہ موضوعات پر وسیع تر تحقیقاتی کام تو ہمیں اکثر و بیشتر ملتا ہے مگر مجمع بازی یا سطحی جملے بازی قطعی دکھائی نہیں دیتی ہے۔


