فالج (سٹروک) کی اقسام، علامات اور بچاؤ


muhammad salim gujranwala

ہر سال 29 اکتوبر کو فالج سے آگاہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے جس کا مقصد لوگوں کو اس مرض کی علامات، خطرناکی، علاج اور اس سے بچاؤ کے متعلق احتیاطی تدابیر سے علم و شعور اور آگاہی دینا ہوتا ہے۔

فالج کا پہلا عالمی یوم 29 اکتوبر 2004 کو کینیڈا کے شہر وینکوور میں ایک طبی کانفرنس میں منایا گیا تھا جس کا مقصد فالج کے بڑھتے ہوئے خطرات کو کم کرنے اور علاج و معالجہ اور احتیاطی تدابیر میں بہتری لانے کی کوششوں کو تیز تر کرنا تھا۔

فالج دنیا بھر میں اموات کی پانچویں بڑی وجہ ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں فالج کے مریضوں کی تعداد اور اس کے باعث انسانی اموات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں فالج کے کل مریضوں کی تعداد تین کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ فالج کا مرض جسمانی معذوری کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ پاکستان سٹروک سوسائٹی کے صدر اور آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے پروفیسر واسع کے مطابق پاکستان میں ہر چار سو افراد کو روزانہ فالج کا حملہ ہوتا ہے جس میں سے کچھ افراد کی فوری اموات ہو جاتی ہیں اور باقی ماندہ افراد زندگی بھر کے لیے جسمانی معذوری اور ذہنی پس ماندگی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دیہات میں رہنے والوں کی نسبت شہروں میں رہنے والے افراد کو فالج ہونے کے بعد بہت جلد ابتدائی طبی امداد کی سہولت میسر ہو جاتی ہے جب کہ دیہات میں رہنے والے لوگ جلد ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے باعث جسمانی معذوری سمیت دیگر پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

دماغی فالج تین طرح سے ہوتا ہے۔

ایک میں دماغ کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں سے کسی ایک شریان میں خون کا لوتھڑا جم کر دماغ کے اس حصے کو خون اور آکسیجن کی فراہمی بند کر دیتا ہے جس کے باعث اس حصے کے دماغی خلیات کام کرنا بند کر دیتے ہیں جس کی وجہ جسم کا وہ حصہ جس کو یہ دماغی حصہ متحرک اور فعال رکھتا ہے، مفلوج ہو جاتا ہے۔ اس فالج کو بندش خون یا اسکیمک فالج کہتے ہیں

دوسرے فالج میں بلند فشار خون کے باعث دماغ کو خون مہیا کرنے والی باریک باریک شریانوں میں سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ شریانیں پھٹ جاتی ہیں جس سے دماغ میں سیلان خون ہو جاتا ہے۔

اس دماغی فالج میں دماغ کی جھلی کے اوپر، جھلی کے درمیان اور دماغی خلیات میں خون جمع ہو جاتا ہے جنھیں بالترتیب ایپی ڈیورل، سب ڈیورل ہیماٹوما اور انٹرا سیریبیلر ہیمرج کہتے ہیں۔ اس فالج کو ہیمرجک یا سیلان خون کا فالج کہتے ہیں۔ اس فالج کے جسمانی اثرات بھی وہ ہی ہوتے ہیں جو اسکیمک فالج کے ہوتے ہیں۔

فالج کی ایک تیسری قسم بھی ہے جس کو ہلکا اور ختم ہونے والا فالج کہتے ہیں۔ اس میں دل میں سے کوئی چھوٹا سا خون کا لوتھڑا دماغی شریانوں میں چلا جاتا ہے، وقتی پر آنکھوں میں اندھیرا اور تھوڑی سی جسمانی کمزوری ہو جاتی ہے لیکن جلد ہی یہ خونی لوتھڑا پتلا ہو کر خون میں شامل ہو جاتا ہے اور انسان پورے فالج اور جسمانی معذوری سے بچ جاتا ہے۔ لیکن اگر ایسے فالجی حملے یکے بعد دیگرے ہوتے رہیں تو وہ مکمل فالج کا باعث بن جاتے ہیں۔

دماغی اعصاب اور بافتیں دماغ کے نچلے حصے سے دائیں اور بائیں طرف تقسیم ہو جاتی ہیں۔ یہ تقسیم الٹی ہوتی ہے۔ یعنی دائیں طرف کے اعصاب اور بافتیں بائیں طرف اور دائیں طرف کے اعصاب اور بافتیں بائیں طرف ہو جاتے ہیں۔ اس لیے اس تقسیم سے اوپر اگر دائیں طرف کا دماغ متاثر ہو تو اس کے اثرات جسم کے بائیں جانب کے بازو اور ٹانگ پر ہوں گے اور اسی طرح اگر بائیں طرف کا دماغ متاثر ہو تو دائیں جانب کے بازو اور ٹانگ مفلوج ہوں گے۔ دماغی خلیات کو اگر کچھ دیر کے لیے بھی خون یا آکسیجن کی فراہمی بند ہو جائے تو ان خلیوں کی دوبارہ فعالیت نہیں ہوتی ہے۔ جس سے ہمیشہ کی جسمانی معذوری لاحق ہو جاتی ہے۔

ہمارا طرز حیات جدت کے باعث تبدیل ہونے سے ہماری جسمانی نقل و حرکت انتہائی سست یا کم ہو گئی ہے۔ جس سے وزن بڑھنے، فشار خون بلند ہونے اور دل کی بیماریاں زیادہ ہونے کے امکانات ہو گئے ہیں۔ ہماری خوراک میں چکنائیوں اور میٹھے کا استعمال زیادہ ہو گیا ہے اور ہمارے خون کے اندر چکنائیوں اور میٹھے کی مقدار کی سطح بہت بڑھ گئی ہے۔ ان وجوہات کے باعث اب تو نوجوانی میں بھی فالج ہونے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

فالج ہونے سے دو تین ہفتے پہلے ہی اس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جن میں چیزیں دو دو نظر آنا، سر درد، ہاتھ، پاؤں یا جسم کے کسی بھی حصے کا سن ہو جانا یا کمزوری کا احساس ہونا اور یاداشت میں کمی جیسے معاملات درپیش آ سکتے ہیں۔ اگر کسی شخص کو حملہ فالج ہو جائے تو اسے فوراً کسی قریبی سرکاری یا نجی ہسپتال میں منتقل کیا جائے تاکہ اس مریض کی فوری تشخیص و علاج شروع کر کے اسے عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔ ہر ضلعی ہسپتال میں فالج کے مریضوں کو معذوری سے بچانے کے لیے خون کے لوتھڑے کو ختم کرنے یا پتلا کرنے کے انجیکشن موجود ہوتے ہیں۔

فالج سے بچاؤ کے لیے کم چکنائی والی خوراک کھانی چاہیے۔ ذیابیطس کو قابو میں رکھا جائے۔ فشار خون کو مقررہ حد سے نہ بڑھنے دیا جائے۔ دل کی دھڑکن کو باقاعدہ رکھا جائے، اگر یہ بے قائدہ ہو جائے تو دل میں خونی لوتھڑے بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو دماغی شریانوں کو بند کر کے حملہ فالج کر سکتے ہیں۔ ہفتے میں تین بار ورزش کی جائے۔ اپنے خون میں چربی کی سطح کو کم سے کم رکھا جائے۔ فشار خون کو قابو میں رکھنے کے لیے عالمی معیار کے مطابق ایک بالغ انسان کو روزانہ آدھا چائے کے چمچ سے زائد مقدار میں نمک کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اگر ضرورت پڑے تو خون میں چربی کم کرنے اور اس کو پتلا کرنے کی ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنی چاہیے۔

Facebook Comments HS