ڈیموکریٹ پارٹی مسلم ووٹر کیوں کھو چکی ہے؟


دنیا میں جمہوریت تیزی سے خاص طور پر یورپی ممالک میں پھیلی۔ اس جمہوریت کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں جو ملک و عوام کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی رہی۔ امریکہ دنیا کا سپر پاور اور ترقیاتی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں اس وقت صرف دو سیاسی پارٹیاں انتخاب میں حصہ لیتی ہیں اس میں ایک ریپبلکن پارٹی جبکہ دوسری ڈیموکریٹ پارٹی ہے۔ ریپبلکن پارٹی 1854 میں وجود میں آئی۔ اس کا بنیادی مقصد غلامی کا خاتمہ اور آزاد مزدوروں کی حمایت تھا جبکہ ڈیموکریٹ پارٹی 1828 میں وجود میں آئی۔ اس کا نقطہ نظر اقتصادی عدم مساوات کے خلاف اور عام لوگوں کی حقوق کی حمایت ہے۔ 5 نومبر 2024 کو ہونے والے انتخابات میں دونوں پارٹیوں کے رہنما آمنے سامنے ہیں جس میں ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما اور موجودہ وائس پریزیڈنٹ کملا ہیرس جبکہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ شامل ہیں۔

ڈیموکریٹ پارٹی کو زیادہ تر مسلم کمیونٹی کئی دہائیوں سے ووٹ دیتی آ رہی ہے۔ امریکہ میں مسلم تنظیموں کے مطابق مسلم کمیونٹی کے تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ کے قریب مسلم آبادی ہے۔ ماضی میں مسلم ووٹروں نے 2008 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے امیدوار اوباما کو % 80 ووٹ دیے جبکہ دوسری بار صدارتی انتخابات میں اوباما کو 92 % ووٹ ملے اور وہ ملک کے دوسرے بار صدر بنے۔ 2016 میں ڈیموکریٹ پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن کو % 65 ووٹ ملے۔ 2020 کے انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کے موجودہ صدر جو بائیڈن کو % 80 مسلم کمیونٹی کے ووٹ ملے مگر اس بار ڈیموکریٹ پارٹی خطرہ سے دو چار ہے۔ ماضی کے برعکس اس انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کافی حد تک مسلم ووٹر کھو چکی ہے۔ اس کی وجہ غزہ وار جو ایک سال سے جاری ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی کے بہت سارے اہم رہنما اسرائیل کی حمایت میں کھڑے نظر آئے خود صدر جو بائیڈن حماس اور اسرائیل تنازع کے دوران سب سے پہلے صدر ہیں جنہوں نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیل کو اپنے مکمل سیاسی اور فوجی حمایت کا یقین دلایا۔

ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اسرائیل کو % 65 اسلحہ فراہم کرتا ہے۔ سات اکتوبر کے حماس حملوں کے بعد اسرائیل کے 1200 افراد جبکہ ایک سال سے جنگ میں 42 ہزار سے زیادہ شہری فلسطینی جان بحق ہو گئے۔ اس سے پہلے 9 / 11، افغانستان وار، عراق وار، شام اور لیبیا کے حملوں کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کو مکمل مسلم ووٹر کی حمایت حاصل رہی۔ مگر اب امریکہ میں مسلم کمیونٹی کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے انتظامیہ نے ان کے نظریات اور جذبات کو نظر انداز کیا۔ مسلم ووٹر کے علاوہ اور بھی امریکی کمیونٹیوں کا ووٹ شاید اس بار ڈیموکریٹ کو نہ ملے۔ جبکہ طرف ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ صدر بنتے ہیں تو یوکرین اور غزہ کی جنگ کو ختم کر دیں گے۔ جس سے ڈیموکریٹ پارٹی کے مسلم ووٹر ریپبلکن کو ووٹ ڈالیں گے۔ جبکہ بہت سارے مسلم ووٹر اس بار ڈیموکریٹ پارٹی کو ووٹ ہی نہ ڈالیں اور کچھ مسلم کمیونٹی کے لوگ تیسری پارٹی گرین پارٹی کے امیدوار جل اسٹین کے حق میں ووٹ ڈالیں گے اور یوں ڈیموکریٹک پارٹی کا مسلم ووٹ تین جگہوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ یہ ڈیموکریٹ پارٹی کے لیے ایک لمحہ فکر اور شکست کی جانب ایک قدم ہے۔

 

Facebook Comments HS