کے ایف سی گلوبل کے سربراہ بننے والے پاکستانی صابر سمیع

اگر کبھی ہمیں خبر مل جائے کہ ہندوستان سے کوئی بندہ کے ایف سی کا سی ای او بن گیا ہے، تو ہماری قوم اس کا اتنا شور مچاتی ہے کہ لگتا ہے اب پاکستان پیچھے رہ گیا ہے اور بھارت چاند پر پہنچ گیا۔ ”دیکھو بھئی! ہندوستان والے ہم سے کتنے آگے نکل گئے ہیں“ جیسے جملے ہر طرف سنائی دیتے ہیں۔ یہ انگریزی ”بریکنگ نیوز“ بن جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر وائرل، کہ ہماری قومی خودداری کا سوال پیدا ہو گیا ہے۔
لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کراچی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ایک پاکستانی، صابر سمیع، نہ صرف پاکستان میں بلکہ کے ایف سی کی عالمی سطح پر سی ای او بن چکے ہیں۔ یہ تو کوئی معمولی بات نہیں ہے! ایک پاکستانی، عالمی سطح پر ایسی بڑی کمپنی کی قیادت کر رہا ہے، لیکن افسوس ہے کہ اس کی کوئی ”بریکنگ نیوز“ یا سوشل میڈیا پر شور و غل نہیں ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہم اس وقت مناہل ملک کے کلپ ڈھونڈ رہے ہیں اور ہر قسم کے چھوٹے اور بے معنی جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں اور فضول میں ٹائم ضائع کر رہے ہیں
صابر سمیع کی کامیابی کا سفر آسان نہ تھا۔ انہوں نے کراچی یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی اور پھر آئی بی اے کراچی سے مارکیٹنگ کی تعلیم مکمل کی۔ اپنی تعلیمی بنیاد کے بعد ، انہوں نے مختلف اہم عہدوں پر کام کرتے ہوئے خود کو ثابت کیا۔ صابر نے کے ایف سی ایشیا کے منیجنگ ڈائریکٹر اور کے ایف سی ڈویژن کے چیف آپریٹنگ افسر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ان کے اس عزم اور مستقل مزاجی نے انہیں جنوری 2022 میں کے ایف سی کے عالمی سی ای او کے عہدے تک پہنچا دیا۔ یہ ان کے لیے اور پاکستان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ ان کی کامیابی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محنت، لگن اور عزم کے ساتھ پاکستانی نوجوان بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
یہ بات اس لئے بھی افسوسناک ہے کہ ہمارے معاشرے میں ٹیکنالوجی، سائنس اور مہارت میں آگے بڑھنے والے لوگوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، جبکہ دوسری جانب ٹک ٹاکرز، یوٹیوبرز اور وائرل ہونے کی بھوک رکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کو استعمال کرنے کا مقصد صرف تفریح اور وقتی شہرت تک محدود کر دیا ہے۔ اگر ہم صابر سمیع جیسے قابل افراد کو عزت اور محبت دیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں تو شاید ہمارے نوجوانوں کو بھی ترغیب ملے کہ وہ محنت اور ایمانداری کے ساتھ دنیا میں اپنی شناخت بنائیں۔
صابر سمیع کا کے ایف سی کی قیادت کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کے ایف سی جیسے بین الاقوامی ادارے بھی پاکستانی ٹیلنٹ اور قابلیت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے نوجوانوں کے لیے ایک پیغام ہے کہ اگر آپ میں عزم، مہارت اور ثابت قدمی ہو تو آپ کسی بھی شعبے میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ صابر کی یہ کامیابی ہمارے معاشرتی رویوں پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتی ہے کہ آخر ہم کب تک صرف دوسرے ممالک کے لوگوں کی کامیابیوں کو سراہتے رہیں گے؟ اپنے لوگوں کو اہمیت دینا کب سیکھیں گے؟
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہماری قوم کیوں کسی پاکستانی کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے کتراتی ہے؟ کیوں ہم اپنے لوگوں کو سراہنے کے بجائے شک و شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں؟ یہ رویہ ہمارے معاشرے کی پسماندگی اور عدم اعتماد کا ثبوت ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نوجوان نسل عالمی سطح پر کامیاب ہو تو ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ انہیں مواقع فراہم کرنا ہوں گے تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کر سکیں۔
آخر کار، ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی پہچان بنانا اور پاکستانی ٹیلنٹ کو ابھارنا نہایت ضروری ہے۔ ہمیں ایک قوم بن کر اپنے قابل اور محنتی لوگوں کو سراہنا چاہیے تاکہ دوسرے ممالک میں بھی ہمارا وقار بلند ہو۔ جب ہم اپنے لوگوں کی کامیابیوں کو اپنی کامیابی سمجھنے لگیں گے، تو ہمیں کسی دوسرے ملک کی کامیابیوں کا موازنہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
کیا ہم میں اتنی بصیرت اور ہمّت ہے کہ ہم صابر سمیع جیسے افراد کو سراہ کر ان کے راستے پر چلیں؟
