شورش کاشمیری ؒکی یادیں پارٹ 1۔


نام عبدالکریم لیکن شہرت پائی آغا شورش کاشمیری ؒکے قلمی نام سے۔ ان کا جنم 14 اگست 1917 ء کا لاہور میں ہوا اور 25 اکتوبر 1975 ء کو اسی شہر میں پائی ان کا مدفن میانی صاحب کا شہر آفاق قبرستان ہے جس میں ملک کی اہم شخصیات ابدی نیند سو رہی ہیں۔ لاہور پنجاب کا دل ہے۔ آغا شورش کاشمیریؒ کی پوری زندگی لاہور کی ہنگامہ خیز سیاسی زندگی میں گزری لاہور کی ہنگامہ خیزیوں کا ذکر آغا شورش کاشمیریؒ کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔

آغا صاحب کی 49 ویں برسی خاموشی سے گزر گئی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور اور راولپنڈی اسلام آباد یونین جرنلسٹس دستور کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں تقریب کے سوا کوئی تعزیتی ریفرنس یا دعائیہ تقریب منعقد نہیں ہوئی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دور حاضر میں پیشہ صحافت سے وابستہ افراد نے اکابرین صحافت کو فراموش کر دیا ہے بلکہ نوجوان صحافیوں کو صحافت کے دمکتے ستروں کے بارے میں کچھ علم نہیں۔ آغا شورش کاشمیری ؒ جیسے بلند پایہ صحافی صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں۔ بر صغیر پاک و ہند میں اردو صحافت آغا شورش کاشمیری کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ آغا شورش کاشمیری ؒ میر خلیل الرحمن ؒ اور حمید نظامیؒ کے ہم عصر تھے۔ اندرون و بیرون ملک دوروں میں ان کی اکٹھی تصاویر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آسمان صحافت پر یہ تینوں شخصیات چھائی ہوئی رہیں۔

میرا زمانہ طالبعلمی آغا شورش کاشمیریؒ سے اس وقت تعلق پیدا ہوا جب ایوب خان کے خلاف تحریک عروج پر تھی اور ہم طالبعلم رہنما کی حیثیت سے اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔ یہ تعلق خاص آغا صاحب کی وفات کے بعد ان کے خاندان سے آج بھی قائم ہے۔ غالباً 1969 میں آغا شورش کاشمیری سے میکلوڈ روڈ لاہور میں واقع ہفت روزہ چٹان کے دفتر پہلی ملاقات ہوئی شیخ رشید احمد (سابق وفاقی وزیر) اور میں نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام لیاقت باغ میں جلسہ عام کا اہتمام کیا جس سے آغا شورش کاشمیری ؒ اور مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے خطاب کیا آغا شورش کاشمیری ؒ نے رات دار العلوم تعلیم القرآن کے مہمان خانہ میں قیام کیا یہیں سے آغا صاحب سے تعلق قائم ہوا میں نے جلسہ کی روداد ہفت روزہ چٹان کو بھجوانے کی خواہش کا اظہار کیا تو آغا صاحب نے اگلے ہفتہ میرے نام سے ہفت روزہ چٹان میں کالم تحریر کر دیا جس کے بعد میں کئی سال تک باقاعدگی سے ہفت روزہ چٹان کے لئے اسلام آباد کی سیاسی ڈائری اور انٹرویوز لکھتا رہا۔ آغا شورش کاشمیری ؒ کے دور میں ہفت روزہ صحافت عروج پر تھی۔ آغا شورش کاشمیری جہاں بلند پایہ خطیب تھے۔ وہاں ہفت روزہ ”چٹان“ میں شائع ہونے والے اداریوں اور ملکی سیاسی صورت حال پر ان کی نظموں کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوتی تھی۔

اگرچہ آغا شورش کاشمیریؒ نے اپنے سیاسی کیریر کا آغاز مجلس احرار سے کیا انگریز سے آزادی کے لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اپنے لئے اسلام اور نظریہ پاکستان کے قلعے کے محافظ کا رول پسند کیا وہ اسلام اور پاکستان دشمن عناصر کے خلاف شمشیر برہنہ تھے۔ ہر مسلمان کے لئے عاشق رسولﷺ ہونا لازمی امر ہے لیکن آغا شورش کاشمیری ؒ عمر بھر قادیانیت کے خلاف سرگرم عمل رہے بالآخر انہوں نے 7 ستمبر 2024 ء کو قادیانیوں کو دوسری آئینی ترمیم کے ذریعے آئین پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دلوا دیا قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوانے میں جہاں اس وقت کی پارلیمنٹ کا کلیدی کردار ہے لیکن آغا شورش کاشمیریؒ واحد شخصیت ہیں جنہوں نے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لئے آئینی ترمیم منظور کرانے پر آمادہ کیا اور آئینی ترمیم کی توثیق کرتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو نے تاریخی کلمات کہے ”میں آج اپنے موت کے پروانہ پر دستخط کر رہا ہوں“ ۔

آغا صاحب ؒبیک وقت صحافی، شاعر، خطیب اور سیاست دان تھے۔ ان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں تھی لیکن دائیں بازو کی ہر سیاسی جماعت اور دینی جماعت کے منتظمین ان کی تقاریر کو جلسہ کی کامیابی تصور کرتے تھے۔ ان کے جلسوں میں سامعین لائے نہیں جاتے تھے بلکہ پورا شہر ان کی تقریر سننے کے لئے امڈ آتا تھا۔ آغا صاحب نے کم و بیش 31 کتب تحریر کیں جن میں پس دیوار زندان، ابوالکلام آزاد، میاں افتخار الدین، چہرے، حمید نظامی، چہ قلندرانہ گفتم، اس بازار میں، اقبال اور قادیانیت، یورپ میں چار ہفتے، سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ، خطبات آزاد، موت سے واپسی کے نام نمایاں ہیں۔

آغا شورش کاشمیری قادر الکلام شاعر تھے۔ بیٹھے بیٹھے غزل و نظم کی آمد ہوتی ان کی مشہور نظموں میں سے دو چار کا ذکر کروں گا۔ ان میں اقبال سے ہمکلامی، خطیب اعظم سید عطا اللہ شاہ بخاری ؒ، کھیل، معلوم کیوں نہیں، ہجر و وصال، ذرا صبر! ، خدا کے فضل سے حوروں کے، گفتنی نا گفتنی، آنکھیں میری باقی ان کا، دو مشورے، سہیلی بوجھ پہیلی اور نکتہ فرسائی شامل ہیں۔ آغا شورش کاشمیری ایک فرد کا نام نہیں تھا۔ ایک تحریک کا نام تھا۔

جلسوں کی رونق کی ضمانت آغا شورش کاشمیریؒ کا خطاب ہوتی تھی۔ وہ اپنی ذات میں انجمن تھے۔ سید عطا اللہ شاہ بخاری اپنی داستان حیات بیان کی ہے۔ ”آدھی جیل میں کٹی آدھی ریل میں“ آغا شورش کاشمیریؒ کی آدھی زندگی بھوک ہڑتالوں اور جیلوں کی نذر ہو گئی۔ آغا شورش کاشمیریؒ راولپنڈی اسلام آباد، اٹک، کوہاٹ اور پشاور کے دورے پر ہوں وہ گوجرانوالہ کی مقتدر سیاسی شخصیت علامہ عزیز انصاری، ممتاز قانون دان سید اصغر حسین ایڈووکیٹ اور راقم السطور کو اپنا ہمسفر بنانے کا اعزاز بخشتے مجھے ان کے ہمراہ پیر صاحب گولڑہ شریف، باچا خان، نوابزادہ نصر اللہ، ارباب سکندر خان خلیل، مولانا غلام اللہ، مولانا تاج محمود اور دیگر شخصیات سے ملاقاتوں کا موقع ملا آغا شورش کاشمیری ؒ سے تعلق خاص ہی تھا۔

1970 کے انتخابات کے دوران میں ان کا اسلام آباد ائر پورٹ پر استقبال کرنے گیا تو انہوں نے اپنی ”جیب خاص“ سے 60 روپے ادا کیے اور میں ان کے ہمراہ پی آئی اے کے فوکر طیارے میں سوار کر کے پشاور اور بعد ازاں کوہاٹ گیا اس دور میں لاہور سے پشاور تک فوکر طیارے محو پرواز ہوتے تھے اور کرایہ بھی بہت کم تھا۔ ایپرن تک رسائی بھی ہو جاتی تھی۔ آغا شورش کاشمیری ؒ فتنہ قادیانیت کا عمر بھر تعاقب کرتے رہے انہوں نے ”عجمی اسرائیل“ کے نام سے 1974 ء میں ایک کتابچہ لکھا جس کا انگریزی، فرانسیسی اور عربی زبان میں ترجمہ کروا کر سینئر صحافی ممتاز لیاقت اور مجھے دار الحکومت اسلام آباد کے ڈپلومیٹک انکلیو میں غیر ملکی سفارت خانوں میں تقسیم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہمیں خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا لیکن جب ہم نے ان کو اپنے مشن سے آگاہ کیا تو انہوں نے رکاوٹ نہ ڈالی۔

آغا شورش کاشمیریؒ نے علم و ادب کو نئے اسلوب سے روشناس کرایا۔ انہوں نے تین سو سے زائد ادبی اصلاحات متعارف کرائیں جس کا جوش ملیح آبادی، ساحر لدھیانوی اور احمد ندیم قاسمی نے بھی اعتراف کیا ہے۔ آغا شورش کاشمیری کے دور میں ان ہی صحافیوں کو بلند مقام ملا ہے جو ادبی ذوق بھی رکھتے تھے۔ آغا شورش کاشمیری اس دولت سے مالا مال تھے اور انہوں نے اپنی اس دولت کو لٹانے میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیا (جاری ہے۔ ) ۔

Facebook Comments HS