توہین مذہب: ایک التجا


کیسی بخشش کا سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے
جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کہ
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

چند روز قبل سندھ میں توہین مذہب کے کیس میں ڈاکٹر شاہنواز نامی شخص کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد میں رنجیدہ ہوا لیکن حیران نہیں کیونکہ میرے ارض وطن میں یہ ایک معمول بن گیا ہے۔ یہ وہ بیج ہے جو امیر المومنین جنرل ضیا الحق نے آج سے 45 برس قبل بویا تھا آج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے بابا بلھے شاہ ہوں یا وارث شاہ ہوں وہ بھی توہین مذہب کے الزام سے نہیں بچ پائے۔ لیکن ہمارے لیے یہ مقام حیرت ہے کہ آج میرے وطن میں انسانوں پہ توہین مذہب کا الزام تو لگتا ہی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کہیں بھی کوئی بھی ہجوم اٹھ کر توہین مذیب کے ملزم پر اپنا فیصلہ بھی صادر کر دیتے ہیں اور پل بھر میں موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں

خود ہی قاتل خود ہی مخبر خود ہی منصف ٹھہرے
اقربا میرے کریں خوں کا دعوی کس پر؟

اک نہتے شخص کے بے گناہ قتل کے بعد صرف ایک ہی نعرہ سنائی دیتا ہے
سر تن سے جدا، سر تن سے جدا
ہم غلام خدا، ہم غلام خدا

جب سے انسانوں نے خدا کا کام اپنے ہاتھ میں لیا ہے اس دن سے ہمارے معاشرے میں انسانیت مر گئی ہے اور یہ لوگ مسلمان تو دور کی بات انسان کہلانے کے مستحق نہیں کیونکہ قرآن حکیم میں خدائے بزرگ و برتر نے فرما دیا ہے

جس شخص نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری نسل انسانی کی جان بچائی۔
اس میں خدا نے کسی ایک مذہب کا ذکر نہیں کیا بلکہ پوری انسانیت کا تذکرہ کیا ہے۔
وہ لوگ حقیقت میں انساں نہیں ہوتے
جو عظمت انساں کی پیچاں نہیں ہوتے

اگر توہین مذہب کے جتنے بھی کیسز ہیں ان میں سو فیصد ایسے کیسز ہیں جو ذاتی اناء کی آگ میں جھلستی دشمنیوں کو مذہبی رنگ دے کر ذاتی مفادات حاصل کیے جاتے ہیں۔ بہاولپور میں پروفیسر حمید کا قتل ہویا عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشال خان کا بے گناہ قتل ہویا 2018 میں لاہور میں ایک آرٹسٹ قطب رند کا قتل ہو ان تمام نہتے لوگوں کے قتل کے پیچھے ذاتی رنجش تھی۔ خدا کے نام پہ جس طرح لوگ مر رہے ہیں

دعا کرو کہ اکیلا خدا نہ رہ جائے

آج میں ہر ذی شعور انسان کے آگے ایک سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ اس بھیانک اور جاہلانہ سوچ سے چھٹکارے کا کیا حل ہے، ریاست کی کیا ذمہ داری ہے اور بحیثیت انسان ہم تمام انسانوں کی کیا ذمہ داری ہے۔

آخر میں میں ان لوگوں سے التجا کرتا ہوں جو مذہب کے نام پر نہتے لوگوں کا خون کرتے ہیں

آؤ اج اک سودا کرئیے
تسیں (آپ) اپنے غزنوی لے جاؤ
غوری لے جاؤ
نادر لے جاؤ
ابن قاسم لے جاؤ
بابر لے جاؤ
سانوں ساڈے مرزے دے دو (ہمیں ہمارے مرزے دے دو)
دلے دے دو
وارث شاہ تے بلھے دے دو۔ (وارث شاہ اور بلھے دے دو)

Facebook Comments HS