چکوال میں بیوہ کے ذہنی مریض بیٹے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ


جمعرات کی شام چکوال شہر میں چوا چوک کے قریب واقع ایک کم آبادی والے محلے رحمن آباد میں جب اندھیرا چھا رہا تھا تو 68 سالہ ایک ماں کی زندگی بھی تاریکی میں ڈوب رہی تھی۔ کیچڑ زدہ کچی گلی کے کونے پر واقع دو کمروں کے چھوٹے سے گھر کے باہر ایک لوڈر رکشہ کھڑا تھا جس پر اس بدقسمت ماں کا چھوٹا بیٹا اور بیٹے کا ایک دوست گھر کا سامان رکھ رہے تھے۔ مالک مکان سر پر کھڑا اس انتظار میں تھا کہ کب گھر خالی ہو اور وہ تالا لگا کر چلتا بنے۔

دو رضائیاں، دو بستر، ایک چارپائی، ایک پنکھا اور کچھ برتن اس خاندان کی کل جمع پونجی تھی جو ایک رکشے پر باآسانی سما سکتی تھی۔ اڑسٹھ سال کی یہ تباہ حال عورت ایک ایسی ہی سادہ سی ماں ہے جیسی ہمارے ہاں اکثر مائیں ہوتی ہیں۔ رکشے پر سامان لوڈ کرتے ہوئے یہ بے بس ماں اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کا دریا روکے کھڑی تھی۔ اس کے جھڑیوں زدہ چہرے سے لاچارگی، بے بسی اور اداسی ٹپک رہی تھی۔ اس کی زندگی تو پہلے ہی کٹھن تھی لیکن اس میں تاریکی ایک دن پہلے یعنی بدھ 30 اکتوبر کو آئی جب پولیس نے اس کے منجھلے بیٹے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا اور جیل بھیج دیا۔

بدھ کی رات اس کا اٹھائیس سالہ بیٹا گرفتار ہوا۔ جمعرات کو مالک مکان نے اس غریب ماں کو فوراً گھر خالی کرنے کا حکم دیا۔ یوں یہ بے بس اور لاچار عورت اپنے بیٹے کے کسی دوست کے گھر رات گزارنے پر مجبور ہوئی۔

جب میں نے اس دریدہ دل ماں سے اس کے بیٹے جسے چکوال کے علما کرام اور صحافی ”ملعون“ اور ”گستاخ“ قرار دے چکے ہیں کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا، ”میرا بیٹا ذہنی مریض ہے جو گزشتہ چھ ماہ سے عجیب و غریب حرکات کر رہا ہے۔ ہمارے پاس تو ایک وقت کے کھانے کے پیسے ہوتے ہیں اور دوسرے وقت کے کھانے کے نہیں ہوتے۔ ہم وکیل کیسے کریں اور تھانہ کچہری کے اخراجات کیسے برداشت کریں“ ۔ یہ کہتے ہی اس ماں کا ضبط ٹوٹ گیا اور یہ لاچار ماں زار و قطار رونے لگ پڑی۔

اولاد جتنی بھی بری ہو کوئی ماں بھلا کب اپنی اولاد کو برا کہتی ہے۔ توہینِ رسالت کے اس ملزم کے متعلق میں نے اس کے پڑوسیوں اور دوستوں سے پوچھا۔ سب نے متفقہ طور پر یہی کہا کہ ملزم کا ذہنی توازن گزشتہ چھ سات ماہ سے درست نہیں۔

ایک پڑوسی محمد امجد نے بتایا، ”میں آٹھ سال سے ان کے گھر کے سامنے رہ رہا ہوں۔ وہ لڑکا بالکل تندرست تھا۔ لیکن چھ سات ماہ قبل اسے پتہ نہیں کیا ہوا کہ اس کا دماغی توازن بگڑ گیا۔ تب سے وہ عجیب و غریب حرکات کرتا رہتا تھا“ ۔

ان عجیب و غریب حرکات میں خود سے سوالات کرنا اور خود ہی جوابات دینا، ہاتھوں کی انگلیوں سے دائرے بناتے رہنا، کاپی پر بے ربط جملے لکھنا، اپنی انگلیوں پر کٹ لگا کر اپنا ہی خون چوسنا، رات کو کبھی گلی کے کسی کونے میں لیٹ جانا یا گھنٹوں گلی کے کنارے لگے کیکر کے درخت کے نیچے کھڑا رہنا، بلا وجہ زور زور سے رونا اور خود سے باتیں کرنا شامل ہیں۔

محلے کے ایک شخص نعمان جاوید نے بتایا کہ چند دن قبل وہ اپنے دو دوستوں کے ہمراہ گلی میں کھڑے تھے کہ اتنے میں مذکورہ ملزم وہاں سے گزرا اور گزرتے ہوئے ان تینوں کو یہ کہا، ”سوآڈا تریہاں دا نمبر لگ گیا ( آپ تینوں کا نمبر لگ گیا ہے ) ۔ نعمان نے مزید بتایا کہ یہ سن کر انہوں نے اس سے پوچھا کہ کوئی مہلت بھی ملے گی یا نہیں تو اس نے جواب دیا،“ چھ سات ماہ ہیں، مزے کر لو ”۔ ایک اور واقعہ سناتے ہوئے نعمان نے بتایا کہ کچھ دن پہلے مذکورہ ملزم نے محلے کی مسجد میں جب عشا کی نماز پڑھنا شروع کی تو ڈیڑھ گھنٹے تک سلام نہ پھیرا۔ پھر مسجد میں موجود کسی نے اسے سمجھایا تو تب جا کر اس نے نماز ختم کی۔

محلے کے ایک اور شخص مدثر اقبال نے بتایا کہ چند دن پہلے مذکورہ شخص نے انہیں کہا کہ اسے کچھ پیسے ادھار چاہیں۔ جب پوچھا کہ کتنے چاہیں تو جواب ملا، ”سو کروڑ“ ۔ محلے کے ایک اور شخص نے بتایا کہ دو ہفتے قبل مذکورہ ملزم گلی کے کنارے لگے کیکر کے درخت کے نیچے کافی دیر کھڑا اپنے ہاتھ کی انگلی چوستا رہا۔ جب اس شخص نے قریب جا کر اس سے بات کی تو دیکھا کہ جو انگلی وہ چوس رہا تھا اس انگلی پر کٹ لگا ہوا تھا۔

نعمان جاوید نے بتایا کہ کچھ دن قبل مذکورہ ملزم نے انہیں کہا کہ اسے خون چاہیے۔ نعمان نے اسے کہا کہ ”یار خون کا کیا مسئلہ ہے۔ ابھی تمہیں کسی مرغے کا خون لا دیتے ہیں“ ۔ لیکن آگے سے جواب ملا، ”مرغے کا نہیں۔ مجھے میرا اپنا خون چاہیے“ ۔

توہینِ رسالت کے الزام میں گرفتار اس ملزم کے والدین کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ اٹھائیس سال قبل والد کو چکوال میں ایک بھٹے پر مزدوری ملی تو یہ خاندان چکوال مقیم ہو گیا۔ راولپنڈی سے دو وقت کی روٹی کی خاطر چکوال منتقل ہونے والے اس جوڑے کے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ بھٹے پر رہائش کے لیے اس خاندان کو ایک کوارٹر بھٹہ مالک کی طرف سے ملا ہوا تھا۔ چند برس قبل والد کا انتقال ہو گیا اور بھٹہ مالک نے کوارٹر خالی کرنے کا حکم دے دیا کیونکہ اس چھوٹے سے کوارٹر میں رہنے کی شرط یہ تھی کہ خاندان کا ایک فرد بھٹے پر مزدوری کرے گا جس کے لیے تینوں بھائیوں میں سے کوئی بھی راضی نہ تھا۔ بڑا اور چھوٹا بھائی کبھی کبھار کوئی کام کرلیتے، نہیں تو فارغ بیٹھے رہتے۔ توہین کا مذکورہ ملزم پیشے کے اعتبار سے درزی تھا جس نے انتہائی غربت کے عالم میں ایف اے تک تعلیم حاصل کی اور پھر کپڑے سلائی کرنے کا کام سیکھ کر ایک بہترین کاریگر بنا۔ اپنی دکان بنائی اور والد کی وفات کے بعد گھرکا واحد کفیل بنا۔

اس خاندان پر آزمائش کی گھڑی چند برس قبل اس وقت آئی جب راولپنڈی میں چھوٹا بھائی کسی مقدمے میں پولیس کے شکنجے میں آ گیا۔ اس شکنجے سے نکلنے کے لیے اس خاندان نے مانگ تانگ کر سات لاکھ روپے کا بندوبست کیا۔ بعد میں چھوٹا بھائی بھی گھر چھوڑ کر کسی دوست کے ساتھ رہنے لگ پڑا اور بڑا بھائی شادی کے بعد راولپنڈی میں اپنے سسرالیوں کا گھر داماد بن گیا۔ پیچھے ایک ماں تھی اور اس کے ساتھ ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ کچھ عرصہ قبل محلے والوں کی مالی مدد سے بیٹی کی رخصتی ہو گئی۔ اب کرائے کے گھر میں ایک ماں تھی اور ایک بیٹا۔ قرض اتارنے کا سارا بوجھ اس بیٹے پر تھا۔ ایک فریج تھی وہ بھی بک گئی۔ ہانڈی روٹی اس دور میں بھی گھاس اور لکڑیاں جلا کر پکتی کہ غربت کی وجہ سے نہ ہی گھر میں گیس کا کنکشن تھا اور نہ ہی گیس والا سیلنڈر۔

چادر سے آنسو پونچھتے ہوئے اڑسٹھ سالہ ماں نے رندھی ہوئی آواز میں بتایا، ”لوگ روزانہ قرض کی واپسی کے لیے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے تھے۔ میرے بیٹے کو یہ بات کھائے جا رہی تھی اور وہ ہر وقت یہی سوچتا رہتا تھا کہ قرض کیسے اترے گا“ ۔ ملزم کے دوستوں کا کہنا ہے کہ قرض کے بوجھ اور قرض خواہوں کی باتوں کی وجہ سے مذکورہ ملزم نے اتنی ٹینشن لی کہ وہ اپنے کام پر توجہ مرکوز نہ رکھ سکا۔ پھر دکان ختم کر دی اور مدینہ مارکیٹ میں کسی درزی کے پاس کام کرنے لگ پڑا۔

چھ ماہ قبل پتہ نہیں ایسا کیا ہوا کہ مذکورہ ملزم ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ مدینہ مارکیٹ میں ملزم جس دکان پر کام کرتا تھا اس دکان کے مالک نے مجھے بتایا کہ وہ خود اسے ہسپتال روڈ پر واقع ایک کلینک پر لے کر گیا اور دماغی امراض کے ماہر ڈاکٹر سے اس کا معائنہ کروایا۔ ”میں نے اپنی جیب سے آٹھ ہزار روپے خرچ کر کے اسے ڈاکٹر کو دکھایا اور دوائی لے کر دی۔ ڈاکٹر نے کچھ دنوں کے بعد دوبارہ چیک کروانے کا کہا لیکن وہ نہ آیا کیونکہ اس کے پاس علاج کے لیے پیسے نہیں تھے“ ۔

غریب ماں اپنے بیٹے کا علاج کسی مستند ڈاکٹر سے تو نہ کروا سکی البتہ اس سے جو ہو سکتا تھا وہ اس بیچاری نے کیا۔ سر پاک سے عامل آیا۔ چکرال کسی عامل کے پاس لے کر گئی۔ درباروں پر گئی، لیکن افاقہ نہ ہوا۔ کسی نے کہا کالا جادو ہے، کوئی کہتا سایہ ہے۔

اس ذہنی عارضے کی وجہ سے مذکورہ ملزم ایک دفعہ پھر بے روزگار ہو گیا۔ گلیوں میں پھرتا رہا، خون پیتا رہا اور خون تھوکتا رہا۔ دو ماہ قبل ایک دوست اسد نے اسے پنڈی پھاٹک پر واقع ایک جاننے والے درزی کی دکان پر کام دلوا دیا جہاں اسے ایک سوٹ سلائی کرنے کے پانچ سو روپے ملتے تھے۔ پنڈی پھاٹک والے اس درزی سے جب میں نے مذکورہ ملزم کے متعلق پوچھا تو انہوں نے یہ بتایا، ”کبھی کبھی وہ بالکل نارمل لگتا لیکن کبھی کبھی عجیب و غریب حرکات شروع کر دیتا۔

سوٹ ادھ سلا چھوڑ کر دکان کے باہر کھڑا ہو جاتا۔ ہاتھوں سے دائرے بناتا رہتا اور خود سے سوالات کرتا اور خود ہی جوابات دیتا۔ مارکیٹ کے سارے لوگ اس کی ان حرکات کے گواہ ہیں“ ۔ دکان کے مالک نے مزید بتایا کہ وقوعہ سے چند روز قبل اس نے ذہنی عارضے کے شکار اس ملزم کو کہہ دیا تھا کہ وہ اسے مزید اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔ ”30 اکتوبر کی صبح دس بجے میں نے اسے دکان سے فارغ کر دیا تھا۔ لیکن وہ پھر دکان کے ساتھ ملحقہ کارخانے میں چلا گیا جہاں اس نے کارخانے میں موجود دو لڑکوں سے کسی بات پر بحث کی۔ ان میں سے ایک نے ویڈیو بنا لی۔ پھر وہ دونوں لڑکے کپڑوں کے کاج نکلوانے کے لیے بازار گئے اور ویڈیو پولیس کو دے کر آ گئے۔ واپسی پر جب انہوں نے مجھے بتایا تو میں نے انہیں یہ کہہ کر ڈانٹا کہ جب تم دونوں کو یہ معلوم تھا کہ اس کا دماغی توازن درست نہیں تو پھر تم نے ویڈیو پولیس کو کیوں دی“ ۔

30 اکتوبر کی شام کو چکوال کی مختلف مذہبی جماعتوں کے رہنما تھانہ سٹی میں اکٹھے ہوئے، توہین رسالت کا پرچہ کٹوایا اور ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ بتا دیا کہ انہوں نے ایک ”گستاخِ رسول“ اور ایک ”ملعون“ پر توہینِ رسالت کا پرچہ درج کروا دیا ہے اور اس ملعون کو کیفرِ کردار تک پہنچا کر دم لیں گے۔ پولیس نے بھی مقدمہ درج کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کیا۔ مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کیا اور جیل بھیج دیا۔ ایک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ اگر پرچہ جلدی درج نہ ہوتا اور ملزم گرفتار نہ ہوتا تو پھر حالات بگڑنے کا اندیشہ تھا۔ پولیس افسر نے بتایا کہ کچھ مولویوں نے تو پولیس کے جوانوں کو یہ تک کہا کہ تمہارے پاس تو اس گستاخ کو قتل کرنے کا سنہری موقع تھا جو تم لوگوں نے کھو دیا۔ ایک درزی کا شاگرد ہاتھ میں قینچی اٹھائے اس ”گستاخ“ کو ڈھونڈتا رہا۔

اگلے دن چکوال کی مذہبی جماعتوں کے رہنما اکٹھے ہوئے اور اس ”گستاخ“ کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا عہد کیا۔ کینیڈا والے مداری کی جماعت بھی پیچھے نہ رہی اور ان کی طرف سے بھی اس ”گستاخ“ کو منطقی انجام تک پہنچانے کے متعلق بیان آ گیا۔ اور تو اور ہمارے ایم پی اے چوہدری محمد سلطان حیدر علی بھی کسی سے پیچھے نہ رہے اور اس ”گستاخ“ کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کا وعدہ کیا۔

مقامی صحافیوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے۔ یہاں آپ کو ایک واقع سناتا ہوں۔ آج سے تیرہ برس قبل یعنی 2011 میں اکتوبر کی شروعات تھیں۔ تین اکتوبر کو چکوال کے ایک مقامی اخبار کی شہ سرخی یہ تھی، ”ملعون قرآن کے اوراق جلاتے ہوئے پکڑا گیا“ ۔ میں نے جب اس خبر کی تفصیل معلوم کی تو پتہ چلا کہ بیس سالہ جنید احمد راولپنڈی روڈ پر واقع امدادیہ مسجد کے مدرسے کا طالب علم ہے۔ میں نے اپنے دوست علی خان سے کہا کہ امدادیہ مسجد جو معروف عالم دین حضرت مولانا قاضی مظہر حسین کی جماعت کی ہے، کا طالب علم ایسی حرکت کا مرتکب بھلا کیونکر ہو سکتا ہے؟

ہم دونوں پہلے تھانے گئے، ایف آئی آر کی کاپی لی۔ پھر امدادیہ مسجد گئے۔ مفتی جمیل الرحمن سے ملے۔ انہوں نے بتایا کہ جنید بہت لائق طالب علم تھا اور جماعت کا مانیٹر تھا۔ جنید نے جب دیکھا کہ قرآن کے شہید اوراق کافی جمع ہو چکے ہیں تو وہ مفتی صاحب سے اجازت لے کر انہیں پیر صحابہ قبرستان کے قرآن محل میں دفن کرنے گیا۔ لیکن قرآن محل پہلے ہی شہید اوراق سے اتنا بھرا ہوا تھا کہ اس میں مزید اوراق کی گنجائش نہیں تھی۔

جنید نے ان شہید اوراق کو یہ سوچ کر آگ لگا دی کہ ان کی راکھ کو پانی میں بہا دے گا۔ جیسے ہی جنید نے اوراق کو آگ لگائی تو پاس ہی اپنی والدہ کی قبر پر بیٹھے ایک شخص کی نظر پڑ گئی تو اس نے محلے کے لوگوں کو جمع کر لیا۔ پھر ہجوم جنید پر ٹوٹ پڑا۔ اسے پولیس کے حوالے کر دیا اور پولیس نے جنید پر توہینِ قرآن کا مقدمہ درج کر لیا۔ مفتی جمیل الرحمن نے ہمیں مختلف علما کی کتابوں سے قرآن کے شہید اوراق کے متعلق احکامات دکھائے۔

ان احکامات کے مطابق آپ قرآن کے شہید اوراق کو کسی محفوظ جگہ دفن کر دیں۔ اگر دفن کرنا ممکن نہ ہو تو آگ لگا کر ان کی راکھ پانی میں بہا دیں تاکہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔ اب جنید نے یہی پڑھا ہوا تھا۔ اس نے قرآن کے شہید اوراق کو بے حرمتی سے بچانا چاہا اور ہجوم نے اس پر توہینِ قرآن کا مقدمہ درج کروا دیا۔ مقامی صحافیوں نے جنید کو بھی اسی طرح بغیر تحقیق کیے گستاخ اور ملعون قرار دے دیا تھا جس طرح آج پھر تیرہ سال بعد انہوں نے اس ذہنی مریض کو گستاخ اور ملعون قرار دے دیا ہے۔

ملزم پر الزام ہے کہ اس نے خود کو نبی کہا جس کا اللہ کے ساتھ ڈائریکٹ رابطہ ہے۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر خود سے سوال کریں کہ کیا کوئی دماغی طور پر صحت مند مسلمان خواہ وہ کتنا ہی گناہ گار کیوں نہ ہو نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ دماغی طور پر تندرست ایسا کون سا مسلمان ہو گا جو نعوذ باللہ آقائے دو جہان کی شان میں گستاخی کا تصور بھی کرے؟ میری چکوال کے علما کرام سے، خاص طور پر مولانا ظہور الحسین اظہر صاحب صاحبزادہ عبدالقدوس نقشبندی صاحب اور مفتی لقمان شاہ صاحب سے دست بستہ اپیل ہے کہ مذکورہ ملزم کو کیفرِ کردار تک پہنچانے سے پہلے اس کا دماغی معائنہ کروا لیا جائے کہ اس کی گردن تو پھر بھی دسترس میں ہی ہوگی لیکن قیامت کے روز ہماری گردنوں کا کیا بنے گا؟

افتخار عارف یاد آتے ہیں،
رحمت سید لولاک پہ کامل ایمان
امت سید لولاک سے خوف آتا ہے

Facebook Comments HS

One thought on “چکوال میں بیوہ کے ذہنی مریض بیٹے پر توہینِ رسالت کا مقدمہ

  • 07/11/2024 at 4:00 شام
    Permalink

    جناب کچھ خدا کا خوف کریں۔ اس گستاخ کے گھر والوں کو آپ سپورٹ کریں اگر وہ واقعی حقدار ہیں تو۔
    مگر آپ اس گستاخ کی حمایت کیوں کر رہے ہیں۔
    جبکہ اس نے محکمہ پولیس کے سامنے بکواسات کئیے اور محکمہ کی ہی مدعیت میں مقدمہ درج ہوا۔
    کیا آپ نے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا کلمہ نہیں پڑھا؟ آپ نے مرنا نہیں؟ کل حشر میں کیا منہ دکھائیں گے اللہ تعالیٰ کے حبیب صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی گستاخی کی ہے اس نے کسی عام آدمی کی نہیں جو اسے معاف کر دیا جائے۔
    خدارا اپنے ایمان کا تحفظ کریں۔

Comments are closed.