پاکستان، آئینی ترمیم، انصاف اور عوام


پاکستان میں آئینی ترامیم پر لکھتے وقت طنز کرنا تقریباً ایسے ہی ہے جیسے کہ ایک طبیب بیماری کے بارے میں ہنسی مذاق کرے۔ ہم آئین کو اپنے معاشرتی اصولوں اور انصاف کے ترازو میں تولتے ہیں، لیکن یہاں انصاف کی جگہ طاقتور فیصلے کر رہے ہیں اور ترازو کہیں دفتر کی الماری میں رکھا ہوا ہے۔ 26 ویں آئینی ترمیم کے بعد عوام میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ شاید عدالتیں عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے کی بجائے اب حکومت کی مرضی سے فیصلے کریں گی۔

ہمارے آئین میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، جیسے ہم اپنے موبائل فونز کے کور بدلتے ہیں۔ کبھی سوچا کہ یہ تبدیلیاں کیوں لائی جاتی ہیں؟ ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ جیسے فون کے کور ہمیں مزید خوبصورت بناتے ہیں، ایسے ہی آئینی ترامیم ہمارے جمہوری چہرے کو چمکانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن، یہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہ چمک دمک صرف باہر سے نظر آتی ہے ؛ اندرونی انصاف کا نظام کہیں دھندلا سا ہو چکا ہے۔

حکومت نے اس ترمیم میں یہ وضاحت تو کی کہ اس سے عوام کو انصاف میں آسانی ملے گی اور ان کے حقوق محفوظ ہوں گے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوام کو انصاف کی بجائے ”آسان“ وضاحتیں مل رہی ہیں۔ اگر کبھی کوئی آئینی مسئلہ اٹھے تو اب عوام کو عدالتوں سے براہ راست انصاف کے حصول کی بجائے شاید پہلے کچھ پرچے بھروانے پڑیں گے یا شاید ایک درخواست جمع کروانی پڑے کہ ”کیا ہم انصاف کا سوال پوچھ سکتے ہیں؟“ عدلیہ کی آزادی کو یقینی بنانے میں ججز کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ان کا کام عوام کو انصاف فراہم کرنا اور حکومت کی طاقت کو محدود رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن جب ججز کے فیصلوں اور تقرریوں میں حکومتی مداخلت بڑھتی ہے، تو عوام کے لیے انصاف کا عمل غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ اس ترمیم میں ججز کے اختیارات کو محدود کر کے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ فیصلے کرنے کا حق اب کسی اور کے پاس منتقل ہو رہا ہے، اور ججز کو عوام کی بجائے حکومت کے مفادات کا خیال رکھنا ہو گا۔

انصاف کی روح کہیں غائب ہوتی محسوس ہوتی ہے اور آئین کی شفافیت کو شاید سرکاری سرٹیفکیٹ کی مزید ضرورت ہوگی۔ عوام کے لئے پیغام تو یہی ہے : ”گھر بیٹھیں، آرام کریں، ہم آپ کے حقوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں، اور اگر کوئی مسئلہ ہوا تو ہم خود ہی فیصلہ کر لیں گے!“

آخر میں ایک عام شہری اس سارے عمل کو دیکھ کر یہی سوچ سکتا ہے کہ ”انصاف تو ہے، بس میرے لئے نہیں ہے۔“ کیونکہ موجودہ دور میں انصاف اور آئین کے اصول شاید عوام کے بجائے ان لوگوں کے لئے زیادہ آسان بنا دیے گئے ہیں جو ان اصولوں کو بنانے میں شامل ہیں۔ عوام کے لئے پیغام یہی ہے کہ ”چپ رہیں، کچھ نہ پوچھیں، سب ٹھیک ہو رہا ہے!

Facebook Comments HS