شہزاد نئیر کی دفعہ نمبر 144


سڈنی سے شاہد صاحب کے توسط سے شہزاد نئیر صاحب کی تازہ کتاب ’کہانی چل رہی ہے‘ موصول ہوئی تو دل ہشاش بشاش ہو گیا۔ میں نے اپنے کمرے کے اس طرف کتاب کو رکھا ہے جہاں فجر ٹائم مجھے کوئل عموماً جگاتی ہے۔ آج ہلکی ہلکی بارش کے امکانات ہیں اور شہر میں بادلوں نے بسیرا کر رکھا ہے تو کتاب کو کھولا اور پڑھنے لگا۔

کتاب میں 144 مائکروف ہیں اور انہیں پڑھ کر لگتا ہے کہ جیسے دفعہ 144 لگ گئی ہو۔ ہاں سنجیدہ موضوعات کی چلتی پھرتی بہت سی کہانیاں یکجا ہو گئی ہیں۔ جن میں سیکشن کے مطابق چار سے زیادہ کردار خال خال ہی جمع ہو رہے ہیں۔ مگر وہ سماج کی ضروری بات کہنے میں عار محسوس نہیں کرتے۔ شاید کہانیوں کے شہر میں کوئی شدید اضطراب برپا ہے۔ جسے جاننا بھی ضروری ہے اور اس سے اجتناب کرنا بھی لازم ہے۔

”حکیم جی میرے تین بیٹے ہیں۔ اب بیٹی چاہتا ہوں۔ کیا اس کی بھی دوائی ہے آپ کے پاس؟“
(صفحہ نمبر 21 )

دیکھیے تو خواہشات انسان کی مٹی میں کیسے گھل مل گئی ہیں کہ ہماری بڑھوتری کے واسطے ایک نئی خواہش، ایک نئی منزل اور ایک نئی سوچ کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔

مابعد الجدیدیت میں اک اہم نکتہ زندگی کے معنی و مفاہیم کی کھوج لگانا ہے۔ دیے گئے معنی کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ ’رکے ہوئے آنسو‘ میں ایک کردار ایک ماتم میں جا کر جی بھر کر روتا ہے اور پھر بالکل تیزی سے دور نکل جاتا ہے۔ اس کا گلہ یہ ہے کہ اسے اپنے گھر میں ٹھیک سے کوئی رونے نہیں دیتا۔ معنویت کے اعتبار سے گھر اس لیے بنے کے مل کر انسان مدد بھی کر سکے اور جملہ مسائل کو سمجھ کر حل نکالے جائیں۔ جب کہ ہمارے آس پاس ایسے کئی کردار ہیں جنہیں کبھی کیتھارسس کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے۔ خوشی کا موقع ہو یا دکھ کی کوئی گھڑی، جی بھر کے اظہار کیا جانا کتنا اہم ہے۔

زندگی اور موت کے فیصلوں پہ ہماری بساط اور اس پہ ہماری فکر لگی ہی رہتی ہے۔ مگر اختیار کا معاملہ مالکِ کن فیکون کے پاس ہے۔ اور بعض دفعہ وہ شیطان کو بھیج کر بھی آپ کو زندگی کا حوصلہ دے دیتا۔ (جسے اللہ رکھے، صفحہ نمبر 81 )

چوں کہ شہزاد صاحب اصلاً اک شاعر ہیں اور وہ ان کی اولین پہچان ہے۔ اس واسطے کتاب کے موضوعات ترتیب دیتے ہوئے بارہا جگہ پہ شاعرانہ اظہار ملتا ہے۔ اور یہ اسلوب کو مزید خوبصورت بنانے میں مین بلاک کی طرح کام کرتا ہے۔ چند مثالیں بطور نمونہ پیشِ خدمت ہیں۔ جیسے پاتال سے اٹھتی ہوک، جان کی امان، غیرت ایمانی، تالیفِ قلب، خود پر منکشف ہو کر، دھند میں دنیا اور دیگر۔

اک اچھا ادیب سماج کے اندر دبی سانسوں کو کھولنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ راستے فراہم کرتا ہے جس سے معاون کرداروں کو اظہار کا موقع ملے۔ اور وہ جانتا ہے کہ اگر یہ سب خیالات دبے رہ گے تو وہ گھٹن میں جرائم، توڑ پھوڑ اور قبیح کاموں کی طرف میلان حاصل کر سکتا ہے۔ (بے بسی کا قاعدہ، صفحہ نمبر 118 )

مختصر فکشن ’خداحافظ‘ میں موصوف نے بتانے کی سعی کی ہے کہ بعض دفعہ ہم جس وجہ سے مسئلہ کا شکار ہوتے ہیں۔ اس جانب ازسرِ نو مائل ہو کر چلے جاتے ہیں۔ اور یہ سب ہماری کم علمی یا لاشعوری بہاؤ میں ہوا جاتا ہے۔ یوں یہ سائیکل پھیلتا چلا جاتا ہے۔

ہیمنگ وے کا مشہور مختصر افسانہ کچھ یوں ہے :
”بیچنے کے لیے، بچے کے جوتے، جو کبھی پہنے نہیں گئے۔“

اس کہانی سے اک اہم ادبی تھیوری کی ابتدا ہوئی۔ جسے آئیس برگ تھیوری کا نام دیا گیا۔ یعنی آپ مختصر بات کہتے ہو اور اس کے اندر بہت گہری بات چھی ہوئی ہوتی ہے۔ جیسے والدین نے اپنے ہونے والے بچے کے لیے جوتے لیے مگر شاید کسی ممکنہ حادثہ کی وجہ سے وہ جوتے ویسے کے ہی ویسے رہ گے۔ اس سے بیسویں صدی میں نئی تحریک بھی پیدا ہوئی۔ یعنی جہاں ناول یا داستان گوئی کو بول بالا تھا وہیں مختصر اور زیادہ گہری بات کہنے کی طرف لکھاریوں کا ہاتھ کھلنے لگا۔ اسی تناظر میں شہزاد نئیر کا اک مختصر یعنی مائیکرو فکشن پیش خدمت ہے :

”میری بیوی مٹی کے ایک کونڈے میں باجرہ ڈال کر سامنے والے لان میں رکھ دیتی۔ دوسرے میں ہر روز پانی بھرتی۔ رنگ برنگے، چھوٹے بڑے پرندے آتے، کھاتے، پیتے اور چوں چوں کرتے۔ اک رونق لگی رہتی۔ جسے دیکھ دیکھ وہ خوشی ہوتی۔ ایک دن میں دفتر سے گھر آیا تو دونوں کونڈے غائب تھے۔

”کم بخت خوں خوار بلی نے اسے شکار گاہ بنالیا تھا۔ معصوم پرندے دانہ چگنے میں منہمک ہوتے تو یہ تاک کر حملہ کرتی۔ حرام خور۔“ بیوی کو بہت غصہ تھا۔

”تم نے کونڈے اٹھا کر دو مخلوقات کا رزق چھین لیا ہے۔“
”دو مخلوقات؟“ وہ حیران ہوئی۔

”پرندوں کا۔ اور بلیوں کا۔“ میرا سوال مختصر تھا لیکن وہ دیر تک مجھے بلی کی نظروں سے دیکھتی رہی۔ اگلے دن میں نے بیوی کی نظر بچا کر باجرہ اور پانی پچھلے لان میں رکھ دیا۔

(فوڈ چین: صفحہ نمبر: 220 )

فوڈ چین کے عنوان سے محترم شہزاد نئیر نے خوبصورتی کے ساتھ مادیت کے اوج میں بدلتے ہوئے لائف سٹائل کو آئیس برگ کی صورت میں پیش کیا ہے۔ وہی تن آسانی سے ہم کیسے سست و آلسی لائف سٹائل کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔ اور اگر کی ورڈ ’کُونڈے‘ کو پاکستانی معاشرے میں سمجھا جائے تو اس کے معنی کی نئی رُت واضح ہوتی ہے۔

المختصر، ”کہانی چل رہی ہے“ اک ایسی کتاب ہے جو آپ کو کم لفظوں میں دفعہ نمبر 144 کی سیر کروائے گی۔ موضوعات کا پھیلاؤ، چونکا دینے والا کرافٹ اور آج کی کہانیوں سے یہ کتاب مفید کتب کی فہرست میں شامل ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS