روشن خیالی کے دو علمبرداروں روسو اور والٹیئر کے درمیان فکری اور ادبی تصادم


گزشتہ تحریر میں آپ کو بتایا گیا تھا کہ کیسے روسو کو اپنے انفرادی فیصلے کی وجہ سے ہَزِیمَت اٹھانا پڑی، اور معمولی ذکر کیا گیا تھا کہ والٹئر نے کیسے روسو کی عملی اور نجی زندگی کے تضاد پر کھُل کر تنقید کی۔ والٹئر اور ژاں ژاک روسو کے درمیان فکری اختلافات نہایت گہرے اور شدید تھے۔ اگرچہ دونوں فلاسفرز کا تعلق روشن خیالی کے دور سے تھا اور دونوں معاشرتی اصلاحات کے حامی تھے، مگر ان کے نظریات اور فلسفے کے راستے مختلف تھے، اور یہی بات آپس کی چپقلش کا باعث بنی۔ خاص طور پر، والٹئر نے روسو کے خیالات پر شدید تنقید کی، جس کا بنیادی سبب روسو کے فطرت کی طرف واپسی کے نظریے اور تہذیب سے نفرت کا تصور تھا۔ روسو کا ماننا تھا کہ تہذیب اور معاشرتی ترقی نے انسان کو اُس کی اصل فطرت سے دور کر دیا ہے اور اُسے بگاڑ دیا ہے۔ روسو کی کتاب ڈسکورس آن دی اوریجن اینڈ فاؤنڈیشن آف ان ایکوالٹی میں یہ نظریہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان فطری طور پر بھلا اور معصوم ہے، مگر سماجی ادارے اُسے خراب کرتے ہیں۔ والٹئر نے اس نظریے کو ناپسند کیا اور اس پر طنزیہ انداز میں تنقید کی۔ ایک مشہور خط میں و الٹئر نے روسو سے کہا۔

”آپ کی کتاب کو پڑھ کر مجھے یہ خواہش محسوس ہوئی کہ چاروں پاؤں پر چلنا شروع کر دوں۔ لیکن افسوس کہ میں اس عادت کو بھول چکا ہوں، اور مجھے یقین ہے کہ میری زندگی کے بقیہ دنوں میں میں ایسا نہیں کر پاؤں گا۔“

والٹئر کے ان جملوں میں طنز ہے اور روسو کے اس نظریے کا مذاق اڑایا گیا ہے کہ انسان کو اپنی اصل فطرت کی طرف لوٹنا چاہیے۔ والٹئر کا ماننا تھا کہ تہذیب نے انسان کو علم، عقل اور ترقی کی راہوں پر گامزن کیا ہے اور اس کی بدولت انسان نے معاشرتی اور سائنسی ترقی کی ہے۔ تاہم، دونوں مفکرین کے درمیان اختلافات کا یہ سلسلہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایک بڑا زلزلہ 1755 میں لزبن کو تباہ کر گیا، جس میں تقریباً ساٹھ ہزار لوگ ہلاک ہو گئے۔ اس تباہی نے والٹئر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس کے بعد انہوں نے اپنے اس پرانے خیال کو مسترد کر دیا کہ برائی بالآخر انسانیت کی بھلائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ والٹئر نے انسانی دکھوں کے لئے شدید ہمدردی کا اظہار کیا اور اس کے نا انصافی پر غم و غصہ ظاہر کیا۔ ان کے اس رویے نے روسو کے ساتھ ان کے تعلقات میں مزید دراڑ ڈال دی۔

دوسری طرف روسو نے 1756 میں لیٹر آن پروویڈنس کے ذریعے و الٹئر کے Poem on the Lisbon Disaster کا جواب دیا۔ روسو کا کہنا تھا کہ ”خدا کی مہربانی پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں، اور یہ کہ لوگ خود اپنی بدقسمتی کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ خود ہی اپنی مرضی سے شہروں میں گھنی آبادی میں رہتے ہیں، جس کی تباہی سے بہت سی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔“ والٹئر نے بعد میں اپنے مشہور ناول Candide میں اس بات کا جواب دیا اور یہ نظریہ مسترد کر دیا کہ ”جو کچھ ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے“ ۔

1760 میں ان دونوں کے تعلقات میں اس وقت مکمل طور پر بریک آ گئی جب والٹئر نے جنیوا میں ایک تھیٹر کے قیام میں مدد دی۔ روسو نے اس کی سخت مخالفت کی، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ جنیوا کی جمہوری اخلاقیات کو خراب کر دے گا۔ والٹئر نے روسو کے اس اعتراض پر منفی تبصرہ کیا اور 4 مئی 1759 کو ڈی الامبر کو لکھے خط میں انہیں پاگل قرار دیا۔

والٹئر اور روسو دونوں 1778 میں تقریباً ایک ساتھ ہی انتقال کر گئے۔ اگرچہ ان کے درمیان شدید اختلافات تھے، لیکن بعد کی نسلوں کی نظر میں وہ روشن خیالی کے دور کے نمایاں نمائندگان بن کر سامنے آئے۔ انیسویں صدی میں دونوں کے مجسمے Château de Ferney میں نصب کیے گئے تاکہ ان کے فکری اختلافات کے باوجود، ان کی روشن خیالی کے لئے خدمات کو سراہا جا سکے، اور ہمیں دونوں سے ہی سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

Facebook Comments HS