ایڈورڈ سعید کی کتاب اورینٹلزم
ایڈورڈ سعید نومبر 1935 فلسطین میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم قاہرہ سے حاصل کی۔ 1964 میں فلسفہ میں پی ایچ ڈی کر کے اپنی تعلیم مکمل کی۔ 1963 میں کولمبیا یونیورسٹی میں تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کر کے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کیا۔ آپ کی زندگی ”مشرق اور مغرب“ کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ آپ نے 20 سے زائد کتابیں لکھیں۔ ہمارا آج کا موضوع آپ کی کتاب اورینٹلزم ہے۔
آپ کی کتاب اورینٹلزم ( orientalism) کو بے حد مقبولیت ملی۔ اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ اردو زبان میں اس کتاب کا ترجمہ 1973 میں محمد عباس نے ”شرق شناسی“ کے نام سے کیا۔ یہ کتاب مقتدرہ قومی زبان سے شائع ہوئی۔
ایڈورڈ سعید کی اس کتاب کا موضوع ”نوآبادیاتی نظام اور مابعد نوآبادیاتی نظام“ ہے۔ آپ کی یہ کتاب یورپی ( مغربی ) مرکزیت کی نفی کرتی ہے۔ کیونکہ مغرب والوں کے تصور میں مغرب اعلی اور مشرق ادنی ہے۔
ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب اورینٹلزم میں شرق شناسی کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
” شرق شناسی ایک ایسا مربوط اور مقبول نظام ہے۔ جس سے مشرق کے بارے میں علم اور معلومات کو چھان پھٹک کر مغرب کے شعور میں پہچانا جاتا ہے۔ “
ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب کو تین ابواب میں تقسیم کیا ہیں
• شرق شناسی کی وسعت
• شرق شناسی تشکیلات اور تشکیلات جدید
• عصر حاضر میں شرق شناسی
ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب کے آغاز میں شرق شناسی کے تعارف کے عنوان کے تحت شرق شناسی پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس کا آغاز ”مشرق اور مغرب“ کے تعلقات کی وضاحت سے کیا ہے۔ ایڈورڈ سعید کے مطابق جو کوئی مشرق کے بارے میں لکھتا، پڑھتا یا اس پر تحقیق کرتا ہے اسے شرق شناس کہا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے اس کا کام شرق شناسی کہلاتا ہے۔ ایڈورڈ سعید نے شرق شناسی کی وسعت کے ابواب کو چار ذیلی ابواب میں تقسیم کیا ہیں۔
• ادراک
• تصوراتی
• جغرافیہ اور اس کی نمائندگی
• مشرقیت کی تجسیم
ایڈورڈ سعید اپنے پہلے باب میں مصر کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے آرتھر جیمز بلفور کے 13 جون 1910 کے خطاب کے اہم نکات کا جائزہ لیا ہے۔ طاقت کے علم اور تجزیہ کے بارے میں مشرقین کے کردار کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ یورپ کی مشرق کی طرف پیش قدمی کی ٹھوس شہادتیں بھی پیش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرق کو فتح کرنے کے لیے مغرب نے جو خاص منصوبے تیار کیے تھے ان کا جائزہ لیا ہے۔
ایڈورڈ سعید نے شرق شناسی کے دوسرے باب میں شرق شناسی کے متعلق ایم ایچ ابرام کے تصورات کو پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ چار ایسے عناصر کو بیان کیا ہے جو شرق شناسی کی تشکیلات میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
• توسیع
• تاریخ
• تصادم
• ہمدردی اور درجہ بندی
اپنی کتاب کے تیسرے باب میں عصر حاضر کا جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مشرق میں رہنے والوں نے جسمانی طور پر تو خود کو انگریزوں سے آزاد کروا کیا لیکن آج بھی وہ ذہنی طور پر انگریزوں کے غلام ہیں۔

