2سفر امریکہ۔

نیو یارک میں میرا قیام میری بڑی بہو کے نوجوان کزن چوہدری نواب کے ہاں رہا۔ امریکہ جہاں میری عمر کے بڈھوں کے لیے موزوں ترین مقام اولڈ ہاؤس سمجھ جاتا ہے وہاں تقریباً تین ہفتے تک سینئر سٹیزن کی میزبانی اور وہ بھی پرتکلف انداز میں، چھوٹی بات نہیں۔ یقینی طور پر ایسا کرنے کو چوہدری اور نواب ہونا ضروری ہے۔ بس نام کا ہی نہیں دل کا بھی۔
نیویارک کے بعد میری اگلی منزل یوٹا سٹیٹ کا صدر مقام سالٹ لیک سٹی تھا جہاں میرا بیٹا احمد اور میری بہو نمرا مقیم ہیں۔ احمد نے فلوریڈا یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا۔ وہ اس دوران نینسی نامی ایک پیرانہ سال خاتون کا کرایہ دار رہا۔ اتوار کو چھٹی کے دن وہ مختلف کاموں میں باقاعدگی سے اس کی مدد کیا کرتا تھا۔ اس نے اس ایثار کا جواب بہت انوکھا دیا۔ احمد کے فلوریڈا چھوڑنے کے کچھ عرصہ بعد اس نے اپنی وصیت لکھواتے ہوئے اپنے گھر کے حصہ داروں میں اسے بھی شامل کیا۔
یوٹا مورمن عیسائیوں کا گڑھ ہے۔ ان کے عقائد تھوڑے وکھرے قسم کے ہیں۔ جیسے کہ انبیاء کی آمد ختم نہیں ہوئی اور ہمارے درمیان موجودہ دور میں پائے جانے والے نیک اشخاص بھی انبیاء ہی ہیں۔ یہ شادی اور زیادہ بچوں پہ زور دیتے ہیں۔ شراب تو کیا کافی کو بھی ممنوع قرار دیتے ہیں۔ ہر مورمن کو اپنی آمدنی کا دس فی صد چرچ کو دان کرنا ضروری ہے ماسوائے ان کے جو کم از کم دو سال کے لیے تبلیغ سے وابستہ رہیں۔ یہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے ہیں۔
امریکہ کے یومِ آزادی یعنی چار جولائی 2024 کو ہم لاس ویگاس کے لیے روانہ ہوئے۔
انکل سام کے دیس میں لاس ویگاس ایسا شہر ہے جہاں وہ کام گج وج کے کیا جاتا ہے جو ہمارے ہاں قمار بازی ایکٹ کے تحت چھاپے کے ڈر سے چھپ چھپا کے کرتے ہیں۔ ہاں اگر یہ کار شر اپنے پیٹی بند بھائیوں کی آشیر باد سے کیا جائے تو پھر ستے خیراں۔ ( حیران نہ ہوں، پولیس والے بھی تو آخر بندہ بشر ہوتے ہیں ) ۔
ریاست نیواڈا میں یہ اکلوتا مشہور شہر ہے۔ ثنا خوانِ تقدیس مشرق اس میں جاری و ساری شغلِ قمار بازی کی وجہ سے اس کا ذکر کچھ اچھے الفاظ میں نہیں کرتے جبکہ میرے بیٹے احمد کے بقول ہمارے ہاں تہذیب کے ایسے رنگ تو بڑی آب و تاب کے ساتھ دربار کی سرپرستی میں گومتی ندی کے کنارے بسے شہر میں جلوہ افروز رہے اور اب ورثے کا درجہ پائے ہوئے ہیں کیونکہ مشرق تو مشرق ہے۔
میں نے کہا خاموش رہو اپنی یو ٹیوب کی معلومات کی بنیاد پر شوخی دکھانے کی ضرورت نہیں۔
کہتے ہیں اکیڈمی آف موشن پکچرز کے آرڈر پر جب ایوارڈ والی مورتی بن کے اس کے دفتر پہنچی تو وہاں ملازمین اسے دیکھنے کو جمع ہوئے۔ اچانک ایک ملازمہ بولی اس کی شکل تو ہو بہو میرے انکل آسکر سے ملتی ہے۔ بس پھر یہ ایوارڈ اسی نام سے مشہور ہوتا گیا۔ یہ ایوارڈ ہر سال اس ڈولبی تھیٹر میں دیا جاتا ہے جو ایل اے میں جادہ شہرت (واک آف فیم) پہ واقع ہے۔ میرا آج لاس اینجلس میں دوسرا دن تھا اور میں شام کو یہاں آیا تھا۔ اس سے قبل سارا دن یونیورسل سٹوڈیو میں گزرا تھا جہاں ڈیڑھ سو ڈالر کا ٹکٹ لے کے دو گھنٹے داخلے کی لمبی قطار میں سرکنا پڑا تھا۔ ماضی کی یادگار فلموں کے ہر طرح کے سیٹ دیکھنا اور ان فلموں کے کلپ ریل گاڑی نما بس کی سکرین پہ ساتھ ساتھ دیکھتے جانا ایسا تجربہ تھا کہ اس میدان میں اپنی گہری دلچسپی کی وجہ سے بہت لطف آیا۔
کھلتے نہیں ہیں روز دریچے بہار کے
آتی ہے جانِ من یہ قیامت کبھی کبھی
67 سال سے ستاروں کی دنیا کی اس پر رونق آماج گاہ میں ان سے وابستہ بہت سے مقامات اور یادگاریں دیکھیں لیکن ایک کونہ ایسا تھا جسے ٹھہر کے دیکھا اور فکر پریشان کہاں کہاں بھٹکتی رہی۔ یہ مالن منرو سے منسوب کارنر تھا۔ مارلن منرو جو اگرچہ زندگی کے بارے میں وہی رویہ رکھتی تھی جو بابر کا تھا یعنی۔ بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست، لیکن پھر اس زندگی کو خود ہی بس 36 سال کی عمر میں ختم کر ڈالا کہ جو لاکھوں کے لیے ایک آئیڈیل کا درجہ رکھتی تھی۔ ایسا ہی ایک واقعہ اسی دور میں بمبئی میں پیش آیا تھا۔ انڈین فلم نگری میں متوازی سینما کی بنیاد رکھنے والے گرو دت نے بھی اپنی زندگی اپنے ہی ہاتھوں ختم کر ڈالی۔ اس پر کیفی اعظمی نے جو نوحہ لکھا اس کا مطلع تھا۔
رہنے کو صدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی
میں دس جولائی کو شام ڈھلے نیو یارک واپس پہنچا۔ شہرِ دلنواز میں چار دن ایک بار پھر ان دیکھے حصوں کے علاقے ناپتے ہوئے اور برائنٹ پارک و ٹائم سکوائر کی رونق میں اپنے کو گم کر کے گزارے۔
پندرہ جولائی کی شام میرے جہاز نے ویانا کے راستے پر شٹینا کوسوو کے لیے اڑان بھری۔ میں اگلی صبح پو پھوٹنے سے کچھ قبل اپنے یاد نگر، پر پہنچ چکا تھا جہاں اب سڑکیں، بازار اور کوچے اور ہی شکل میں ڈھل چکے تھے۔
جاری ہے۔

