ناروے کے شہر اوسلو میں قیام
ناروے شمالی یورپ کا ایک ملک ہے جس کا مرکزی علاقہ جزیرہ نما اسکنڈے نیویا کے مغربی اور انتہائی شمالی حصے پر مشتمل ہے۔ دور دراز آرکٹک جزیرہ جان مین اور سوا ایارڈ کا جزیرہ نما بھی ناروے کا حصہ ہے۔ ناروے انٹارکٹیکا کے جزیروں پیڑا ول آئی لینڈ اور کوئین موڈ لینڈ پر بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتا ہے۔
مشرق میں اس کی طویل سرحد سویڈن کے ساتھ ملتی ہے۔ اس کے شمال مشرق میں فن لینڈ اور روس جنوب میں آبنائے اسگیراک واقع ہے۔ اس کے پاس ایک وسیع ساحلی پٹی موجود ہے۔ اس کا کل رقبہ 148729 مربع میل اور آبادی تقریباً ساڑھے پانچ ملین ہے۔ کرنسی کا نام نارویجین کرونے ہے۔ جو تقریباً 26 پاکستانی روپوں کے برابر ہے۔ موجودہ بادشاہ ہیرالڈ پنجم ہیں اور موجود وزیر اعظم 2021 ء سے جوناس گاہرسٹور ہیں۔ آئینی بادشاہت کے ساتھ ایک وحدانی ریاست کے طور پر ناروے ریاستی طاقت کو پارلیمنٹ، کابینہ اور سپریم کورٹ کے درمیان تقسیم کرتا ہے۔
ناروے کی متحدہ مملکت 872 ء میں چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے انضمام سے قائم ہوئی تھی۔ 1537 ء سے 1814 ء تک ناروے ڈنمارک کا حصہ تھا۔ اس وقت یعنی انیسویں صدی کے آغاز میں یورپ میں بہت سی جنگیں ہوئیں۔ جن میں انگلینڈ اور فرانس کے درمیان ایک بڑی جنگ بھی شامل تھی۔ اس جنگی سلسلے کو نپولین جنگیں کہا جاتا ہے۔ ڈنمارک اور ناروے نے فرانس کا ساتھ دیا۔ فرانس کو ان جنگوں میں شکست ہوئی تو اس کے نتیجے میں ڈینش بادشاہ کو ناروے سویڈن کے حوالے کرنا پڑا جو کہ جنگ میں برطانیہ کا حلیف تھا۔ اس طرح 1814 ء میں ناروے کی یونین ڈنمارک کی بجائے سویڈن کے ساتھ کردی گئی۔ اس یونین میں ناروے کو کچھ تبدیلیوں کے ساتھ اپنا آئین برقرار رکھنے کی اجازت دے دی گئی اور ناروے کو اپنے داخلی معاملات بھی چلانے کا اختیار حاصل تھا۔
قومی پارلیمنٹ کا قیام بھی 1814 ء کو ہی وجود میں آیا۔ خارجہ پالیسی سویڈن کے ہاتھ میں تھی اور دونوں ملکوں کا بادشاہ سویڈش تھا۔ اس بادشاہ کا نام کارل یوہان تھا۔ اوسلو کی مرکزی شاہراہ کا نام بھی اسی بادشاہ کے نام سے منسوب ہے۔ کافی عرصے تک یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا۔ 7 جون 1905 ء کو سویڈن کے بادشاہ کے ساتھ اختلافات کے بعد نارویجن پارلیمنٹ نے سویڈن کے ساتھ اپنی یونین کے اختتام کا اعلان کر دیا۔ اس پر زور دار ردِ عمل ہوا اور سویڈن اور ناروے کے درمیان جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔
اسی سال ناروے میں دو ریفرنڈم کروائے گئے جس کے نتیجے میں طے پایا کہ سویڈن کے ساتھ یونین ختم ہو چکی ہے اور ناروے کی نئی ریاست کا نظام حکومت بادشاہت ہو گا۔ سویڈش بادشاہ نے ان ریفرنڈموں کا نتیجہ قبول کر لیا۔ ڈنمارک کے شہزادہ کارل کو ناروے کا نیا بادشاہ منتخب کیا گیا۔ انہوں نے اپنے لیے نارویجن شاہی نام ہوکون اختیار کیا۔ شاہ ہوکون ہفتم 1905 ء سے 1912 ء میں اپنی وفات تک ناروے کے بادشاہ رہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں ناروے غیر جانبدار رہا لیکن جنگ عظیم کے دوران جرمن نازیوں نے اس پر قبضہ کر لیا لیکن جنگ کے اختتام پر نازیوں کو شکست کی وجہ سے ناروے کو بھی آزادی مل گئی۔
ناروے کے پاس پٹرولیم، قدرتی گیس، معدنیات، لکڑی، سمندری غذا اور تازہ پانی کے وسیع ذخائر ہیں۔ اس کی فی کس آمدنی دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس کے پاس دنیا کا سب سے بڑا دولت فنڈ ہے جس کی مالیت 1.3 ٹریلین امریکی ڈالر ہے۔ ناروے کے دارالحکومت کا نام اوسلو ہے جو اس کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔ اس میں موجود میوزیم ایک خاص شہرت کے حامل ہیں۔
میں جس وقت اوسلو ائر پورٹ پر اُترا دوپہر ہو رہی تھی میں ہوائی جہاز سے اُتر کر ایگزٹ کا پیچھا کرتے کرتے اچانک ہی بلڈنگ سے باہر کھڑا تھا۔ میرے سامنے وسیع و عریض پارکنگ موجود تھی لیکن یہاں افضل سعید موجود نہیں تھا۔ ذہن میں ایک بار پھر شکوک و شبہات کے سنپولیے رینگنے لگے کہ پتہ نہیں یہ اوسلو ہے بھی یا کسی اور ہی جگہ پر پہنچ گیا ہوں۔ اسی تذبذب میں فون ملایا آگے سے افضل سعید بول رہا تھا میں نے پوچھا آپ کہاں ہیں تو وہ بولا میں تو ائر پورٹ پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ نظر ہی نہیں آئے۔ آپ کہاں پر ہیں اور اب میں سوچ رہا تھا کہ اگر وہ اوسلو ائر پورٹ پر ہے تو پھر میں کون سے ائر پورٹ پر ہوں۔ بہرحال میں نے حواس بحال رکھتے ہوئے اُسے بتایا کہ میں اس وقت پارکنگ کے سامنے کھڑا ہوں۔ پانچ منٹ بعد وہ بھی میرے پاس پہنچ گئے۔ اس سے مل کر دوہری تہری خوشی ہوئی اور ہم لوگ اسی خوشی کی کیفیت میں ایک دوسرے کا حال احوال دریافت کرتے ہوئے گھر پہنچ گئے۔
یہ مین بازار میں ایک اپارٹمنٹ تھا اس نے وضاحت کی کہ ہم دونوں ہی یہاں پر رہیں گے۔ یہ اپارٹمنٹ دوسری منزل پر تھا جب کہ اس کی پہلی منزل پر ایک بہت بڑا سٹور تھا۔ جو ہفتے اتوار کے علاوہ باقی دن کھلا رہتا ہے۔ سارے یورپ میں ہی بازار اور مارکیٹیں صبح سویرے کھل جاتی ہیں اور شام چھ سات بجے غروب آفتاب کے ساتھ ہی بند کر دی جاتی ہیں۔ ہفتہ اتوار کو عمومی چھٹی ہوتی ہے۔ صرف ایک خاص چھوٹے سائز کی کھانے پینے والی دکانیں کھولنے کی اجازت ہے۔ ان لوگوں نے بھی یہاں پر جگاڑ لگا کر ویک اینڈ پر بھی سٹور کھولنے کا انتظام کر رکھا تھا۔ اتوار کو یہ لوگ سٹور کا مین گیٹ بند کر دیتے اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا دروازہ تھا وہ کھول لیتے اور اندر بھی سٹور کو پارٹیشن کی مدد سے چھوٹا کر دیا جاتا اور اس طرح وہ لوگ پورا ہفتہ ہی اسے کھلا رکھتے۔ ہم ڈیڑھ دو بجے یہاں پہنچے تھے۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ آرام کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ تھک تو نہیں گئے میں نے انہیں بتایا کہ میں بالکل ٹھیک ہوں تو ہم لوگ گھومنے پھرنے کے لیے باہر نکل آئے۔
یہاں پر لکسمبرگ کی نسبت ٹھنڈ زیادہ تھی۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ میں ایک ہفتہ یہاں ٹھہرا ہوں اور اس ایک ہفتے کے دوران تقریباً اسی فیصد وقت بارش ہی ہوتی رہی لیکن یہاں کی بارش بھی یہاں کے باسیوں کی طرح خاموشی سے ہی ہوتی رہتی ہے۔ میں نے ایک ہفتہ قیام کے دوران بارش کے ساتھ بادلوں کی گرج، چمک، بجلی کے کڑاکے اور بارش کے تیز چھڑاکے ایک بار بھی نہیں دیکھے۔ بلکہ دھیرے دھیرے رم جھم، رم جھم ہلکی ہلکی خاموش طبع سی بارش برستی رہتی۔
ویسے تو پورے یورپ میں ہی گاڑیوں کی پارکنگ بہت بڑا مسئلہ ہے اور مہنگی بھی ہے کم ازکم دو یورو فی گھنٹہ یعنی ایک گھنٹہ گاڑی کھڑی کرنے کے 600 روپے پاکستانی روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ لیکن ناروے میں تو یہ بہت بڑا مسئلہ ہے ہو سکتا ہے کہ جس جگہ پر آپ جانا چاہتے ہوں وہاں دو تین کلومیٹر کے ریڈیس میں آپ کو پارکنگ کے لیے جگہ ہی نہ ملے۔ جس جگہ ہماری رہائش تھی ہم نیچے سڑک پر گاڑی پارک کرتے۔ رات کو پارکنگ فری تھی صبح نو بجے سے پارکنگ کے چارجز شروع ہو جاتے اس کے باوجود صرف دو گھنٹے بعد یعنی گیارہ بجے تک گاڑی کو اس کی جگہ سے نکال لینا لازمی تھا۔ دوسری صورت میں سو یورو تک جرمانہ ہو سکتا تھا۔
چالان کرنے والے عملے کو بھی یہ لوگ غالباً تنخواہ کی بجائے اُن کے کیے ہوئے چالانوں کی رقم سے ہی کچھ حصہ اس مد میں ادا کرتے ہیں۔ اس لیے وہ لوگ اپنے فرائض منصبی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ ادھر کوئی بے قاعدگی ہوئی ادھر چالان کی چٹ آپ کی گاڑی کی ونڈ سکرین پر آ چپکی۔
اوسلو سمندر کے کنارے پر واقع ہے اور اس سمندر کی کم چوڑائی والی کئی شاخیں شہر کے اندر دور تک گھسی ہوئی ہیں۔ بقیہ یورپ میں ابھی خزاں کے اثرات اتنے نمایاں نہیں تھے لیکن یہاں پر خزاں اپنے پورے عروج پر تھی۔ پتوں کے گرنے کا عمل شروع تھا۔ بیشتر پودوں کے پتے زرد ہو چکے تھے۔ لیکن کچھ پودے ایسے بھی تھی جن کے پتے گہری سرخ اور جامنی رنگت بھی اختیار کیے ہوئے تھے اور پت جھڑ کے مراحل میں تھے۔
ہم لوگ گھر سے نکلے اور اظہر کے ریستوران آ بیٹھے۔ اظہر کا تعلق گجرات سے ہے اور یہاں پر ایک ریستوران چلاتا ہے۔ ویسے تو یہ ایک ٹیک اوے (Take away) ہے کہ کھانا یہاں سے لیں اور کھائیں گھر جا کر لیکن یہاں بھی دو تین میز رکھے ہوئے ہیں۔ بعض لوگ یہاں بیٹھ کر بھی کھانا کھا لیتے ہیں۔ اسی کے ایک طرف ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جو یہاں پر ڈیرے کے طور پر استعمال میں ہوتا ہے۔ ویسے اظہر کو بوریوالا میں ڈاکٹر ارشد کے ڈیرے پر حاضری کا شرف بھی حاصل ہو چکا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ وہاں سے کافی متاثر ہو کر یہاں آیا ہے۔ کیوں کہ اس ڈیرے کا رنگ ڈھنگ بھی ہمارے ڈیرے جیسا ہی ہے۔ ہم ابھی وہاں پر بیٹھے ہی تھے کہ کاشف بھی آ گیا۔ اس کے بعد عمران آ گیا ملک صاحب آ گئے اور گپ شپ شروع ہو گئی۔ اظہر کو جب کبھی موقع ملتا وہ بھی دروازہ کھول کر تھوڑی دیر کے لیے آ جاتا۔ رات گئے تک محفل جمی رہی۔ رات گئے یہیں پر ہی کھانا تیار کیا گیا اور کھانا کھا کر ہم لوگ واپس اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچ گئے۔



Very informative ,keep it up your good job