کیا مشرقی خواتین و مرد فینٹسی اور فیٹش کی اہمیت کو سمجھتے ہیں؟


جنسی گھٹن اور ذہنی حبس سماج میں مکروہات کے پھیلاؤ کا سبب بنتی ہے، جنس ایسے حساس موضوع کا اگر حقائق کی تہہ میں اتر کر جائزہ لینے کی کوشش کریں تو معلوم ہو گا کہ یہ فطرت کا ایک ایسا منہ زور جذبہ ہے جس کے ساتھ اگر فطری بنیادوں پر نہ نمٹا جائے تو خاصی ابنارملٹیز کو جنم دینے کا سبب بن جاتا ہے۔

انسانی جسم اس میں مرد یا خاتون کی کوئی تخصیص نہیں ہے، فطرت نے کچھ اعضائے مخصوصہ سے نوازا ہے جن کا بظاہر مقصد تو فرٹیلائزیشن ہی ہوتا ہے، لیکن یہ ایک پہلو ہے اس کے ساتھ کئی ایک تقاضے اور بھی ہوتے ہیں جنہیں بہرحال انسانوں کو ہی نبھانا پڑتا ہے۔

کشش، پیار و محبت، فلرٹ اور پیار بھری اٹکھیلیاں انسانی جذبات اور جسم کا جزو لاینفک یا اہم حصہ ہوتی ہیں جن سے مستفید ہونے بغیر گزارہ ناممکن ہوتا ہے۔

بوسہ، خود سپردگی، رومانوی تصورات کا ایک خوبصورت سا جہاں، پیار بھرے میٹھے بول کا تبادلہ اور نرم و نازک احساسات کی حرارت انسانی جسم کے اہم تقاضے ہوتے ہیں۔ فطرت کے یہ جذبات دنیا بھر میں ایک سے ہی ہوتے ہیں، کھلے سماج میں جہاں خواتین اور مرد کے درمیان جنس کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں ہوتی وہاں اس رشتے کی نوعیت خاصی مختلف ہوتی ہے۔

غیر روایتی اور سیکولر سماج میں خواتین کو بطور ”فرد“ شمار کیا جاتا ہے اور اپنی ذاتی حیثیت میں جیسے مرد اپنے فیصلے لینے میں آ زاد ہوتا ہے اسی طرح سے خواتین کو بھی یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اپنے حساب سے جیسے بھی جینا چاہیں جی سکتی ہیں۔ جہاں تک جنسی تقاضوں کی بات ہے، جیسے مرد اپنا پارٹنر چننے میں آ زاد ہوتا ہے، خاتون کو بھی یہ استحقاق حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنے وجود کو جسے بھی سونپنا چاہیے سونپ سکتی ہے۔

ظاہر ہے وہاں ڈیٹنگ کا تصور ہے، پارٹنرز کچھ روز ساتھ بسر کر کے ایک دوسرے کی ذمّہ داری اٹھاتے ہیں، ہماری طرح کا جبری سا بندوبست نہیں ہوتا۔ وہاں علیحدگی کو نارمل انسانی رویہ سمجھا جاتا ہے، وہاں رشتوں کی تازگی کو برقرار رکھا جاتا ہے، وہ خواہ مخواہ میں بے جان اور بے روح رشتوں کو زبردستی نہیں گھسیٹتے بلکہ پُرسکون ماحول میں علیحدگی اختیار کر لیتے ہیں اور ایسا اس طرح کے سماج میں ہی ممکن ہو پاتا ہے جہاں چوائسسز ہوتی ہیں۔

جبکہ بند سماج میں جبر کے رشتے ہوتے ہیں جس میں ”ولی“ والدین اور برادری کے بڑے بزرگ آتے ہیں کی رضامندی لازمی ہوتی ہے۔ جبر کے رشتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی سوائے دو بے حس انسانوں کے، جو بستر میں سرد مہری کے ساتھ اپنا جنسی فریضہ سر انجام دیتے ہیں، جن کے بطن سے بچوں کی لائن تو لگ سکتی ہے لیکن پیار برآمد نہیں ہو سکتا۔

جہاں مورل پولیس ایسا بندوبست ہوتا ہے وہاں پھر ردعمل کے طور پر خواتین برہنہ ہونے لگتی ہیں، جیسا کہ گزشتہ دنوں ایران کی ایک یونیورسٹی میں ہوا۔ ایک بچی احتجاجاً برہنہ ہو کر یونیورسٹی میں گھومتی رہی۔

انسانی رشتوں کی خوبصورتی نجی اور ازدواجی زندگی کو چار چاند لگا دیتی ہے، کتنے مرد اور خواتین کو شادی سے پہلے فینٹسی یا فیٹش کا پتا ہوتا ہے؟ انسان جنسی حوالوں سے اپنے خیالات کی دنیا میں مست ہو کر اپنے جیون ساتھی کے جسم سے ”فاونڈلنگ“ یعنی جنسی اٹکھیلیاں کرنے یا تسکینی پوائنٹ کے متعلق سوچتا ہے اسے عملی طور پر پرفارم کرنے کے عمل کو فینٹسی یا فیٹش کہتے ہیں۔

اب یہ سب تو ایک پُرسکون ماحول میں ہی ممکن ہو سکتا ہے، آئی، سی یو والے جبری ماحول میں یا جوائنٹ فیملی میں بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟ خاتون اور مرد کا ملاپ صرف بچے کی پیدائش کے لیے نہیں ہوتا، ان کی اپنی بھی ایک رومانوی زندگی ہوتی ہے جس کے لیے انہیں ایک پُرسکون ماحول کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب جہاں زن مریدی کے طعنے دیے جاتے ہوں وہاں کیا فینٹسی اور فیٹش اور کیا فور پلے یا آ فٹر پلے؟

ہمارے ہاں رشتوں کی بے قدری کی جاتی ہے اور گھر میں آ نے والی بہو کو بیٹی کی بجائے ایک ملازمہ کے روپ میں دیکھا جاتا ہے، جس کی ذمّہ داری اپنے جیون ساتھی کی امنگوں کا خیال رکھنے کی بجائے دولہا کے سارے گھر بار کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔

 

Facebook Comments HS